بیویوں سے حسن سلوک کا ایک عنوان جدید

بیویوں سے حسن سلوک کا ایک عنوان جدید

🌟 *مفتی شبیر احمد حنفی*
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
🌸 *دلائل کیلئے*
*احناف میڈیا سروس ٹیلی گرام گروپ*
https://t.me/shaikh_muhammad_alqama

🌷 *آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸
🌼 اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیویوں سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ خاوند اگر اس حکم پر عمل پیرا ہو تو اس کی زندگی بھی خوش و خرم گزرے گی اور باری تعالیٰ کا حکم بھی پورا ہو جائے گا۔

🛡 اس مضمون کو عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم نے اپنے عالی ذوق کے مطابق نہایت عمدگی سے سمجھایا ہے۔ افادہ کی غرض سے ہدیہ قارئین ہے۔

🌷عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا:
’’رات جنوبی افریقہ سے ایک میاں بیوی کا فون آیا کہ ہم دونوں میں شدید اختلاف ہے۔ بیوی نے کہا کہ جب میرا شوہر گھر آتا ہے تو میں بجائے خوشی کے خوف سے کانپنے لگتی ہوں کہ جیسے کوئی جلاَّد آرہاہے۔ اللہ تعالیٰ نے میری زبان سے ایسا مضمون بیان کرادیا جس سے دونوں شیر وشکر ہوگئے۔ میں نے اس کے شوہر سے کہا کہ اپنی بیوی سے محبت کرو اور عشقِ لیلیٰ سے نورِ عشقِ مولی حاصل کرو، کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ، یہ معروف بہت بڑا معروف ہے اس میں بیویوں کی خطاؤں کو معاف کرنا بھی داخل ہے، ان کے ٹیڑھے پن کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے گزارا کرنا بھی اسی میں داخل ہے کیونکہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت
*[وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ الایۃ سورۃ النساء:19]*
کی گویا تفسیر فرمائی کہ *’’اَلْمَرْاَۃُ کَالضِّلَعِ ‘‘* عورت مثل ٹیڑھی پسلی کے ہے، *’’إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا ‘‘* اگر پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو ٹوٹ جائے گی،
 *’’وَإِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ‘‘*
[صحیح البخاری: 5184]

اور اگر اس سے گزارا کرنا چاہو گے تو ٹیڑھی پسلی سے گزارا ہورہاہے یا نہیں؟ کوئی ہسپتال میں داخل ہوکر اپنی پسلی سیدھی نہیں کراتا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ عورت کے ٹیڑھے پن کی، ٹیڑھی بات کی اصلاح کی کوشش مت کرو،ایسے ہی گزارا کرلو اور بیوی کو لیلیٰ سمجھو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیویوں سے تم کو تین نعمتیں ملیں گی:

*[1]لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا۔* تم کو اس سے سکون ملے گااور

*[2]مَوَدَّةً۔* یعنی محبت ملے گی

*[3]وَرَحْمَةً* اور رحمت ملے گی۔
یہ تین نعمتیں تم پاؤ گے۔

🌸 ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ میری بیٹی کے مزاج میں غصہ بہت ہے، آپ اس کے لیے دعا کردیجیے ورنہ جب بیاہ کی جائے گی تو شوہر کے جوتے کھائے گی۔ میں نے کہا کہ دیکھو: باپ کو کتنی فکر ہے؟! اللہ تعالیٰ کو بھی اپنی بندیوں کا کتنا خیال ہے جب ہی تو یہ آیت نازل کی کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ [سورۃ النساء:19] یہ صرف تمہاری بیبیاں نہیں ہیں ہماری بندیاں بھی ہیں۔
اپنی لیلیٰ سے محبت کرنا تو عین تمھاری فطرت ہے لیکن مولیٰ کا کرم دیکھو کہ تم عشقِ لیلیٰ کرو ہم اس کو عشق مولیٰ تسلیم کریں گے کیونکہ تم نے ہمارے حکم ’’عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ‘‘ پر عمل کیا اور اپنی بیوی کو بھلائی سے رکھا تو یہ کتنا بڑا کرم ہے کہ وہ مولیٰ عشق لیلیٰ کو عشق مولیٰ تسلیم کررہاہے۔ کتنا کریم مولیٰ ہے! لہذا اپنی بیویوں سے محبت کرکے، انکی خطاؤں کو معاف کرکے ،ان کی ٹیڑھی ٹیڑھی باتوں کو سن کرکے ان کے ناز اٹھا لو تو گویا آپ نے عشق لیلیٰ سے عشق مولیٰ حاصل کرلیا، کیونکہ بیوی کے ساتھ محبت سے پیش آئے تو بیوی بھی خوش ہوئی اور اللہ بھی خوش ہوگیا ،لہذا کتنا بڑا انعام ہے کہ عشق لیلیٰ بھی ملا اور عشق مولیٰ بھی ملا۔‘‘
[مواہب ربانیہ ص443تا445]
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس*✍+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات