Part 3* ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺗﻘﻠﯿﺪ. تقلید کے دلائل

🔵 *Part 3*
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺗﻘﻠﯿﺪ. تقلید کے دلائل

🌟  *ﺍﺯ ﺍﻓﺎﺩﺍﺕ : ﻣﺘﮑﻠﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮔﮭﻤﻦ ﺣﻔﻈﮧ ﺍﻟﻠﮧ*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
*ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺷﺨﺼﯽ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ*

🌷 ﺁﯾﺖ ﮐﺮﯾﻤﮧ :
ﻭَﺍﺗَّﺒِﻊْ ﺳَﺒِﻴﻞَ ﻣَﻦْ ﺃَﻧَﺎﺏَ ﺇِﻟَﻲَّ
‏( ﻟﻘﻤﺎﻥ 15: ‏)

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اور پیروی کر اس کے راستہ کی جس نے میری طرف رجوع کیا

🔸 (ﻭَﺍﺗَّﺒِﻊْ ﺳَﺒِﻴﻞَ ﻣَﻦْ ﺃَﻧَﺎﺏَ ﺇِﻟَﻲَّ) ﺃﻱ ﺍﺗﺒﻊ ﺩﻳﻦ ﻣﻦ ﺃﻗﺒﻞ ﺇﻟﻰ ﻃﺎﻋﺘﻲ ﻭﻫﻮ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﺃﺻﺤﺎﺑﻪ ﻭﻗﻴﻞ ﻣﻦ ﺃﻧﺎﺏ ﺇﻟﻲ ﻳﻌﻨﻲ ﺃﺑﺎ ﺑﻜﺮ ﺍﻟﺼﺪﻳﻖ.
‏( ﺗﻔﺴﯿﺮﺍﻟﺨﺎﺯﻥ ﺝ 3 ﺹ 471 ‏)

یعنی اتباع اور پیروی کر اس کے مذهب کی جو میری اطاعت اور فرماں برداری میں لگا ہوا ہو، اور اس سے مراد نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب ہیں، اور بعض مفسرین نے کہا کہ "من أناب إلى" سے حضرت ابوبکر صدیق رض مراد ہیں-

🔺 ﻓﺎﺋﺪﮦ : ﺳﺒﯿﻞ ﺻﯿﻐﮧ ﻭﺍﺣﺪ ﮨﮯ ،ﺟﻮ ﮐﮧ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺷﺨﺼﯽ ﭘﺮ ﺩﺍﻝ ﮨﮯ۔

🌻ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ :

🌷 *ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ :1*
ﻋَﻦْ ﻣُﺤَﻤَّﺪِ ﺑْﻦِ ﺟُﺒَﻴْﺮِ ﺑْﻦِ ﻣُﻄْﻌِﻢٍ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻴﻪِ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﺗَﺖْ ﺍﻣْﺮَﺃَﺓٌ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲَّ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻓَﺄَﻣَﺮَﻫَﺎ ﺃَﻥْ ﺗَﺮْﺟِﻊَ ﺇِﻟَﻴْﻪِ ﻗَﺎﻟَﺖْ ﺃَﺭَﺃَﻳْﺖَ ﺇِﻥْ ﺟِﺌْﺖُ ﻭَﻟَﻢْ ﺃَﺟِﺪْﻙَ ﻛَﺄَﻧَّﻬَﺎ ﺗَﻘُﻮﻝُ ﺍﻟْﻤَﻮْﺕَ ﻗَﺎﻝَ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺇِﻥْ ﻟَﻢْ ﺗَﺠِﺪِﻳﻨِﻲ ﻓَﺄْﺗِﻲ ﺃَﺑَﺎ ﺑَﻜْﺮٍ .
‏( ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ ﺝ 1 ﺹ 516 ﺑﺎﺏ ﻗﻮﻝ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻮ ﻛﻨﺖ ﻣﺘﺨﺬﺍ ﺧﻠﻴﻞ ‏)

یعنی محمد بن جبیر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اللہ کے رسول کے پاس آئی تو آپ علیہ السلام نے اسے لوٹ جانے کا حکم دیا تو اس عورت نے کہا کہ اگر میں بعد میں آئی اور آپکو نہیں پایا تو اسکا مطلب تھا کہ انتقال ہو گیا تو. تو اللہ کے نبی نے فرمایا ابوبکر کے پاس آنا اور مسئلہ معلوم کرلینا

🌷 *ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ :2*
ﻋَﻦْ ﻫُﺰَﻳْﻞَ ﺑْﻦِ ﺷُﺮَﺣْﺒِﻴﻞَ ﻗَﺎﻝَ ﺳُﺌِﻞَ ﺃَﺑُﻮ ﻣُﻮﺳَﻰ ﻋَﻦْ ﺑِﻨْﺖٍ ﻭَﺍﺑْﻨَﺔِ ﺍﺑْﻦٍ ﻭَﺃُﺧْﺖٍ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﻟِﻠْﺒِﻨْﺖِ ﺍﻟﻨِّﺼْﻒُ ﻭَﻟِﻠْﺄُﺧْﺖِ ﺍﻟﻨِّﺼْﻒُ ﻭَﺃْﺕِ ﺍﺑْﻦَ ﻣَﺴْﻌُﻮﺩٍ ﻓَﺴَﻴُﺘَﺎﺑِﻌُﻨِﻲ ﻓَﺴُﺌِﻞَ ﺍﺑْﻦُ ﻣَﺴْﻌُﻮﺩٍ ﻭَﺃُﺧْﺒِﺮَ ﺑِﻘَﻮْﻝِ ﺃَﺑِﻲ ﻣُﻮﺳَﻰ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﻟَﻘَﺪْ ﺿَﻠَﻠْﺖُ ﺇِﺫًﺍ ﻭَﻣَﺎ ﺃَﻧَﺎ ﻣِﻦْ ﺍﻟْﻤُﻬْﺘَﺪِﻳﻦَ ﺃَﻗْﻀِﻲ ﻓِﻴﻬَﺎ ﺑِﻤَﺎ ﻗَﻀَﻰ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲُّ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻟِﻠْﺎﺑْﻨَﺔِ ﺍﻟﻨِّﺼْﻒُ ﻭَﻟِﺎﺑْﻨَﺔِ ﺍﺑْﻦٍ ﺍﻟﺴُّﺪُﺱُ ﺗَﻜْﻤِﻠَﺔَ ﺍﻟﺜُّﻠُﺜَﻴْﻦِ ﻭَﻣَﺎ ﺑَﻘِﻲَ ﻓَﻠِﻠْﺄُﺧْﺖِ ﻓَﺄَﺗَﻴْﻨَﺎ ﺃَﺑَﺎ ﻣُﻮﺳَﻰ ﻓَﺄَﺧْﺒَﺮْﻧَﺎﻩُ ﺑِﻘَﻮْﻝِ ﺍﺑْﻦِ ﻣَﺴْﻌُﻮﺩٍ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﻟَﺎ ﺗَﺴْﺄَﻟُﻮﻧِﻲ ﻣَﺎ ﺩَﺍﻡَ ﻫَﺬَﺍ ﺍﻟْﺤَﺒْﺮُ ﻓِﻴﻜُﻢْ .
‏( ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ ﺝ 2 ﺹ 997 ﺑﺎﺏ ﺍﻟﻤﯿﺮﺍﺙ ﺍﺑﻨۃ ﺍﺑﻦ ﻣﻊ ﺍﺑﻨۃ ‏)

یعنی حضرت هزیل بن شرحبیل رح سے منقول ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو موسی اشعری رض سے وراثت میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک بہن کے حصوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ (مرنے والے کا) آدها مال بیٹی کو اور آدها مال بہن کو مل جائے گا (اور پوتی محروم ہوگی یعنی اس کو کچهہ نہیں ملے گا، نیز انہوں نے کہا کہ) تم عبداللہ بن مسعود سے جاکر تصدیق کر والو،  وہ بهی یہی بتائیں گے،
چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رض سے یہ مسئلہ پوچها گیا اور حضرت ابو موسی رض کا قول بهی نقل کیا گیا، تو انہوں نے کہا: تب تو میں بهٹک جاونگا اور سیدهے راستے پر چلنے والا نہیں رہ جاونگا، میں اس بارے میں وہ فیصلہ سناتا ہوں جو فیصلہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تها، بیٹی کو نصف مال اور پوتی کو چهٹها 1/6 حصہ دو تہائ پورا کرتے ہوئے، اور باقی مال بہن کو ملے گا- چنانچہ ہم یہ فیصلہ پاکر ابو موسی رض کی خدمت میں آئے اور ان کو عبداللہ بن مسعود رض کا قول بتایا، تو انہوں نے فرمایا: جب تک یہ عالم تمهارے درمیان موجود ہیں، مجهہ سے کوئ مسئلہ مت پوچها کرو-

🌷 *ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ :3*
ﻋُﻠَﻲِّ ﺑْﻦِ ﺭَﺑَﺎﺡٍ ، ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻴﻪِ ﺃَﻥَّ ﻋُﻤَﺮَ ﺑْﻦَ ﺍﻟْﺨَﻄَّﺎﺏِ ﺧَﻄَﺐَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺠَﺎﺑِﻴَﺔِ ﻓَﺤَﻤِﺪَ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﻭَﺃَﺛْﻨَﻰ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ، ﺛُﻢَّ ﻗَﺎﻝَ : ﻣَﻦْ ﺃَﺣَﺐَّ ﺃَﻥْ ﻳَﺴْﺄَﻝَ ﻋَﻦِ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥِ ﻓَﻠْﻴَﺄْﺕِ ﺃُﺑَﻲَّ ﺑْﻦَ ﻛَﻌْﺐٍ , ﻭَﻣَﻦْ ﺃَﺣَﺐَّ ﺃَﻥْ ﻳَﺴْﺄَﻝَ ، ﻋَﻦِ ﺍﻟْﻔَﺮَﺍﺋِﺾِ ﻓَﻠْﻴَﺄْﺕِ ﺯَﻳْﺪَ ﺑْﻦَ ﺛَﺎﺑِﺖٍ , ﻭَﻣَﻦْ ﺃَﺣَﺐَّ ﺃَﻥْ ﻳَﺴْﺄَﻝَ ، ﻋَﻦِ ﺍﻟْﻔِﻘْﻪِ ﻓَﻠْﻴَﺄْﺕِ ﻣُﻌَﺎﺫَ ﺑْﻦَ ﺟَﺒَﻞٍ , ﻭَﻣَﻦْ ﺃَﺣَﺐَّ ﺃَﻥْ ﻳَﺴْﺄَﻝَ ، ﻋَﻦِ ﺍﻟْﻤَﺎﻝِ ﻓَﻠْﻴَﺄْﺗِﻨِﻲ ﻓَﺈِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﺟَﻌَﻠَﻨِﻲ ﺧَﺎﺯِﻧًﺎ ﻭَﻗَﺎﺳِﻤًﺎ .
‏( ﻣﺼﻨﻒ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺷﯿﺒۃ : ﺝ 17 ﺹ 484 ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﻗﺎﻟﻮﺍ ﻓﯿﻤﻦ ﻳﺒﺪﺍ ﺑﮧ ﻓﯽ ﺍﻻﻋﻄﯿۃ، ﺍﺳﻨﺎﺩﮦ ﺻﺤﯿﺢ ‏)

یعنی حضرت عمر بن خطاب رض نے ایک مرتبہ مقام جابیہ میں لوگوں سے خطاب فرمایا چنانچہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: قرآن کریم کے بارے میں کچهہ پوچهنا ہو، وہ "ابی بن کعب رض کے پاس جاکر پوچهے، جو فرائض میراث کے بارے میں کچهہ معلومات چاہتا ہو، ہو زید بن ثابت رض کی خدمت میں حاضر ہو، جو مسائل فقہ میں کوئ رہنمائ کا طلب گار ہو، وہ معاذ بن جبل رض سے رابطہ کرے اور جسے مال سے متعلق کچھ دریافت کرنے

کی حاجت ہو،  وہ مج

هہ سے ملے؛ کوں کہ اللہ نے مجهے خزانے کا محافظ اور اسے تقسیم کرنے والا بنایا ہے-
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات