part 3* تقلید کی ضرورت و اہمیت

🔴 *part 3*
تقلید کی ضرورت و اہمیت
🌟 *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
🌹 *فقہ کے مخالفین کے لیے چیلنج*
ایک ہے مفتیٰ بہ اور ایک ہے غیر مفتیٰ بہ۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا چیلنج ہے پوری دنیا سے، ایسا فقہ حنفی کا مسئلہ پیش کرو جس پر فتویٰ ہو اور عمل ہو اور وہ قرآن وحدیث کے خلاف ہو۔ شاذ قول نہ ہو، مفتیٰ بہ قول لاؤ۔ غیر مقلد اعتراض کرے گا مفتیٰ بہ قول پیش نہیں کرے گا، بلکہ غیر مفتیٰ بہ قول پیش کرے گا۔ ایک مفتیٰ بہ قول ہے اور ایک کیا ہے؟ غیر مفتیٰ بہ قول۔ تو ایسے مسائل اجتہادیہ میں غیر مجتہد کا ایسے مجتہد کے مفتیٰ بہ قول کو بلا مطالبہ دلیل مانناکیا ؟ بلا دلیل نہیں بلکہ بلا مطالبہ دلیل۔

غیر مقلد کہتا ہے کہ تقلید کامعنیٰ ہوتا ہے

*اتباع الانسان غیرہ بلا دلیل*

یہ معنیٰ اس نے غلط کیا ہے وہ کہتا ہے کہ تقلید کا معنیٰ ہوتاہے بلا دلیل بات ماننا یہ تقلید ہے۔ ہم نے کہا کہ تقلید کامعنیٰ ہوتا ہے کسی کی بات کو بلا مطالبہ دلیل ماننا۔ اورکسی کی بات کو بلامطالبہ دلیل ماننا یہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں چلتا تھا۔ وہ مسئلہ پوچھتے تھے، لیکن دلیل نہیں پو چھتے تھے مصنف عبدالرزاق میں دیکھیں، مصنف ابن ابی شیبہ میں دیکھیں، ہزاروں فتاویٰ ایسے ملیں گے کہ جس میں صحابی فتویٰ دیتا ہے، اس پر دلیل پیش نہیں کرتا بغیر دلیل کے مسئلہ بتاتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس دلیل ہوتی نہیں، دلیل ہو تی تھی مگر اس سے دلیل مانگتے نہیں تھے۔

🌹 *صحابہ کی تقلید کیوں نہیں؟*

تو بلا مطالبہ دلیل ایسے مجتہد کی بات ماننا جس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو۔ آگے یہ ہے کہ اس کامذہب مدوّن ہو کر اصولاً وفروعاً مقلد کے پاس تواتر کے ساتھ پہنچا ہو۔ یہ بات اس لیے ہم کہتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ تقلید کرنی ہے تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بجائے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کر لو، عمر رضی اللہ عنہ کی کر لو، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کر لو، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کر لو، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کر لو، حضر ت حسن رضی اللہ عنہ کی کر لو یا آپ تقلید عبد اللہ بن مسعود کی کر لو،اتنے بڑے بڑے فقہاء صحابہ موجود تھے، آپ ان کی بجائے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کیوں کرتے ہو؟

🏵 ہم نے کہا کہ تقلید اس کی کرتے ہیں جس کے مذہب کے اصول اور فروع مدوّن ہوں۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے اصول وفروع کہاں لکھے ہیں؟ ہمیں بتاؤ کوئی کتاب ہی نہیں ہے، صحابہ میں سے کسی ایک صحابی کی کتاب بتاؤ کہ جس نے اصول بھی نکالے ہوں اور اس کے بعد فروع نکالے ہوں اور لکھوا کر امت کے حوالے کر دیے ہوں، کسی کا نام بتائیں۔ اس امت میں سب سے پہلا شخص کہ جس نے اصول نکالے اور ان اصولوں سے مسائل نکا لے اور پھر ان سب کو تحریر بھی کروایا وہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں۔اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اس کا مذہب اصولاً وفروعاً مدوّن ہو کر مقلد کے پاس پہنچا ہو۔

🌹 *غیر مقلدین کا ایک اور حربہ*

ایک جملہ ذہن میں رکھیں ہم نے مذہب کہا۔ لفظ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ آپ ہدایہ پڑھیں، اس میں لکھا ہوتا ہے

*ھذا مذہب ابی حنیفہ رحمۃاللہ علیہ*

یہ مذہب کا لفظ فقہاء کیوں استعمال کرتے ہیں؟ غیر مقلد اس لفظ سے بہت بڑا دھوکہ دیتے ہیں، کہ ایک غیر مقلد کھڑا ہوگا اور ایک ہمارا نوجوان کھڑا ہوگا، دونوں کھڑے ہوں گے اور غیر مقلد اس نوجوان کو لے کر کسی ان پڑھ دوکاندار کے پاس جائے گا، تاجر کے پاس جائے گا۔تاجر پڑھا لکھا تو ہے لیکن اس کے پاس دین کے علوم نہیں ہیں، وہ کہے گا میں کہتاہوں، میرا مذہب محمدی ہے۔ یہ لڑکا کہتا ہے میرا مذہب حنفی ہے تو چاچا جی، ماما جی آپ بتائیں، دادا ابو آپ بتائیں کس کی بات زیادہ ٹھیک ہے؟ تو بابا جی محمدی کہیں گے۔ میں کہتاہوں میرا مذہب محمدی ہے اور یہ کہتا ہے میرا مذہب حنفی ہے تو بزرگو آپ بتائیں، کس کا مذہب بہتر ہے؟

💎 وہ کہے گا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تو کوئی نہیں ہو سکتا۔ میں کہتا ہوں کلمہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑھا ہے تو مذہب محمد ی ہونا چاہیے۔ یہ کہتا ہے کہ نہیں کلمہ حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑھا ہے اور مذہب حنفی ہونا چاہیے۔ میں کہتا ہوں جس کا کلمہ ہے اس کا مذہب ہو، اور یہ کلمہ نبی کا پڑھتا ہے اور مذہب ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا لیتا ہے، اب اس کا جواب بنتا نہیں ہے تو کہیں گے کہ بزرگوں نے منع کیاہے۔ یہ نہیں کہےگا کہ مجھے آتا نہیں۔

🌹 *اعتدال کو ہاتھ سے نہ جانے دیں* 🌹

ہمارے ہاں بندہ کام کرتا ہی نہیں ہے، جب کرے تو پھر آؤٹ آف کنٹرول ہوتا ہے۔ وہ غیروں کو نہیں اپنوں کو بھی رگڑتا ہے۔ اس کے لیے میں ایک لفظ استعمال کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں جو نرم ہیں وہ غیروں کے لیے بھی نرم ہیں اور جو گرم ہیں وہ اپنوں کے لیے بھی گرم ہیں۔ امت میں اعتدال نہیں ہے کہ غیروں کے لیے گرم ہوں اور اپنوں کے لیے نرم ہوں۔ اس طرح چلیں تو بزرگ بھی منع نہیں کرتے۔ میں بات سمجھانے لگا تھا، تو بتائیں کہ میرا مذہب محمدی ہے اور اس کا مذہب حنفی ہے۔ میں کہتاہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے تو محمدی کہو۔ یہ کہتا ہے کہ کلمہ نبی کا پڑھا ہے۔ مذہب میں نے حنفی رکھنا ہے۔ تو بابا جی بتائیں فیصلہ کس کے حق میں دیں گے؟ تو وہ محمدی والے کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ کیوں کہ اس نے دلیل بڑی پیاری دی ہے۔ حالانکہ دلیل نہیں ہے۔ ڈھکوسلہ مارا ہے۔ جس کا جواب نہیں بن سکتا ہے اس پر میں مثال دے کر سمجھاتاہوں۔ دلیل اور ہوتی ہے اور ڈھکوسلہ اور ہوتا ہے۔ ڈھکو سلہ کسے کہتے ہیں؟

🌹 *دلیل اور ڈھکوسلہ*

ہمارے ہاں ایک شہر ہے گوجرانوالہ، وہاں تانگے گھوڑے بہت ہوتے ہیں۔ ایک بوڑھا کوچوان تانگے پر جارہا تھا، سواریاں بٹھائی ہوتی ہیں، تو اچانک پیچھے سے ایک لڑکا جوبائیک پر بیٹھا ہے۔ ایف،ایس، سی کا اسٹوڈنٹ ہے۔ اچانک باباجی نے دائیں طرف تانگہ موڑا، اس لڑکے نے بڑی مشکل سے بریک مار کر موٹر سائیکل کو روکا، ایکسیڈنٹ ہونے لگا تو لڑکے نے غصے میں آکر باباجی سے کہا، باباجی! تساں سجے پاسے مڑنا سی، تے ہتھ دا اشارہ تے دیندے ہر آدمی کی اپنی مرضی ہوتی ہے، ہماری اپنی مرضی ہے اور آپ کی اپنی مرضی ہے۔ اس نے پنجابی میں یہ کہا،معنیٰ یہ کہ اگر آپ نے دائیں طرف مڑنا تھا تو دائیں طرف ہاتھ کا اشارہ دے دیتے۔ اتنی مشکل سے میں نے موٹر سائیکل روکا ہے۔ باباجی نے فوراً کہا: او پتر! تینوں تیرہ گزدا لمبا بانس نہیں دِسیا، تینو ں دو فٹ لمبا ہاتھ دس پیناسی؟ کہ تجھے تیرہ گز لمبا بانس نظر نہیں آیا تو دو فٹ کا ہاتھ نظر آجانا تھا؟ تو مجھے کالج سے اٹھ کر سمجھانے کے لیے آیا ہے،اب لڑکے کے پاس کوئی جواب نہیں۔

یہ باباجی نے کوئی دلیل دی ہے؟ نہیں بلکہ ڈھکوسلہ مارا ہے۔ اب بتاؤ کہ ڈھکوسلے کا جواب شیخ الحدیث کیسے دے؟ ڈھکوسلے کا جواب بزرگ کیسے دے؟ ڈھکوسلے کے جواب کے لیے تو فن والا بندہ چاہیے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ ڈھکوسلہ کہاں سے اٹھا ہے؟ وہ کالج کا لڑکا تھا، ہم جیسا دیوبندی مدرسے کا کوئی درویش ہوتا، تو ہم اس کے ڈھکوسلے کو بھی صاف کرتے۔ ہم جیسا بندہ ہوتا تو ہم نے فوراً کہناتھا کہ بابا اصل میں تو تیرہ گز لمبے بانس نے مڑنا تھا، یہ دو فٹ کا ہاتھ لگاتے ہیں، یہ بتانے کےلیے کہ موٹر سائیکل سنبھال لو، میرا یہ تیرہ گز کا بانس مڑ نے والا ہے تھوڑی دیر بعد۔

🌹 *مذہب اور منزل*

اب جواب سمجھو! ایک ہوتا ہے ”مذہب“ اور ایک ہوتی ہے”منزل“۔ پہنچنے کی جگہ کو منزل کہتے ہیں اور پہنچنے کی جگہ کے راستے کو مذہب کہتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری منزل ہیں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہمارا راستہ ہیں۔ منزل ہماری مدینہ ہے اور راستہ ہمارا کوفہ ہے مذہب ہمارا حنفی ہے، منزل ہماری محمدی ہے، اب بتاؤ! باباجی کو بات سمجھ آئے گی یا نہیں؟ اب بتاؤ ہمارا مذہب کیا ہے؟ حنفی یا محمدی؟ حنفی ہے اس میں شرم کی بات تھوڑی ہے؟ کیوں جھجکتے ہیں؟ جھجکتے اس لیے ہیں کہ پورا مسئلہ کھلا نہیں ہوتا۔

🌹 *کون با ادب، کون بے ادب؟*
ہمارا مذہب حنفی ہے، ہماری منز ل محمدی ہے، ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا مذہب محمدی ہے تو بتا کہ تیری منزل کو نسی ہے؟ تو بالائی منزل ہے، تیری منزل ہی نہیں ہے، ہمارے پاس راستہ بھی ہے، ہمارے پاس منزل بھی ہے، دونوں چیزیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ میں نے کہا اس لیے کہ ہم با ادب ہیں، تم بے ادب ہو۔ کہتا ہے جی کیا مطلب؟ جو ڈائریکٹ مدینہ جائے، وہ بے ادب ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہاں جو ڈائریکٹ مدینہ جائے تو بے ادب ہوتاہے اور جو بائے کوفہ جائے تو با ادب ہوتا ہے۔ کہتا ہے جی کیسے؟ میں نے کہا میں حدیث سے ثابت کروں گا۔ کامل ابن عدی میں لکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

*انا مدينة العلم وعليّ بابها*
(الکامل لابن عدی، جلد نمبر1 صفحہ نمبر190)

🛡 میں محمد علم کا شہر ہوں اور علی شہر ِعلم کا دروازہ ہے۔ اگر کوئی بندہ مسجد میں صف اول میں نماز پڑھے اور دروازہ کراس کر کے جائے، وہ با ادب نمازی ہے، دروازہ کراس کیے بغیر کھڑکی پهلانگ کر جائے تو وہ بے ادب نمازی ہے۔ حضرت علی شہرِعلم کا دروازہ ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہر علم ہیں۔ شہر ِعلم مدینہ میں ہے، اور دروازہ کوفہ میں ہے، دروازے سے گزر کر جائیں گے تو با ادب ہیں۔ دروازے کے بغیر جائیں گے تو بے ادب ہیں۔ میں نے کہا ہم با ادب ہیں، تم بے ادب ہو۔ تم ڈائریکٹ جاتے ہو۔ ہم کوفہ سے ہوکر جاتے ہیں۔ اور یہ میری دلیلیں نہیں ہیں۔ وہ دلیلیں ہیں جو شیخ الحدیث صاحب بخاری کے مقدمے میں پیش کرتے ہیں، لیکن فن نہیں ہے ناں اس لیےاس کی طرف ہماری تو جہ نہیں جاتی۔

🌹 *امام بخاری کہاں کے فیض یافتہ ہیں؟*

فتح الباری علامہ ابن حجر عسقلانی کی کتاب ہے۔ اس کا مقدمہ ھدیۃ الساری ہے۔ اس میں امام بخاری کا قول پیش کیا ہے کہ میں پڑھنے کے لیے کہاں کہاں گیا تھا۔ آپ نے سنا ہے۔ جو دورہ حدیث کے طلبا ہیں، ان کو بھی پتا ہے، شاید بھول گئے ہوں گے، لیکن لکھا ہوتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہاں کہاں گئے ہیں۔ اپنا سفر بیان کیا ہے کہ میں کہاں کہا ں گیا؟

*قال البخاري دخلت إلى الشام ومصر والجزيرة مرتين وإلى البصرة أربع مرات وأقمت بالحجاز ستة أعوام*

🔮 اپنا سفر بتاتے ہوئے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں جزیرہ دو بار گیا ہوں، بصرہ اربعۃ مرات چار بار گیا ہوں حجاز میں ستة أعوام چھ سال رہا ہوں اور جب کوفہ کی باری آئی تو فرمایا۔ لا أحصي كم دخلت إلى الكوفة لیکن میں کوفہ کتنی بار گیا مجھے یاد ہی نہیں۔
(فتح الباري شرح صحيح البخاري، جلد نمبر1 صفحہ نمبر478)

💐 یہ کیوں کہا کہ یاد نہیں؟ وجہ یہ ہے کہ آپ کا مدرسہ ہے، مجھے سارے مدرسوں کا نام نہیں آتا، ایک دو کا ہی آئے گا سب کا نہیں آئے گا۔ مثلاً دارالعلوم ہے طالب علم سے پوچھو کہ آپ نے دارالعلوم میں کتنے سال پڑھا؟ کہتا ہے 10سال پوچھو کہ دارالعلوم کے دروازے سے کتنی بار اندر گیا؟ کہتا ہے مجھے یاد ہی نہیں کیوں؟ منزل اس کو یاد ہے کہ کتنا عرصہ ٹھہرا مگر دروازے سے گزرنا یاد نہیں، اس کا مطلب کہ امام بخاری رحمہ اللہ حجاز کو منزل کہتے ہیں، کوفے کو دروازہ کہتے ہیں، منزل کا رہنا یاد ہے، کوفہ سے گزرنا یاد نہیں ہے۔ یہ اس لیے کہ منزل میں تو رہنا یاد ہوتا ہے اور دروازے سے گزرنا بندے کو یاد ہوتا ہی نہیں۔

جو ہمارا ذوق ہے وہی امام بخاری رحمہ اللہ کا ذوق ہے۔ میرا مستقل اس پر بیان ہے آپ کا ختم بخاری ہو تو اس پر مجھے بلائیں، ٹکٹ میں خود خرچ کرلوں گا،اس کی آپ فکر نہ کریں، مذاق نہیں ہے، اللہ کا شکر ہے، کرم ہے ایسے ساتھی ہیں جو ٹکٹ کا بندوبست کرلیتے ہیں، میں نے کون سا کما کر کرنا ہوتا ہے۔ یہ نہیں تو اور کوئی دے گا۔ کبھی ختم بخاری کا جلسہ ہو پھر مجھے بلائیں۔ صحیح بخاری پر میرا بیان سنیں، آپ دیکھنا وجد میں نہ آئیں تو پھر کہنا، اللہ گواہ ہے، پھر بخاری پر تقریر سنیں، پھر بخاری کو ہم حنفی کیسے بناتے ہیں، یہ فن ہے، آپ دیکھیں تو سہی۔

✅ ہمارے ہاں المیہ ہے جب تک آدمی کسی بہت بڑے مدرسے کا شیخ الحدیث نہ ہو تو پھر آپ اس کو مانتے نہیں ہیں۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کس بڑے مدرسے کے شیخ الحدیث تھے؟ چھوٹے سے دیہات میں تھے۔ میں وہ نہیں ہوں میں تو مثالیں دے رہاہوں، ہم اپنے اکابر کی جوتیاں سیدھی کرتے ہیں، خدا گواہ ہے آپ ختم بخاری پر مجھے بلائیں، پھر آپ مزے دیکھیں۔ آپ برما کے علماء جمع کریں اور مجھے بخاری پر بولنے دیں۔ انشاء اللہ آپ کو لطف آئے گا کہ صحیح بخاری اور حنفیت کہتے کسے ہیں؟ بخاری احناف کے خلاف نہیں ہے۔

بندے کا اپنے مسائل پر تو شرح صدر ہونا چاہیے ناں! پھر بندہ کھل کر بات کرتا ہے۔ میں بتا یہ رہا تھا کہ مجتہد کا مذہب اصولاً وفروعاً مدوّن ہو کر مقلد کے پاس تواتر کے ساتھ پہنچا ہو۔ غیر مقلد سوال کرتے ہیں اور آپ کے ماحول میں تو ابھی پیدا نہیں ہوئے پیدا ہونے سے پہلے محنت کرو، تو پیدا نہیں ہوں گے یہ میری بات یاد رکھنا، پیدا ہونے سے پہلے محنت کرو، پیدا ہی نہیں ہوگا۔ ہمارے حضرات اس لیے نہیں کرتے کہ فتنہ دبا ہوا ہے تم شروع کرو گے تو اٹھ جائے گا۔ یہ ایک ذوق ہے حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔

🌹 *فتنہ اٹھنے سے پہلے اس کا سد باب کریں*

میرا ایک مرتبہ پشاور حیات آباد میں بیان تھا۔ بیس تراویح پر، میں نے بیان کردیا، جب میں نے بیس تراویح کے دلائل دیے تو بعد میں خان صاحب آئے، ماشاءاللہ پڑھے لکھے آدمی تھے۔ مجھے کہتاہے مولانا صاحب! ایک سوال ہے، میں نے کہا فرمائیں۔ کہنے لگا ہمارے حیات آباد میں کوئی بھی بندہ ایسا نہیں جو آٹھ رکعات تراویح پڑھتا ہو، سب بیس پڑھتے ہیں آپ کو آٹھ کی تردید کی کیا ضرورت پڑی ہے؟ آپ نے یہ مسئلہ یہاں کیوں بیان کیا؟ سوال بڑا معقول تھا، میری عادت ہے کہ معقول سوال پر شاباش دیتا ہوں، ڈانٹتا نہیں ہوں، کیونکہ سوال معقول ہے۔

💟 میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے یہاں یہ جو حیات آباد میں کچھ ایسے مریض بھی ہیں جو پولیو کے ہوں۔ کہتا ہے نہیں۔ میں نے کہا اگر حکومت بھیجے کہ انجکشن میں یہ قطرہ ہے اور پلاؤ تو آپ پلادیتے ہیں۔ کہتاہے جی ہاں۔ میں نے کہا جب مریض ہی نہیں تو کیوں پلایا، کہتا ہے وہ حفاظتی انجکشن ہے۔ میں نے کہا یہ بھی حفاظتی بیان ہے، یہ دو چار بیان کراؤ گے تو آٹھ والے پیدا نہیں ہوں گے، اور جب پیدا ہوجائیں گے پھر آپ نے کہنا ہے کہ مولانا صاحب کو بلاؤ۔ پھر میں نے کہنا ہے کہ وقت نہیں ہے، ٹائم نہیں ہے، پھر تم نے کہنا ہے نخرے کرتا ہے۔ میں آتا ہوں، آپ کہتے ہیں فتنہ نہیں ہے، جب آپ بلائیں گے تو میں نے کہنا ہے ٹائم نہیں ہے، پھر لڑائی شروع ہو جائے گی۔ قبل از وقت فتنے کا تدارک ہونا چاہے۔

🌹 *حفاظتی بیان*

ہمارے ہاں، آپ کو پتا ہی ہے پنجاب میں ڈینگی بخار بہت زیادہ چلا ہے، مچھر آتا ہے اور بندے کو مار کے رکھ دیتا ہے۔ اب وہ لاہور میں تھا مگر ہمارے شہر سرگودھا میں بھی انہوں نے چھڑکاؤ شروع کردیا، چھڑکاؤ صبح شام ہورہا ہے، مجھے موقع مل گیا، میرا درس قرآن تھا، سرگودھا میں تو میں نے پوچھا کہ بھئی یہاں ڈینگی بخار ہے؟ کہا نہیں، میں نے کہا پھر چھڑکاؤ کس لیے ہے؟ کہتاہے تاکہ مچھر ادھر نہ آ جائے، میں نے کہا، جب میں بیان کرتا ہوں کہ مچھر آ نہ جائے، پھرکہتے ہو، مچھر تھا نہیں تو نے بیان کیوں کیا؟  حفاطتی ٹیکے لگانا عقلمند آدمی کا کام ہے۔ حفاظتی بیانات کرانا اپنے بچوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے ہے۔ اب دیکھو ہماری تقریر کوئی جذباتی نہیں ہے، کوئی فتوے والی نہیں ہے ملکی حالات خراب نہیں ہوتے۔ جو لوگ یہ بات سنتے رہیں گے تو ان کے پتے کبھی نہیں جھڑیں گے۔

🌹 *فقہ حنفی پر اعتراض اور جواب*

غیر مقلد یہ کہتے ہیں کہ ہم فقہ حنفی قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، ہماری ایک شرط ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ تم اپنے مسائل فقہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے سند کے ساتھ ثابت کرو ہم فقہ حنفی قبول کرکے مقلد ہوجائیں گے۔ یہ ہمارا چیلنج ہے۔ اب اس چیلنج کو کسی عالم نے قبول نہیں کرنا اس لیے کہ ایک ایک مسئلہ تو سند سے ثابت نہیں ہے، ھدایہ کے شروع میں توسند نہیں ہے ناں!

📌 قدوری کے شروع میں سند نہیں ہے، کنز کے شروع میں سند نہیں ہے۔ تو سند سے ہم کیسے ثابت کریں گے؟ میرا ایک بیان تھا۔ اس میں غیر مقلد کی چٹ آئی یہی سوال کیا، کہ فقہ حنفی کے مسائل کو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے سند کے ساتھ ثابت کردو، ہم حنفی ہونے کے لیے تیار ہیں، میں نے کہا اگر کوئی عیسائی آپ کو اس طرح چٹ لکھے کہ تم قرآن مجید کی تمام آیات الحمد سے لے کر والناس تک سند کے ساتھ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کردو، میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کے لیے تیار ہوں کیا جواب دو گے؟

🏮 مجھے کہتا ہے کہ ہم سند کیوں پیش کریں گے؟ میں نے کہا: وجہ؟ کہتا ہے قرآن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور جو بات تواتر سے ثابت ہو وہاں سندکی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں نے کہا جس طرح وہاں سند کی ضرورت نہیں ہے، یہاں بھی سند کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ فقہ کا ثبوت تواتر سے ہے۔ اب آپ تقلید کا معنیٰ سمجھ گئے؟ مسائل اجتہادیہ میں غیر مجتہد کا ایسے مجتہد کے مفتیٰ بہ مسائل کو بلا مطالبۂ دلیل مان لینا جس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو اور اس کا مذہب اصولاً و فروعاً مدوّن ہوکر مقلد کے پاس تواتر کے ساتھ پہنچا ہو۔ یہ تقلید ہے۔ اگر تقلید شرک ہے تو پھر اس پر کوئی دلیل پیش کردو۔ تو جس بندے کو تقلید کا معنیٰ ہی نہیں آتا وہ تقلید پہ ہم سے بات کیسے کرے گا؟

☸ ستمبر میں میرا بحرین کا سفر تھا، ایک ساتھی مجھے کہنے لگاکہ ان کا لڑکا غیر مقلد ہو گیاہے۔ میری عادت ہے کہ میں کسی غیر مقلد سے بحث نہیں کرتا، شروع میں کرتا تھا اب نہیں کرتا، ہمارا جماعتی فیصلہ ہے۔ میں یہاں آیا ہوں، آپ غیر مقلد لائیں گے تو میں بات نہیں کروں گا، آپ کہیں گے کیوں نہیں کرتے؟ تو میں کہوں گا کہ اس کو دس دن کے لیے میرے پاس بھیج دو یہ واپس آکر بتائےگا کہ میں کیوں بات نہیں کرتا۔ اس کی بہت سی وجہیں ہیں، اب بات کرنا چھوڑدی اس لیے کہ اس پر بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً یہاں آپ کے پاس آیا ہوں، میں کہتا ہوں کوئی سوال ہے تو چٹ لکھیں، میں جواب دوں گا،دل کرے تو مان لو، اگر دل نہیں کرتا تو نہ مانو۔ کوئی منع تو نہیں کرتا۔

❇ اب ایک بندہ چِٹ نہیں لکھتا، کھڑے ہو کر سوال کرتا ہے میں جواب دیتا ہوں، پھر کھڑا ہوتا ہے پھر جواب دیتا ہوں، پھر کھڑا ہوتا ہے پھر جواب دیتا ہوں۔ پھر بدتمیزی کرتا ہے ادھر سے میراعقیدت مند اس کو روکے گا کہ لڑائی ہوجائے گی، اب بعد میں لوگ کہیں گے مولانا الیاس گھمن کو نہ بلاؤ کیونکہ اس کے آنے سے لڑائی ہوتی ہے۔ حالانکہ لڑائی میرے آنے سے نہیں بلکہ لڑائی کھڑے ہو کر سوال کرنے سے ہوتی ہے۔ کھڑے ہو کر سوال کرنے سے روک دو، تو لڑائی بالکل نہیں ہوگی اور جب کھڑے ہو کر سوال ہوں گے تو لڑائی ہوجائے گی اس لیے غیر مقلد سے بات بند کردی۔

🌹 *ایک غیر مقلد کا سوال*

خیر میں بحرین میں گیا تو غیر مقلد لڑکا تھا فوراً سوال کیا کہ مولا نا صاحب تقلید کرنی چاہیے؟ آپ سے پوچھے تو فوراً نہ کہنا، ہاں کرنی چاہیے، فوراً نہ کہنا بلکہ اس کا علم دیکھ لیں کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے، خیر میں نے کہا آپ کا کیا خیال ہے کہتاہے میرا خیال ہےکہ نہیں کرنی چاہیے۔ ہماری جان چھوٹ گئی، میں نے وجہ پوچھی کہ تقلید میں کیا خامی ہے؟ اب مجھے کہتا ہے کہ تقلید کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی بندے کی بات کو بلا دلیل ماننا، ہم کیوں تقلید کریں؟

✳ میں نے کہا ایک بات بتاؤ، جو آپ نے تقلید کامعنیٰ کیا ہے، اس پر کیا دلیل ہے؟ ان کے شہر میں غیر مقلد تھے، ان کا نام لے کر کہا ہے، فلاں شیخ نے کہا، میں نے کہا ان سے دلیل پوچھی ہے؟ کہنے لگا نہیں، میں نے کہا اسی کا نام تقلیدچہے، تو نے خود تقلید کا معنیٰ بلا دلیل مانا ہے، خود تقلید کرتے بھی ہو، کم ازکم تو ہمیں مشورہ نہ دیتا، سوچ کر جواب دینا کل تک مہلت ہے، پھر وہ اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ اللہ تعالی ہمیں بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

*واٰخر وعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین*
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات