ترک تقلید ایک جائزہ مع غیرمقلدین کی رہی سہی سمجھداری کے نام ایک پیغام
ترک تقلید ایک جائزہ مع غیرمقلدین کی رہی سہی سمجھداری کے نام ایک پیغام 🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸 ✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے 🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس* https://t.me/ahnaf_media_services ✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس* https://m.facebook.com/groups/1716465685282735 ❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل* https://t.me/amsindia ◼◼◼◼◼◼◼◼◼ ●عامی (جو علم میں راسخ نہ ہو) کے لئے حنفیت و شافعیت وغیرہ کا اختیار کرنا ناگزیر ہے حنفیت و شافعیت وغیرہ کو چھوڑنے کی صورت"اجتہاد" کی صلاحیت کا پیدا کرلینا ہے اور مجتہد بن جانے کے بعد صرف تقلید ہی سے چھٹکارا نہیں ملے گا بلکہ اختلاف اوربڑھ جائے گا شذوذ و تفرد اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوگا،نہ کہ کمی فروعی مسائل کو اختلاف کی بنیاد سمجھنے والے کم فہم غیر مقلدو۔۔۔۔۔ سن لو ۔۔۔۔۔کہ ہر ایک کو اجتہاد کا اختیار دینے کی صورت میں خود اجتہاد کی بنیاد پر اختلاف بڑھے گا نہ کہ مٹے گا اس لئے اگر آپ کو اتحاد محمود اور اختلاف نا پسند ہے تو غیر مقلدیت ترک کرکے صحابہ کے اجماع سے مجتمع ہوکر فروعی مسائل میں اہل کی نگرانی میں دین پر عمل پیرا ...