اجتہاد و تقلید

اجتہاد و تقلید
🌟 *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
📍 *اجتہاد کی تعریف*
اجتہاد اس خاص قوت استنباط و استدلال کو کہتے ہیں جس کے ذریعے امام اور فقیہ قرآن وحدیث کے وہ احکام و معانی اور اسرار و علل کو شرح صدر کے ساتھ سمجھتا اور حاصل کرلیتاہے جن معانی اور احکام تک عوام الناس کی رسائی نہیں ہوتی اس اجتہادی قوت سے مسائل کا حل نکالنے والے کو ”مجتہد“ کہتے ہیں اور جو شخص یہ صلاحیت نہ رکھے اور مجتہد کی رائے کو قبول کرے اس کو ”مقلد“ کہتے ہیں۔

⚜ *ضرورت اجتہاد*
روز مرہ کی تغیر پذیر زندگی میں نئے مسائل پیش آتے ہیں جن کا حل اصولی طور پر قران پاک اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہوتا ہے لیکن صریح طور پر لکھا ہوا نہیں ہوتا۔ اب یہ حل تلاش کرنا قرآن و سنت کے ماہر کا کام ہے۔ جیسے ہر ملک کا قانون مرتب اور طے شدہ ہوتاہے مگر جب کوئی نیا حادثہ پیش آتاہے تو ماہر و کیل قانون کی کتابوں میں غور کرکے اس نئے مسئلے کا قانونی حل نکالتاہے،ایسے ہی ماہر مجتہد قرآن و سنت میں غور و فکر کرکے نئے پیش آمدہ مسائل کا حل نکالتاہے اور عوام الناس کو کبھی بھی شرعی رہنمائی سے مایوس نہیں ہونے دیتا۔

🌻 *اجتہاد کے مواقع*
1: جب مسئلہ غیرمنصوص یعنی قرآن وسنت میں اس کی صراحت نہ ہو جیسے روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا،ٹیلی فونک نکاح،مختلف کمپنیوں کے شیئرز خریدنا، انشورنس کروانا وغیرہ، یہ سب وہ مسائل ہیں جن کی صراحت قرآن وسنت میں موجود نہیں۔ اب مجتہد کا کام ہے کہ وہ ان چیزوں کا حکم معلوم کرے اور غیرمجتہد کا کام یہ ہےکہ وہ مجتہدکے بتائے ہوئے مسئلہ پرعمل کرے۔

2: جہاں نص تو موجود ہو مگر اس کے مقابل دوسری نص بھی موجود ہو یعنی نصوص میں تعارض ہو تو اس صورت میں فقیہ ناسخ و منسوخ اور راجح و مرجوح کے ذریعے یا دونوں نصوص میں تطبیق دےکر عمل کی ایسی صورت نکالے گا کہ کسی نص کی مخالفت بھی نہ ہو اور تعارض کے با وجود لائحہ عمل متعین ہوجائے۔ جیساکہ رفع الیدین کرنےکی احادیث بھی موجودہیں، مثلاً
أَنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ
(سنن ابن ماجۃ: ص61)

🔰 کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے اور اس کے معارض دوسری حدیث بھی موجود ہےکہ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً
(سنن النسائی ج 1 ص161، 162باب الرخصۃ فی ترک ذلک)

🌼 کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ پھر آپ نے نماز پڑھ کر دکھائی اور صرف شروع میں رفع الیدین کیا۔

🌸 اب ان متعارض روایات میں سے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے لائحہ عمل متعین فرمایاکہ رفع الیدین کرنے کی روایات اول دور کی ہیں اور نہ کرنے والی آخری دور کی ہے۔ اور محدثین و فقہاء نے اصول بتایاکہ پہلا عمل منسوخ اور بعد والا عمل ناسخ ہوگا۔ اس لیے رفع الیدین کرنے کی روایات پہلے دورکی ہونے کی وجہ سے منسوخ ہیں اور نہ کرنے والی آخری دورکی ہونے کی وجہ سےناسخ ہیں۔

3: جہاں نص محتمل المعنی ہو یعنی نص کے کئی معنی نکلتے ہوں لیکن صاحب شریعت صلی اللہ علیہ وسلم نےکوئی ایک معنی متعین نہ کیاہو،جیسے
Īوَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوْٓءٍĨ
(البقرۃ:228)

🌺 کہ اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تو اس عورت کی عدت تین حیض ہوں گے۔ لفظ ” قُرُوْٓءٍ“ کا معنی حیض بھی ہے اور طہر بھی، مگر کسی ایک معنی کا تعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں فرمایا۔ اب ایک معنی یعنی ”حیض “کا تعین امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دیگر دلائل کی بنیاد پر فرمایا ہے۔

🌹 *عوام الناس کی ذمہ داری*
عوام الناس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بقدر ضرورت شریعت کا علم حاصل کریں، اس پر عمل کی کوشش کریں اور علماء و مجتہدین کےساتھ حسن عقیدت رکھتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے مسائل پر عمل کریں۔آج کل جو اجتہاد کے نام پر اباحیت پھیلائی جارہی ہے یہ صرف بدعملی پھیلانے اور امت کو اپنے اسلاف سے بدظن کرنے کی سازش ہے کہ جب امت کا رشتہ اپنے مجتہدین سے کٹ جائےگا تویہ کٹی ہوئی پتنگ کی طرح کسی بھی گمراہ اور بےدین کی گود میں گر جائےگی۔اس لیےحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے صحابہ اور اکابرینِ امت کی بات ماننے کو ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا
لَا يَزَالُ النَّاسُ صَالِحِيْنَ مُتَمَاسِكِيْنَ مَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ أَكَابِرِهِمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ مِنْ أَصَاغِرِهِمْ هَلَكُوْا
(المعجم الکبیرللطبرانی: ج4 ص 469 رقم الحدیث 8511)

🔅 *ترجمہ:* لوگ جب تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اپنے اکابر سے علم حاصل کرتے رہیں گے خیر اور بھلائی پر رہیں گے اور جب یہ نئے چھوٹے لوگوں مثلاً ڈاکٹر پروفیسر وغیرہ سے علم حاصل کریں گے ہلاک ہوجائیں گے۔

🌷 *ائمہ مجتہدین*
اسلامی تاریخ میں بے شمار ائمہ مجتہدین گزرے ہیں لیکن اللہ تعالی نے تکوینی طور پر چار ائمہ کی فقہ اور ان کے پیرو کاروں کو باقی رکھا اور بقیہ ائمہ کی اجتہادی کاوشیں اللہ کے ہاں مقبول و ماجور ہونے کے باجود اس طرح مرتب ہو کر امت کے پاس تواتر سے نہیں پہنچی جس طرح چار جلیل القدر ائمہ کی فقہ امت تک پہنچی ہے۔

🏵 وہ چار ائمہ مجتہدین یہ ہیں: امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت، امام مالک بن انس، امام احمدبن محمد بن حنبل جو کہ امام احمد بن حنبل کے نام سے مشہور ہیں امام محمد بن ادریس شافعی رحمہم اللہ۔ پھر ان چاروں میں سے بھی بڑے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہیں۔

🎯 *امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ*
آپ کانام ”نعمان بن ثابت“ہے۔صحیح قول کے مطابق 80ھ میں پیدا ہوئے اور 150 ہجری میں بغداد میں وفات پائی۔ کنیت ”ابوحنیفہ“ ہے۔ چونکہ ”حنفی“ یا”حنیف“ اُسے کہتے ہیں جو باطل سے منہ موڑ کر ایک خدا کا ہو رہے اس لیے امام اعظم نعمان بن ثابت کو رجوع الی اللہ کی وجہ سے ”ابوحنیفہ“ کہاجاتا ہے

💎 *ایک غلط فہمی کاازالہ*
بعض لوگ اس غلط فہمی کا شکارہیں کہ ”حنیفہ“ نام کی امام صاحب کی بیٹی تھی، جس نے ایک مسئلہ میں امام صاحب کی رہنمائی فرمائی تھی اس لیے آپ ”ابوحنیفہ“ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ یہ بات سراسر'غلط ہے، اس لیے کہ امام صاحب کا صرف ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام حماد تھا۔ چنانچہ علامہ ابن حجرالہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
لَایُعْلَمُ لَہُ ذَکَرٌوَلَااُنْثیٰ غَیْرُحمَاَّدٍ
(الخیرات الحسان: ص12)

🛡 *ترجمہ :* حماد کے علاوہ آپ کا کوئی لڑکا تھا اور نہ کوئی لڑکی۔
”ابوحنیفہ“ بھی ایسی ہی ایک کنیت ہے جیسے ابوالکلام، ابوالحسنات وغیرہ۔

💐 *امام اعظم ؛ دیگر ائمہ کی نظرمیں*

1⃣امام مالک رحمہ اللہ امام صاحب کی شان میں فرماتے ہیں
رَاَیْتُ رَجُلًا لَو ْکَلَّمَکَ فِیْ ہٰذِہِ السَّارِیَۃِ اَنْ یَجْعَلَہَا ذَہَبًا لَقَامَ بِحُجَّتِہٖ
(اکمال: ص640)

🔮 *ترجمہ :* میں نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا ہے کہ اگر"وہ اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہے تو دلائل سے ثابت بھی کر دے گا۔

2⃣ امام شافعی رحمہ اللہ آپ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں
اَلنَّاسُ فِی الْفِقْہِ عِیَالُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ۔
(فقہ اہل العراق وحدیثہم للکوثری)

💟 *ترجمہ :* لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ کے خوشہ چیں ہیں۔

🏮 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں

اِنَّہٗ مِنْ اَہْلِ الْوَرِعِ وَ الزُّہْدِ وَ اِیْثَارِالْآخِرَۃِ بِمَحَلٍّ لَا یُدْرِکُہٗ اَحَدٌ وَ لَقَدْ ضُرِبَ بِالسِّیَاطِ لِیَلِیَ الْقَضَاءَ لِلْمَنْصُوْرِ فَلَمْ یَفْعَلْ فَرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ وَ رِضْوَانُہٗ
(الخیرات الحسان: ص68)

☸ *ترجمہ:* آپ عابد، زاہد اور فکر آخرت کے ا س مقام پر فائز تھے کہ کوئی شخص بھی اس مقام کو نہ پہنچ سکتا تھا، منصور کی جانب سے پیش کیے گئے عہدہ قضاء کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے آپ کو کوڑے مارے گئے لیکن آپ نے عہدہ پھر بھی قبول نہ کیا۔ آپ پر اللہ کی رحمت ہو اور اللہ آپ سے راضی ہو۔ امام صاحب کے مناقب اور فضائل جاننے کیلیے ان کتب کا مطالعہ کیاجائے۔

*امام اعظم ابوحنیفہ کامحدثانہ مقام*
حافظ ظہوراحمدالحسینی

*مقام ابی حنیفہ رحمہ اللہ*
مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ

*آثار الحدیث*
علامہ خالدمحمود پی ایچ ڈی لندن

📌 اس کے علاوہ دیگر کئی علمائے کرام کی تصنیفات اس موضوع پر موجود ہیں۔

❇ *امام مالک رحمہ اللہ*
امام مالک بن انس المدنی مشہور قول کے مطابق 93 ہجری میں پیدا ہوئے اور صحیح روایت کے مطابق 179'ہجری میں وفات پائی۔ امام مالک رحمہ اللہ فن حدیث کے مسلمہ امام ہیں۔ بڑے بڑے محدثین اور نامور فقہاء کو آپ کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔مصر، بلادمغرب اور اندلس جیسے دور دراز کے علاقوں سے تشنگان علم جوق درجوق آپ کے پاس مدینہ منورہ آتے اور آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے تھے۔ الزوادی نے اپنی کتاب مناقب امام مالک میں امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کیاہے
*لَوْلَامَالِکٌ وَسُفْیَانُ لَذَہَبَ عِلْمُ الْحِجَازِ*
(مناقب امام مالک ص98)

✳ *ترجمہ :* کہ اگر امام مالک اور امام سفیان نہ ہوتے تو حجاز کا علم چلاجاتا۔

📍امام مالک رحمہ اللہ باوجود خود مجتہد ہونے کے بہت سے مسائل میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ہم عصر ہونے کی بناء پر مشاورت کرتے اور دل وجان سے امام اعظم رحمہ اللہ کی قدر کرتے تھے کیونکہ ائمہ اربعہ میں سے صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو شرف تابعیت حاصل ہے، اس لیے آپ بقیہ تین ائمہ سے مقام میں بڑےہیں۔

⚜ *امام شافعی رحمہ اللہ*

امام محمد بن ادریس بن العباس الشافعی رحمہ اللہ 150ھ کو پیدا ہوئے۔ آپ رحمہ اللہ وہ خوش قسمت امام ہیں جنہوں نے ”فقہ مالک“ امام مالک کی خدمت میں رہ کر سیکھی اور ”فقہ حنفی“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے جلیل القدر شاگرد امام محمد بن حسن الشیبانی رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ یوں آپ اصحاب الحدیث اور اصحاب الرائے کے علوم کا حسین مرقع بن گئے۔ اسی لیے تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ کی شان میں فرماتے ہیں

*لَوْلَاالشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللہُ مَا عَرِفْنَا فِقْہَ الْحَدِیْثِ*
(توالی التاسیس لابن حجرالعسقلانی ص125)

🌻 *ترجمہ:* اگر امام شافعی رحمہ اللہ نہ ہوتے توہمیں حدیث کی فقاہت نصیب نہ ہوتی۔

🔰 امام شافعی رحمہ اللہ امت مسلمہ کے امام ہیں، آپ ہی نے تو پوری دیانت داری کےساتھ فرمایا تھا کہ لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ کے خوشہ چیں ہیں۔

🌼 *امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ*

امام احمد بن حنبل بن ہلال الذھبی الشیبانی المروزی 164ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے اور 241 ھ کوبغداد ہی میں وفات پائی۔ آپ نے حصول علم کیلیے کوفہ، بصرہ، مکہ، مدینہ اور یمن وغیرہ کے سفر کیے۔خلق قرآن کا عقیدہ قبول نہ کرنےکی وجہ سے شاہی عتاب کا شکار ہوئے۔ جسمانی اذیتیں برداشت کیں لیکن پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔ آپ زبردست عالم اور'فقیہ تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں

*خَرَجْتُ مِنْ بَغْدَادَ وَمَاخَلَفْتُ فِیْہَا اَتْقیٰ مِنَ ابْنِ حَنْبَلٍ*
(التالیف بین الفرق ص265)

🌸 *ترجمہ :* کہ جب میں بغداد سے نکلا تو میں نے اپنے پیچھے احمد بن حنبل سے زیادہ پرہیزگار انسان نہیں چھوڑا۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات