part 2* غیرمقلدین کے تقلید کے متعلق پچاس سوالات کے جوابات

🔴 *part 2*
غیرمقلدین کے تقلید کے متعلق پچاس سوالات کے جوابات
🌟 *مناظر اسلام مولانا محمد امین صفدر اکاڑوی*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
🌹 *سوال نمبر 17:*
جو امام ان چاروں ائمہ کے سوا ہیں وہ درجہ میں ان کے برابر ہوئے یا بڑھ کر یا گھٹ کر ہیں ؟ تو ان کے مقلد وہ کیوں نہ ہوئے اور اگر بڑھ کر ہوئے ہیں تو یہ خود ان کے مقلد کیوں نہ ہوئے ؟

🔅 *جواب :* صحابہ کرام رضی اللہ عنهم میں جتنے قاری ہوئے ، ان کی قرأت ہمیں ان سات قاریوں کے ذریعے مل سکتی ہے اور ان قرأتوں پر تلاوت صحابہ کرام رضی اللہ عنهم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم والی ہی تلاوت ہے ۔ اس لئے ان قرأتوں پر تلاوت کرنا نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کی عظمت کو کم کرنا ہے نہ ان کی قرأت سے انکار و مخالفت ہے ۔ جس طرح سات قاریوں کو صحابہ رضی اللہ عنهم کے خلاف سمجھنا روافض کا وسوسہ ہے ، اسی طرح ائمہ رحمہ اللہ کی تقلید کو صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کے خلاف سمجھنا وسواس الخناس میں سے ہے ۔ ائمہ رحمہ اللہ سے پہلے مجتہدین ہی ائمہ اربعہ کے پیشوا ہیں جیسے پہلے قاری قراء سبعہ کے پیشوا ہیں اور پہلے محدثین اصحاب صحاح ستہ کے پیشوا ہیں ۔ ان سب نے اپنے پیشواؤں کی باتوں کو مرتب کیا ہے ۔

🌷 *سوال نمبر 18:*
الف :جب چار امام ہیں اور چار میں سے ایک کی تقلید کرنی ہے ، ہمیں کیا خبر کہ ان میں سے کس کے مسئلے صحیح ہیں اور کس کے غلط ہیں ؟ پس ہم کیسے حنفی ، شافعی بن جائیں ؟

ب :اگر یہ چاروں مذہب برحق ہیں تو ایک مذہب پر عمل کرنے سے حق کی تین چوتھائیاں ہم سے چھوٹ جاتی ہیں پھر تو تقلید نہ کرنے والے ہی اچھے رہے کہ جس امام کے کلام کو قرآن و حدیث کے مطابق پایا اسے لے لیا یہی طریقہ ہم کیوں نہ رکھیں تاکہ پورا حق ہمارے ہاتھ میں رہے ؟

ج : یہ ظاہر ہے کہ چاروں اماموں کے مذاہب میں حلال و حرام کا فرق ہے ، پھر ان چاروں کو برحق ماننے اور کہنے کا کیا معنی ؟ ایک چیز کو حرام کہے اور ہم کہیں سچ ہے ، دوسرا حلال کہے تو ہم کہیں سچ ہے ، یہ کیا اندھیرا ہے ذرا تفصیل سے بتائیں ورنہ دامن تقلید ہمارے ہاتھ سے چھوٹ ہی جائے گا ۔

🏵 *جواب :* الف : جس طرح ساتوں قرأتوں میں سے آپ اسی قرأت پر تلاوت کریں گے جو آپ کے ہاں تلاوتآ متواتر ہوگی ، جب آپ امام القرأت ہیں ہی نہیں تو آپ کو کسی قرأت کو صحیح یا غلط کہنے کا حق بھی نہیں ۔

ب :جس طرح ساتوں قرأتوں میں سے ایک قرأت پڑھنے والوں کو پورا قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ، اسی طرح ایک امام کی تقلید
کرنے سے پوری سنت پر عمل ہوجاتا ہے ۔

ج :اجتہادی حلال و حرام میں ہم اپنے امام کی تقلید کرتے جیسے ناسخ منسوخ میں ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں ۔ حضرت یوسف اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں سجدہ تعظیمی کے جواز کا حق تھا اب بھی اس کی صداقت حق ہے لیکن ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں گے مگر شریعت سابقہ کو حق کہیں گے ۔ اجتہادی حق کی مثال کچھ اس طرح ہے : ڈاکٹر ایک مریض کو کہتا ہے کہ اچار ضرور کھانا ، دوسرے مریض کو سختی سے منع کرتا ہے ڈاکٹر کے دونوں حکم درست ہیں ۔ کوئی مریض اتنا بیوقوف نہیں ہوتا کہ جو ڈاکٹر نے کہا ہے اسے چھوڑ دے دوسرے پر عمل کرے ۔ پھر اس سوال کی یہاں سرے سے گنجائش ہی نہیں کیونکہ یہاں صرف ایک ہی امام کی تقلید ہورہی ہے ۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام میں حلال و حرام میں اختلاف ہے لیکن ان کا زمانہ الگ الگ ہے ، ائمہ میں حلال و حرام میں اختلاف ہے لیکن ان کے علاقے الگ الگ ہیں ۔

🎯 *سوال نمبر 19:*
چاروں امام امامت کی حیثیت سے دنیا میں آئے ، اس سے پہلے اسلام پر سو سال گزرچکے تھے تب تک نہ یہ امام تھے ، نہ یہ مقلد ، تو اس وقت کے مسلمان مسلمان بھی تھے یا نہ تھے اور اگر تھے تو ادھورے یا پورے ؟ کیونکہ تقلید تو اس وقت تھی ہی نہیں بلکہ وہ امام بھی نہ تھے جن کی تقلید شروع ہوئی ۔ اگر باوجود تقلید نہ کرنے کے وہ مسلمان تھے اور کامل تھے تو آج کا اسلام جو پورا ہوگیا اس وقت اسلام کا کونسا روپ مارا جاتا تھا جو تقلید کی ایجاد کی ضرورت پیش آئی ؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنهم اور تابعین کرام رحمہ اللہ کا اسلام ہمیں کافی نہیں جو ہمیں کسی نئے نویلے اسلام کی ضرورت ہو ؟ اب فرائض تو سب اللہ تعالی اتارچکا ، وحی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بند ہوگئی ، سو سال بعد امام دنیا میں آئے ، اب کس آسمان سے کونسا فرشتہ وحی لے کر آیا جس سے سو سال کے بعد ان ائمہ رحمہ اللہ میں سے ایک ایک کی تقلید فرض ہوئی اور مسلمین چار راستوں میں بٹ گئے اور اللہ کے گھر بیت اللہ کے بھی چار ٹکڑے کرنے پر مجبور ہوگئے ، یہ حنفی مصلی ، یہ شافعی مصلی ، قرآن و حدیث میں ان مصلوں کا ذکر کہاں ہے ؟

💎 *جواب :* جس طرح ان سات قاریوں سے پہلے بھی قرأت پڑھنے والے سب مسلمان تھے اور بعد میں ان قرأتوں کے پڑھنے والے بھی مسلمان ہیں، فرق اتنا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم اس قرأت کو قاری حمزہ کی نہیں کہتے تھے ۔ اسی طرح صحاح ستہ والوں سے پہلے مسلمان احادیث پر عمل کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہتے تھے کہ میں ترمذی کی حدیث پر عمل کررہا ہوں، تو نسائی کی حدیث پر، اس لئے صرف اس نام کی وجہ سے پہلے اور پچھلے اسلام میں فرق کرنا ایسی جہالت ہے جیسے پہاڑوں پر برف باری ہوئی ہو گو پانی کی شکل میں بہہ نکلی، لوگ اسے پانی کہتے تھے، وہی پانی دریا کی شکل میں آیا تو اسے دریا کہنے لگے ، دریا نہر میں آیا تو اس کا نام نہر کا پانی ہوا ، نالے میں جانے سے نالے کا پانی کہا جانے لگا ۔ پانی ایک ہی ہے، مختلف نام راستے کے تعارفی نام ہیں ۔ وہی طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو تو اسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا ہے ، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنهم میں پھیل گیا تو اس کا نام صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کا طریقہ قرار پایا ، جب فقہ حنفی میں مرتب ہوگیا تو اب اس کا نام فقہ حنفی قرار پایا ، یہ کہنا کہ فقہ حنفی اور ہے اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور ، یہ ایسی جہالت ہے جیسے کوئی کہے کہ نہر کا پانی اور ، دریا کا اور ، یا یہ کہ قاری عاصم رحمہ اللہ کی قرأت اور ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ، قاری حمزہ رحمہ اللہ کی اور ، ان سوالات سے معلوم ہوا کہ غیرمقلد بننے کے لئے جاہل مرکب بننا ضروری ہے۔

📌 *سوال نمبر 20:*
چاروں خلیفہ یعنی خلفاء راشدین افضل ہیں یا چاروں امام افضل ہیں خلفاء سے؟ آج چاروں خلفاء کی تقلید نہ کی جائے اور چاروں اماموں کی تقلید فرض مانی جائے ، الٹی گنگا کیوں بہائی گئی ؟

🛡 *جواب :* جس طرح ساتوں قاریوں کی قرأت پر قرآن پڑھنے سے خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنهم والا ہی قرآن پڑھا جاتا ہے ، یہ کہنا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی قرأت چھوڑ کر قراء سبعہ کی قرأت پڑھنا غلط ہے نہ صرف جہالت بلکہ اس میں کفر کا خدشہ ہے ۔ اسی طرح کتب احادیث پر عمل کرنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی احادیث پر عمل ہورہا ہے ، بعینہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کی فقہ پر عمل کرنا اور ان کی تقلید کرنا خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی تقلید ہے ۔ یہ ایسی ہی باتیں ہیں جیسے کوئی کہے کہ آپ صحیح محمدی چھوڑ کر صحیح بخاری کیوں پڑھتے ہیں، صحیح ابوبکر چھوڑ کر ترمذی کیوں پڑھتے ہیں ، جامع فاروق اعظم چھوڑ کر جامع مسلم کیوں پڑھتے ہیں ، مسند علی چھوڑ کر مسند احمد کیوں پڑھتے ہیں ۔ یہ سب باتیں جہالت سے ناشر ہیں ۔

💐 *سوال نمبر 21:*
حضرت امام حسن ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنهم ، حضرت امام زین العابدین ، حضرت امام باقر اور حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ افضل ہیں یا چاروں امام ان سے افضل ہیں ؟ پھر آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بارہ اماموں کے مقلد کو ہم شیعہ اور رافضی کہیں اور ان سے کم درجے کے اماموں کی تقلید کو فرض مانیں ، اس تفریق کی کیا وجہ ؟

🔮 *جواب :* ائمہ اہل بیت فن تصوف کے امام ہیں جب کہ صحاح ستہ والے فن حدیث کے اور ائمہ اربعہ رحمہ اللہ فن فقہ کے امام ہیں ، ہمارے تصوف کے شجروں میں اکثر ائمہ اہل بیت کے اسماء گرامی آتے ہیں اور حدیث کی سندوں میں صحاح ستہ والوں کے اور فقہ میں ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے ۔
ہر گل را رنگ و بو دیگرے است یعنی ہر پھول کے رنگ اور خوشبو الگ الگ ہوتی ہے
جب آپ صحاح ستہ کی بحث میں محدثین کو چھوڑ کر فقہاء کی نہیں مانتے تو فقہی احکام میں فقہاء کو چھوڑ کر محدثین اور صوفیاء کی بات ماننا کیسے درست ہے؟ لکل فن رجال ::یعنی:: ہر فن کے لئے الگ الگ مرد ہیں۔

💟 *سوال نمبر 22:*
اگر چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم اور ائمہ اہل بیت افضل ہیں ائمہ اربعہ سے تو چاروں اماموں کی تقلید کیوں کی جاتی ہے ؟ ان چاروں خلفاء و حضرات ائمہ اہل بیت کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی ؟ ہاں ان چاروں اماموں نے ان چاروں خلفاء کی تقلید کیوں نہیں کی ؟

🏮 *جواب :* ایک ہی بات کو بار بار دہرایا جارہا ہے جس طرح صحاح ستہ کی تابعداری میں احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم امت کو ملا ، سات قاریوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء والا قرآن ہی مرتب کیا ، اسی طرح ائمہ اربعہ رحمہ اللہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی سنت کو زندہ کیا۔ یہ جہالت ہے کہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ نے خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی بات نہیں مانی ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ساتوں قاریوں نے خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم والا قرآن نہیں مانا ، اصحاب صحاح ستہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کے منکر تھے۔ معاذ اللہ.

✅ *سوال نمبر 23:*
چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم مجتہد تھے یا نہیں ؟ اگر تھے تو ان کی تقلید کیوں چھوڑی جاتی ہے ؟

☸ *جواب :* چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم مجتہد تھے ، ان کے مذاہب مدون نہیں ہوئے ، ان کے جو اجتہادات متواتر تھے ان کو ائمہ اربعہ رحمہ اللہ نے اپنی فقہ میں سمولیا ، اس لئے ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کی تقلید خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی ہی تقلید ہے جیسے نہر کا پانی ، دریا کا پانی ہے ۔
❇ *سوال نمبر 24:*
چاروں خلیفہ راشد رضی اللہ عنهم چاروں اماموں کے برابر مجتہد تھے یا بڑھ کر یا گھٹ کر ؟ اگر بڑھ کر تھے تو پھر انہیں گھٹا کیوں دیا کہ ان کا مقلد ایک بھی نہیں ہے ؟

✳ *جواب :* جس طرح چاروں خلفاء راشد رضی اللہ عنهم ساتوں قاریوں سے بڑھ کر قاری تھے ، صحاح ستہ والوں سے اعلی محدث تھے، اسی طرح یہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ سے بہت بڑے مجتہد تھے لیکن جس طرح بڑے محدث ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی کوئی حدیث کی کتاب مرتب نہیں کی اس لئے ان کی مرویات حدیث کے لئے ہم حدیث کی کتابوں کے محتاج ہیں ، اسی طرح اعلی قاری ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی مکمل قرأت مدون نہ فرمائی اس لئے ان کی قرأت کے لئے آج ہم قراء سبعہ کے محتاج ہیں ایسے ہی بہترین مجتہد ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے مذاہب مدون نہ کروائے ، اس لئے ان کی تابعداری کے لئے آج ہم ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے محتاج ہیں؟

⚜ *سوال نمبر 25:*
چاروں ائمہ رحمہ اللہ سے قبل چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی تقلید کی جاتی تھی یا نہیں ؟ جب نہیں کی جاتی تھی تو پھر ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کی کیوں کی جائے ؟

🌻 *جواب :* چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی حیات میں ان کے اجتہادی فتاوی کی بلانکیر تقلید کی جاتی تھی ۔ اب چونکہ ان کے مذاہب مدون نہیں اس لئے ائمہ اربعہ کے ذریعہ ان کے مسائل متواترہ پر عمل ہورہا ہے ۔

📍 *سوال نمبر 26:*
ظاہر ہے کہ چاروں اماموں کا وجود بحیثیت امام پہلی صدی میں نہ تھا ، پس پہلی صدی کے لوگ مقلد ہوئے یا غیر مقلد ؟ اور وہ نجات پانے والے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوں گے یا نجات سے محروم اور دائرہ اسلام سے خارج کہے جائیں گے ؟

🔰 *جواب :* جس طرح چاروں اماموں کا وجود بحیثیت امام پہلی صدی میں نہ تھا ، اسی طرح ساتوں قاریوں کا وجود بھی بحیثیت امام پہلی صدی میں نہ تھا اور صحاح ستہ والوں کا وجود بحیثیت امام دوسری صدی میں بھی نہ تھا ۔ اب فرمائیں ؟ کہ پہلی دو صدیوں کے مسلمان صحاح ستہ کو مانے بغیر مسلمان تھے یا نہیں ، ان کو آپ منکر حدیث مانیں گے یا حدیث والے ؟ اب اگر کوئی پہلی دو صدیوں کی طرح صحاح ستہ والوں کو نہ مانے، آپ اس کو خیرالقرون والا مسلمان مانیں گے یا نہیں ؟ اسی طرح آج بھی کوئی شخص ساتوں قرأتوں کو ترك کرکے یہ چاہے کہ میں پہلی صدی کا مسلمان ہوں تو کیا آپ نے اس پر عمل کرلیا یا نہیں ؟ اگر آپ یہ کہیں کہ صحاح ستہ والی احادیث اس زمانہ میں تھیں ، فرمایئے کہ اس وقت وہ : رواہ البخاری : نہیں کہتے تھے؟ یہ ساتوں قرأتیں صحابہ رضی اللہ عنهم میں تھیں لیکن ان کا الگ نام نہیں رکھا گیا ، اسی طرح فقہی مسائل پر عمل اس وقت بھی تھا لیکن فقہ حنفی نہیں تھا ۔ ان لوگوں کو غیرمقلد کہنا ایسی گندی گالی ہے جیسے یہ کہنا کہ وہ صحاح ستہ والوں کو نہ مان کر منکر حدیث تھے یا ساتوں قاریوں کو نہ مان کر منکر قرآن تھے ۔

🌼 *سوال نمبر 27:*
چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی تقلید اب منع ہے یا نہیں ؟ اگر منع نہیں تو اماموں کی تقلید گئی اگر منع ہے تو اماموں کی بطور اولی منع ہونی چاہئے ؟

🌸 *جواب :* چاروں ائمہ رحمہ اللہ کی تقلید میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کے متواتر مسائل کی اسی طرح تقلید ہورہی ہے جس طرح ساتوں قرأتوں میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کے متواتر قرأت پڑھی جارہی ہے۔ ہاں جس طرح متواتر قرأت کے خلاف کوئی شاذ قرأت ان کی طرف منسوب ہو تو وہ قابل تلاوت نہیں ، اسی طرح مذاہب کے خلاف کوئی شاذ قول ان کی طرف منسوب کرنا قابل عمل نہیں ۔ خوب سن لو یہاں مقابلہ شاذ کا ہے نہ کہ قاری اور خلیفہ کا ۔

🌺 *سوال نمبر 28:*
اگر چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی تقلید اب منع ہے تو کیوں اور کس نے منع کی ؟ پھر چاروں اماموں کی تقلید کیوں اور کس نے باقی رکھی ؟ ان ائمہ نے کب کہا کہ لوگ حنفی شافعی کہلوائیں ؟

🌹 *جواب :* چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کے مذاہب نہ مدون ہیں ، نہ براہ راست متواتر ۔ البتہ ائمہ تک ان کے جو مسائل متواتر پہنچے وہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ نے لے لئے ، ان پر اب بھی عمل ہورہا ہے۔ رہا یہ کہ ائمہ نے کب کہا تھا کہ حنفی ، شافعی کہلوانا ، جس طرح یہ کہنا کہ یہ بخاری کی حدیث ہے ، قاری حمزہ کی قرأت ہے ، درست ہے اس پر اجماع ہے ، اسی طرح مجتہد کے مذہب کو مجتہد کی طرف منسوب کرنا جس طرح اجماع سے ثابت ہے خود حدیث سے بھی ثابت ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرض کیا : اجتهد برأي : اپنی رائے کی نسبت اپنی طرف کی ، جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں کیا تو غیرمقلدوں کو منع کرنے کا کیا حق ہے ؟

🔅 *اب غیرمقلدوں سے ہمارا سوال:*
بخاری ص433 ج1 پر عثمانی اور علوی کی نسبتیں ہیں ، کیا کوئی غیرمقلد ثابت کرسکتا ہے کہ ان کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عثمانی اور علوی کہلوانے کا حکم دیا تھا؟

🌷 *سوال نمبر 29:*
چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم نے اپنی اپنی تقلید کا حکم دیا تھا یا نہیں ؟ اگر دیا ہے تو ہم نے کیوں نہ مانا ؟ اگر دیا تو پھر اماموں کے بارے میں حکم کیوں ہو ؟ یہاں تک کہ محمدی کہلوانا چھوڑ دیا ؟

🏵 *جواب :* چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی تابعداری کا حکم خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ۔ ان کی حیات میں براہ راست ان کی تقلید ہوتی رہی اور اب ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے ذریعہ ان کی تقلید ہورہی ہے ۔ محمدی کہلانے کا حکم نہ اللہ تعالی نے دیا ، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا اور نہ ہی خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم میں سے کوئی محمدی کہلایا ۔ مسلمانوں کو محمدی عیسائیوں نے کہنا شروع کیا جیسے مرزائیوں نے احمدی کہنا شروع کیا ۔ آخر امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح محمدی کو چھوڑ کر اپنی کتاب کا نام صحیح بخاری کیوں رکھا ؟

🎯 *سوال نمبر 30:*
اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی تقلید کا حکم دیا تھا تو ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ  عنہ کے زمانہ میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقلید جاری تھی یا نہیں؟ اگر نہ تھی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے زمانے میں اور اس کے بعد کیوں جاری رہی ہے ؟

💎 *جواب :* حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقلید ان کی حیات میں جاری تھی اور اب بھی ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے ذریعہ جاری ہے البتہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی اجتہاد کا حق حاصل تھا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بھی حق تھا ۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بعد بھی امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے مجتہدین کو اجتہاد کا حق تھا ۔ تقلید غیر مجتہدین کے لئے ہوتی ہے نہ کہ مجتہدین کے لئے ۔

📌 *سوال نمبر 31 :*
اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقلید جاری تھی تو اس تقلید کو کس نے بند کیا ؟ اور کیوں بند کیا ؟ اور اسی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید بند کیوں نہ ہو ؟

🛡 *جواب :* جس طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرأت جاری ہے اسی طرح ان کی تقلید بھی ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے ذریعہ جاری ہے ، ان کا فیض بند نہیں ہوا ۔ اسی طرح فقہ حنفی کی کتابیں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کے اجتہادات کا مجموعہ ہیں ۔ یہ بات کئی دفعہ واضح کی جاچکی ہے کہ اجتہاد اور قیاس اصل میں قاعدوں کو کہتے ہیں
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنے مجتہدین ساتھیوں کے مشورہ سے پہلے قواعد استنباط کرتے تھے ، جب ایک قاعدہ طے ہوگیا تو اس کے نیچے سینکڑوں مسائل آجاتے تھے اور شاگرد آپ کے سامنے لکھتے تھے لیکن یہ مسائل قواعد کی ترتیب سے کرتے تھے ، ہر قاعدہ کے نیچے نماز ، حج ، زکوۃ کا حکم آجاتا ہے ۔ جیسے محدثین نے احادیث میں پہلے مسانید ، معاجم مرتب کیں ، ایک جزء میں لکھ دی جاتی خواہ نماز کی ہوں یا حج کی یا ترغیب و ترہیب کی ۔ پھر امام محمد رحمہ اللہ نے ان مسائل کی تبویب فرمائی اور ظاہرالروایت کی چھ کتابیں مرتب کیں۔ پھر امام محمد رحمہ اللہ کو محرر مذہب نعمان کہا جاتا ہے ۔ اس میں بھی انہوں نے اتنی احتیاط کی کہ جو کتاب امام صاحب رحمہ اللہ کے پاس لکھی اس کو جامع کبیر ، سیر کبیر ۔ جو قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کے پاس لکھی اس کو جامع صغیر ، سیر صغیر ، مبسوط ، زیادات کا نام دیا ۔ یہ کتابیں اسی زمانہ سے متواتر ہوئیں اس لئے ان کو ظاہرالروایت کہا جاتا ہے ۔ یہ کتابیں فقہ حنفی کا ماخذ ہیں ، بعد میں ان کو سامنے رکھ کر متون مرتب کئے گئے جیسے قدوری ، کنز ، وقایہ ، نقایہ ، ہدایہ ، تدبیر وغیرہ ۔ یہ مسائل جو متون میں ہیں وہ امام صاحب سے متواتر ہیں ، اس لئے امام صاحب رحمہ اللہ سے ان کی نفی گویا متواترات کی نفی ہے جیسے کوئی قرآن کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نفی کردے ۔
مسائل فقہ تین قسم کے ہیں :
1:ایک امام صاحب رحمہ اللہ سے متواتر ہیں ، ان کو متون معتبرہ کہتے ہیں۔
2:دوسرے وہ جو متواتر نہیں اخبار آحاد کے طور پر مروی ہیں ، ان کو نوادرات کہتے ہیں ، ان میں جو مفتی بہ ہیں وہ مذہب حنفی میں شامل کئے گئے ، غیر مفتی بہ مذہب حنفی نہیں کہلائے ۔
3: کچھ مسائل بعد میں پیش آئے ، ان کو بعد کے لوگوں نے امام صاحب رحمہ اللہ کے قواعد کے ذریعہ معلوم کرلیا ۔ جیسے حساب کے قاعدہ سے نکالا ہوا جواب حساب کا ہی ہوتا ہے ، اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قواعد پر نکالے گئے جوابات مذہبی حنفی ہی کہلائیں گے بشر طیکہ مفتی بہ ہوں ۔ فقہ کی بڑی کتابوں میں متواتر مسائل کو بطور مذہب حنفی لکھا جاتا ہے اور دوسری قسم کے مسائل کو بھی روایت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے انداز سے روایت کیا جاتا ہے ۔ جو مسائل ان کے اصول پر نکالے جاتے ہیں ان کو واقعات نوازل کہا جاتا ہے ، ان کو عند أبی حنیفه ، عند أبی یوسف لکھا جاتا ہے ۔ بہر حال ان تین قسموں سے جو مسائل مفتی بہا اور معمول بہا ہیں صرف ان کو مذہب حنفی کہا جاتا ہے ۔

💐 *سوال نمبر 32:*
ذرا مہربانی فرماکر یہ بھی بتایا جائے کہ فقہ حنفی کی موجودہ کتابوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی ہے جسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے خود لکھا ہو ؟

🔮 *جواب :* فقہ حنفی کے وہ مسائل جو متون معتبرہ میں مذکور ہیں وہ امام صاحب رحمہ اللہ سے اسی طرح متواتر ہیں کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن متواتر ہے اور متون کے علاوہ شروح اور فتاوی میں بعض مسائل اخبار آحاد کی طرز پر مروی ہیں جیسے کتب احادیث کی حدیثیں ۔ ان اصولوں میں جو مفتی بہا ہیں وہ امام صاحب رحمہ اللہ سے ثابت ہیں اور غیر مفتی بہا ثابت نہیں ۔ تمام اہل سنت والجماعت حنفی ، شافعی وغیرہ متون فقہ کو جو ان ائمہ سے متواتر ہیں مانتے گئے ۔ سب سے پہلے محمد معین ٹھٹھوی شیعہ نے اپنی کتاب دراسات میں یہ شبہ ظاہر کیا کہ ان مسائل کی نسبت ائمہ کی طرف یقینی نہیں لیکن ان خرافات رافضی پر کسی نے کان تک نہ دھرا، حتی کہ چودھویں صدی کے شروع میں ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد نے اس رافضی کی غلط بات کو اپنا دین و ایمان بنالیا اور غیر مقلدین نے اس پر شور مچایا کہ ان مسائل کا ثبوت امام صاحب رحمہ اللہ سے نہیں لیکن اس کے باوجود خود غیر مقلدین بھی اس بات پر پورا یقین نہیں رکھتے ۔ جب اپنی فتاوی کی کتابوں میں اپنی حمایت میں فقہ کا قول پیش کرتے ہیں تو پھر اس کتاب کو ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ثابت مانتے ہیں ، جب کوئی بات انکے خلاف ہو تو کہتے ہیں کہ ان کا ثبوت امام صاحب رحمہ اللہ سے نہیں ہے ۔

💟 *سوال نمبر 33:*
ذرا یہ بھی بتایا جائے کہ فقہ کی موجودہ کتابوں میں بہت سے مسئلے خلاف طہارت اور خلاف تہذیب ہیں جنہیں سننے سے طبیعت میں کراہت پیدا ہو اور قے آنے لگے ، کیا یہ مسائل فی الواقع امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہی ہیں ؟

🏮 *جواب :* فقہ حنفی کی کتابوں میں وہ مسائل جو مفتی بہا اور معمول بہا ہیں وہ مذہب حنفی ہیں ، ان سے اگر کسی کو گھن آتی ہے تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ : کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا ، قے آجاتی ہے ، باقی شاذ و متروک مسائل مذہب حنفی ہیں ہی نہیں ۔
عواء الکلب لایظلم البدر
کتے کا بھونکنا چاند کی روشنی کو ختم نہیں کرتا

✅ *سوال نمبر 34:*
اگر ہم ان غلط اور خلاف تہذیب مسائل کو چھوڑ دیں تو دائرہ تقلید سے باہر تو نہیں ہوجائیں گے ؟

☸ *جواب :* تقلید کا تعلق صرف ان مسائل سے ہے جو مفتی بہا اور معمول بہا ہیں ، ان کو چھوڑنے سے آدمی واقعی تقلید سے باہر ہوجاتا ہے لیکن غیر مفتی بہا اور غیر معمول بہا اقوال کا تعلق تقلید سے نہیں ہے ۔ متواتر قرآن کو چھوڑنے والا قرآن کا مخالف ہے لیکن شاذ اور متروک قرأتوں کی تلاوت ترك کرنے والا قرآن کا مخالف نہیں ۔ اسی طرح سنت کا تارك اہل سنت سے خارج ہے ، شاذ اور متروك حدیثوں کا تارك اہل سنت سے خارج نہیں۔

❇ *سوال نمبر 35:*
اس تقلید کے بارے میں کچھ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے یا نہیں ؟ اگر فرمایا ہے تو کیا فرمایا ہے ، وہ آیت یا حدیث صاف لکھ دیں کہ جس میں ہو کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یا فلاں امام کی تقلید تم پر فرض ہے ، جو نہ کرے وہ بدمذہب ہے۔

✳ *جواب :* اللہ تعالی فرماتے ہیں : فاسئلو أھل الذکر ان کنتم لاتعلمون : اس آیت میں لوگوں کی دو قسمیں بتادیں
1: وہ جو اہل ذکر ہیں جن کو دین خوب یاد ہے ، ان کو مجتہدین کہتے ہیں
2: وہ لوگ جو مجتہدین نہیں ہیں ان کو حکم دیا کہ تم اہل ذکر ::مجتہدین:: سے پوچھ کر عمل کیا کرو اسی کا نام تقلید ہے

⚜ رہا یہ سوال کہ آیت یا حدیث میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام ہو تو یہ ایک جاہلانہ سوال ہے ۔ جیسے قرآن کریم میں حکم ہے :: فاقروا ما تیسر من القرآن:: اس میں قرآن پڑھنے کا حکم ہے ۔ اب جو استاد بھی میسر آجائے اس سے پڑھ لے تو اس حکم پر عمل ہوگیا ۔ اب کوئی ضد کرے کہ آیت میں یوں لکھا ہو کہ محمد اسلم نورانی قاعدہ محمد دین سے پڑھے اور تیسواں پارہ محمد علی سے پڑھے ، تو یہ جہالت ہے ۔ اسی طرح قرآن میں حکم آگیا :: فانکحوا ماطاب لکم من النسآء :: اب کوئی یہ کہے کہ یہ تو نکاح کا حکم ہے ، یہ دکھاؤ کہ قرآن پاک میں صاف ہو کہ محمد علی کی شادی زینب بی بی سے ہو ۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ اپنی بیماری کا علاج کرو : کرواؤں : ، اب جو بھی ڈاکٹر میسر آجائے اس سے علاج کروالیا جائے گا ، یوں سوال کرنا کہ بیماری کا نام بھی ہو ۔ اور ہیضہ کا علاج ڈاکٹر محمد اسلم سے کروانا اور انگریزی دوائی لینا اور ملیریا کا علاج حکیم حنیف اللہ سے کروانا اور یونانی دوائی لینا جہالت ہے ۔ جس طرح مومنوں کو نماز پڑھنے کا حکم قرآن میں ہے لیکن سب مومنوں کے نام مذکور نہیں ، اب کوئی کہے کہ جب تک یہ لفظ نہ دکھاؤگے کہ عبدالرزاق نماز پڑھے ، میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ دلیل کے دو مقدمے ہوتے ہیں : ایک یہ کہ مومن نماز پڑھے ، یہ مقدمہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ دوسرا یہ کہ عبدالرزاق مومن ہے ، یہ قرآن و حدیث میں نہیں ہے بلکہ ہمارے مشاہدہ سے ثابت ہے ۔ اسی طرح تمہید کا پہلا مقدمہ کہ اہل ذکر سے مسائل پوچھو ، یہ قرآن میں ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اہل ذکر میں سے ہونا امت کے اجماع سے ثابت ہے اور ہمارے ملک میں صرف مذہب حنفی کا متواتر ہونا مشاہدہ سے ثابت ہے ۔ اسی طرح منکرین حدیٹ بھی آپ سے پوچھتے ہیں کہ قرآن میں ہے:: أطیعوا الرسول:: آپ ہمیں کہتے ہیں کہ :أطیعوا البخاری و أطیعوا الترمذی : وغیرہ اور منکر قرآن بھی پوچھ سکتے ہیں کہ قرآن میں حکم ہے :فاقرو ماتیسر من القرآن: تم ہمیں کہتے ہو : قاقرو ا قراءۃ عاصم و حمزۃ : یاد رہی کہ ائمہ کی فقہ کا درجہ تیسرا ہے ، اگر ناموں کی ضرورت ہے تو پہلے سات قاریوں کے نام قرآن و حدیث میں دکھائیں ، پھر صحاح ستہ والوں کے نام قرآن و حدیث میں دکھائیں؟ اور تیسرے نمبر پر ہم سے مطالبہ کریں۔

بے روگ ہیں ان فتوی فروشوں کی زبانیں
اسلاف کی توہین پہ کرتے ہیں گزارہ
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات