تقلید ائمہ اربعہ پر ایک اھم تحریر.... عقائد اہلسنت کی روشنی میں تقلید کیا ہے اور عام آدمی کے لیے کیوں ضروری ہے

تقلید ائمہ اربعہ پر ایک اھم تحریر.... عقائد اہلسنت کی روشنی میں تقلید کیا ہے اور عام آدمی کے لیے کیوں ضروری ہے
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
📍تقلید کا مادہ "قلادہ" ہے، باب تفعیل سے "قلدقلادۃ" کے معنی ہار پہننے کے ہیں؛ چنانچہ خود حدیث میں بھی"قلادہ" کا لفظ "ہار" کے معنی میں استعمال ہوا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

"اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً"۔

(بخاری، كِتَاب النِّكَاحِ،بَاب اسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا،حدیث نمبر:۴۷۶۶، شاملہ، موقع الإسلام)

✅ *ترجمہ:* انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ہار عاریۃً لیا تھا۔

🏮 اصولین کے نزدیک تقلید کے اصطلاحی معنی دلیل کا مطالبہ کئے بغیر کسی امام مجتہد کی بات مان لینے اور اس پرعمل کے ہیں، قاضی محمد علی لکھتے ہیں:

"التقلید اتباع الانسان غیرہ فیما یقول اویفعل معتقدا للحقیقۃ من غیرنظرالی الدلیل"۔         
  (کشف اصطلاحات الفنون:۱۱۷۸)

☸ *ترجمہ:* تقلید کے معنی یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کے قول وفعل میں دلیل طلب کیئے بغیر اس کوحق سمجھتے ہوئے اتباع کرے۔

❇ صاحب مسلم الثبوت نے اس کو مزید وضاحت کے ساتھ لکھا ہے:

"التقليد العمل بقول الغير من غير حجة كأخذ العامي والمجتهد من مثله فالرجوع إلى النبي عليه الصلاة والسلام أوإلى الاجماع ليس منه وكذا العامي إلى المفتي والقاضي إلى العدول لايجاف النص ذلك عليهما لكن العرف على أن العامي مقلد للمجتهد قال الإمام وعليه معظم الاصوليين"۔             
   (فواتح الرحموت، علیالمستصفی:۲/۴۰۰)

✳ *ترجمہ:* کسی غیرکے قول پر بغیر حجت کے عمل کرنے کا نام تقلید ہے، جیسے عامی اور مجتہد کا اپنے جیسے کے قول کو قبول کرلینا؛ پس حضوراکرمﷺ  اور اجماع کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں ہے اور اسی طرح عامی کا مفتی اور قاضی کا عادل عوام کی طرف رجوع کرنا بھی تقلید نہیں ہے؛ کیونکہ نص ان پر ایسا کرنا واجب قرار دیتی ہے؛ مگرعرف اسی پر ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہوتا ہے، امام الحرمین فرماتے ہیں کہ اکثر علماء اصول کا یہی مذہب ہے۔

🌻 اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اصطلاحی طور پر تقلید کا مطلب یہ ہے کہ جس کا قول حجتِ شرعیہ نہیں ہے اس کے قول کو مان لیاجائے رسول اللہﷺ  کا قول حجتِ شرعیہ ہے، اجماعِ امت بھی ایک مستقل حجت ہے؛ اسی طرح قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا بھی تقلید نہیں ہے کیونکہ نصِ قرآنی "يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ" (المائدۃ:۹۵) کے تحت قاضی عادل گواہوں کی گواہی پر فیصلہ کرنے  کا پابند ہے۔

⚜ *تقلید کی قسمیں*

تقلید کی دوقسمیں ہیں: (۱)تقلیدِ مطلق (۲)تقلیدِ شخصی۔

تقلید مطلق سے مراد یہ ہے کہ مسائل واحکام کی تحقیق میں انسان کسی ایک فقیہ کا پابند ہوکر نہ رہ جائے؛ بلکہ مختلف مسائل میں مختلف اصحاب علم سے فائدہ اٹھائے، یہ تقلید ہر زمانہ میں ہوتی رہی ہے، خود قرآن اس تقلید کا حکم دیتا ہے، ارشادِ خداوندی ہے:

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ"۔       
  (النساء:۵۹)

🔰 *ترجمہ:* اے ایمان والو! اللہ اور رسول اللہﷺ  کی اطاعت کرو اور تم میں جو صاحب امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔

🌼اس آیتِ کریمہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ  کے بعد "أُولِي الْأَمْرِ" کی اتباع کا حکم فرمایا گیا ہے "أُولِي الْأَمْرِ" سے کون لوگ مراد ہیں؛ اگرچہ اس میں علماء کی رائیں مختلف ہیں؛ لیکن اکثرمفسرین اس سے فقہاء اور علماء مراد لیتے ہیں، حاکم نے حضرت عبداللہ ابن جابر کا قول نقل کیا ہے:

"أُولِي الْأَمْرِ، قال الفقہ والخیر"۔   
      (مستدرک:۱/۱۲۳)

🌸 *ترجمہ:* "أُولِي الْأَمْرِ" سے مراد اصحابِ فقہ وخیر ہیں۔

🌺 ترجمان القرآن میں حضرت ابن عباسؓ کی بھی یہی تفسیر نقل کی گئی ہے:

"أُولِي الْأَمْرِ، یعنی اھل الفقہ والدین"۔           
(مستدرک:۱/۱۲۳)

🌹 *ترجمہ:* "أُولِي الْأَمْرِ" سے اصحاب فقہ اور اہلِ دین مراد ہیں۔

🔅 تابعین میں، جیسے عطاء، حسن بصریؒ وغیرہ سے بھی"أُولِي الْأَمْرِ" کے معنی اہلِ علم اور اصحاب فقہ کے منقول ہیں، آیتِ مذکورہ کے علاوہ قرآن پاک کی بعض اور آیات (النساء، التوبۃ) میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے، حدیثیں تواس پرکثرت سے شاہد ہیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا طرزِ عمل بھی تقلید مطلق کی تائید میں ہے۔

🏵 *تقلیدِ شخصی*

تقلید کی دوسری قسم تقلید شخصی ہے، یعنی کسی ناواقف کے کسی متعین شخص کے علم وکمال پربھروسہ کرکے اسی کے بتائے ہوئے طریقہ کار پر عمل کرنے کو تقلید شخصی کہتے ہیں، مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ  نے حضرت معاذ ابنِ جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بناکر بھیجا؛ تاکہ وہ لوگوں کو دین کے مسائل بتائیں اور فیصلہ کریں:

"عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْضِي فَقَالَ أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ

اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي"۔

(ترمذی، كِتَاب الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْقَاضِي كَيْفَ يَقْضِي،حدیث نمبر:۱۲۴۹، شاملہ، موقع الإسلام)

🌷 *ترجمہ:* حضرت معاذؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بناکر بھیجا تو ان سے پوچھا کہ لوگوں کے مسائل کو حل کیسے کروگے؟ انہوں نے کہا، قرآن سے، آپﷺ نے پوچھا؛ اگر قرآن میں نہ ملے تو انہوں نے کہا: سنتِ رسولﷺ  سے، آپﷺ  نے پھر پوچھا: اگر سنتِ رسولﷺ  میں نہ ملے تو، کیسے فیصلہ کروگے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کرونگا۔

🎯 یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرمجتہد کوئی مسئلہ کتاب وسنت میں نہ پائے تو اجتہاد کرسکتا ہے اور لوگوں کے لیے اس کی اتباع وتقلید ضروری ہوگی؛ پس گویا اہلِ یمن کوحضرتِ معاذؓ کی شخصی تقلید کا حکم دیا گیا، ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:

"اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ"۔

(ترمذی،كِتَاب الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ  ،بَاب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كِلَيْهِمَا،حدیث نمبر:۳۵۹۵، شاملہ، موقع الإسلام)

📌 *ترجمہ:* حضورﷺ  نے فرمایا کہ دین کے معاملہ میں میرے بعد تم لوگ حضرت ابوبکرؓ  اور عمر رضی اللہ عنہم کی اقتداء کرو۔

💎 اس حدیث پاک میں آپﷺ  نے نامزد کرکے لوگوں کو حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہم اجمعین کی اتباع وتقلید کا حکم فرمایا، صحابہؓ کے عہد میں گو تقلید شخصی اس درجہ مروج نہیں تھی، جیسی آج ہے؛ لیکن اس کے باوجود لوگ بعض مواقع پرکسی ایک ہی صحابی کے قول پر عمل کرتے تھے اور انہیں کی اتباع وتقلید کو پسند کرتے تھے؛ چنانچہ اہلِ مدینہ زید بن ثابتؓ کے قول کو ترجیح دیتے تھے، اہلِ مکہ حضرت ابن عباسؓ کے قول کو زیادہ قوی مانتے تھے، تقلید شخصی کی ایک اور واضح مثال یہ ہے کہ تراویح کی نماز آپ نے چند ہی دن باجماوعت ادا فرمائی تھی اور کتنی رکعت ادا فرمائی تھی اس میں بھی اختلاف ہے؛ پھر نہ آپﷺ  نے زندگی میں باجماعت ادا کی اور نہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں ادا کی گئی، ایک مرتبہ حضرتِ عمرؓ رمضان کے مہینہ میں مسجد میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ لوگ تنہا تنہا تراویح کی نماز ادا کررہے ہیں، حضرت عمرؓ نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ایک امام کے پیچھے جمع کردیا، لوگوں نے بلاچون وچرا اس کومان لیا اور حضرت ابی ابن کعبؓ کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔

🛡 *اب تقلیدِ مطلق کافی نہیں*

موجودہ دور میں اگر تقلیدِ مطلق کی اجازت دیدی جائے تو دین محض کھلونا بن کر رہ جائے گا اور اسلام کی شکل مسخ ہوکر رہ جائے گی، اس لیے کہ ہر مجتہد کے یہاں نادر اور شاذ اقوال موجود ہیں جو خواہشاتِ نفس کے لیے مہمیز ہیں، لوگ سہولت کے لیے اسی کو تلاش کرتے پھریں گے، اس سے تحفظ کا واحد نسخہ تقلید شخصی ہے اور مصلحتِ دین کے لیے اس طرح کا لزوم کوئی نئی بات نہیں، اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ رسول اللہﷺ پر قرآن لغتِ قریش پر اترا تھا، کچھ دنوں کے بعد جب دوسرے قبیلے کے لوگ مسلمان ہونے لگے تو صرف لغتِ قریش میں لوگوں کو دقت ہونے لگی، اب آپﷺ  نے لوگوں کی سہولت کے لیے اللہ سے دعا فرمائی، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور قرآن کو سات لغات پرنازل کیا گیا، اِرشاد نبویﷺ  ہے:

"إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ"۔

(ترمذی،كِتَاب الْقِرَاءَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مَاجَاءَ أَنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ،حدیث نمبر:۲۸۶۷، شاملہ، موقع الإسلام)

💐 *ترجمہ:* بلاشبہ یہ قرآن سات لغتوں پر نازل کیا گیا ہے۔

🔮 لیکن رسول اللہﷺ  کے بعد عہد صحابہؓ میں جب عجم کی فتوحات ہوئیں اور قرآنِ کریم عجم میں آیا تو لغات کا تعدد جو آسانی کے لیے تھا وجہ اختلاف بن گیا؛ چنانچہ حضرت عثمانؓ نے لغاتِ سبعہ کی بجائے صرف لغتِ قریش پر قرآن مجید کو جمع کرایا اور دوسری تمام لغات کو ممنوع قرار دیدیا؛ نیز حضرت عثمانؓ کے اس فعل کو عام طور پر صحابہؓ نے قبول کیا؛ یہی نوعیت آج تقلید مطلق اور تقلید شخصی کی ہے، خیرالقرون میں خواہشات اور ہوا کا غلبہ نہیں تھا؛ اس لیے اس زمانہ میں تقلید مطلق اور شخصی دونوں میں اختیار تھا، جس کو چاہے اختیار کرے؛ لیکن بعد کے حالات ایسے نہیں رہے اس لیے اس کے سوا چارہ نہیں رہا کہ تقلید شخصی کو ضروری قرار دیا جائے۔ 

(بخاری:۲/۷۴۶)

⚡ چنانچہ محدث الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں:

"وبعد المأتین ظہر فیہم التمذہب للمجتھدین باعیانہم وقل من کان لایعتمد علی مذہب مجتہد بعینہ وکان ھذا ھوالواجب فی ذالک الزمان"۔       (انصاف:۵۹)

💟 *ترجمہ:* اوردوسری صدی کے بعد لوگوں میں متعین مجتہدین کا مذہب اختیار کرنا شروع ہوا اور ایسے لوگ بہت کم تھے جو متعین مجتہد کے مذہب پراعتماد نہ کرتے ہوں اور اس زمانہ میں یہ واجب تھا۔

📍اور یہ تقلید شخصی بھی اب ائمہ اربعہ کی تقلید میں منحصر ہے، حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ائمہ اربعہ کی اتباع کوسوادِ اعظم کی اتباع قرار دیا ہے:

"ولما اندرست المذاهب الحقة إلاهذه الأربعة كان اتباعها اتباعا للسواد الأعظم والخروج عنها خروجا عن السواد الأعظم"۔                     
   (عقدالجید:۳۸)

✅ *ترجمہ:* جب صرف چارمذاہب کے علاوہ دوسرے تمام مذاہب مٹ گئے تو ان مذاہب اربعہ کی اتباع کرنا سوادِ اعظم کی اتباع ہے اور ان مذاہب سے نکل جانا سوادِ اعظم سے نکل جانا ہے۔

🏮 علامہ ابن ہمام نے ائمہ اربعہ کے علاوہ دوسرے فقہاء کے مذہب پرعمل نہ کرنے پراجماع نقل کیا ہے:

"انعقد الاجماع علی عدم العمل بالمذاہب"۔             
    (عقد الجید:۳۸)

☸ *ترجمہ:* ائمہ اربعہ کے علاوہ دوسرے تمام مخالف مذاہب پرعمل نہ کرنے پر اجماع منعقد ہوچکا ہے۔

❇ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:

"امافی زماننا فقال ائمتنا لایجوز تقلید غیرالائمۃ الاربع الشافعی ومالک وابی حنیفۃ واحمد بن حنبل"۔

✳ *ترجمہ:* رہی ہمارے زمانے کی بات تو ہمارے ائمہ حضرات نے فرمایا کہ ائمہ اربعہ کے علاوہ کسی دوسرے کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام ابوحنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ۔

🌻 شرح مسلم الثبوت میں لکھا ہے کہ ابنِ صلاح کی رائے بھی یہی ہے کہ ائمہ اربعہ کے علاوہ کسی دوسرے کی تقلید جائز نہیں۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات