غیر مقلدین کے تقلید کے متعلق پچاس سوالات کے جوابات

غیر مقلدین کے تقلید کے متعلق پچاس سوالات کے جوابات

🌟 *مناظر اسلام مولانا محمد امین صفدر اکاڑوی*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼ ◼
🌺 اس زمانہ میں تقلید شخصی کے بارے میں ایسا اختلاف پڑا ہے کہ جدھر دیکھئے ادھر اسی کا جھگڑا پھیلا ہوا ہے. کوئی تو تقلید کو جائز بلکہ واجب اور فرض بتاتا ہے اور کوئی تقلید کا سرے سے انکار ہی کرتا ہے ، نہ فرض مانتا ہے نہ جائز جانتا ہے . ہم عامی لوگ سخت مشکل میں پڑے ہوئے ہیں کہ کس کی بات مانیں ؟

🌹 لہذا ان علماء دین کی خدمت میں جو تقلید شخصی کو فرض یا واجب یا جائز بتاتے ہیں ، عرض کررہے ہیں کہ آپ حضرات ہم لوگوں کو سیدھا راستہ اللہ تعالی کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتادیجئے تاکہ ہم لوگ اس پر چل کر اپنی مراد کو پہنچ جائیں اور آپ کو سیدھا راستہ بتانے کا اجر ملے . اسی غرض سے یہ پچاس سوالات سردست حاضر خدمت کئے جاتے ہیں، ان کے جوابات سے سرفراز فرمایئے . اجرکم علی الله

🔅 *سوال نمبر 1:*
سنا ہے کہ ہماری فقہ شریف کے اصول کی کتابوں میں ہے کہ جس امتی کے قول کو ماننے پر کوئی دلیل نہ ہو اسے بے دلیل ماننا اور مدار دین اسی پر رکھ دینا اور قرآن ، حدیث ، اجماع اور قیاس سے دلیل نہ لے سکنا ، اسے تقلید شخصی اصطلاحی کہتے ہیں.

🌷 *جواب :* تقلید شخصی کا انکار ملکہ وکٹوریہ کے دور میں شروع ہوا . اس سے پہلے اس کا انکار نہیں بلکہ سب لوگ تقلید شخصی کرتے تھے.
اشتہار والے نے تقلید فرض یا واجب ماننے والوں سے دلیل مانگی ہے لیکن شرک اور حرام کہنے والوں سے دلیل نہیں مانگی . معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا آدمی ہے ، لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور ۔

🏵 *تقلید کی تعریف :*
اجتہادی مسائل میں مجتہد کے ان اقوال کو جو ادلہ اربعہ میں سے کسی دلیل سے ثابت ہوں ان بادلیل باتوں کو بلامطالبہ دلیل مان لینا –
عرف عام میں تقلید کہلاتا ہے ۔
🎯 *سوال نمبر 2:*
جس تقلید کے بارے میں اس قدر اختلافات ہیں ، اس تقلید سے کیا مراد ہے یعنی تقلید شخصی و اصطلاحی ؟

💎 *جواب :* کتاب و سنت میں غیر مجتہد اپنی ناقص رائے کو چھوڑکر کتاب و سنت کے ماہر کی راہنمائی میں کتاب و سنت پر عمل کرے اور اگر کوئی تحریر میں اختلافات ہو تو جس مجتہد کا مذہب اس کے ملک میں درسآ و عملآ متواتر ہو اس کی راہنمائی میں کتاب و سنت پر عمل کرے ۔

📌 *نوٹ :*  رائے ناقص از خودرائی ، کم علمی ، کم فہمی ، بدفہمی ، کج فہمی ، اور خوش فہمی کو کہتے ہیں
اسی کا نام غیرمقلدیت ہے ۔

🛡 *سوال نمبر 3:*
کیا تقلید شخصی اصطلاحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنهم یا تابعین رحمہ اللہ کے زمانہ میں تھی ؟

💐 *جواب :* تقلید شخصی ہر زمانہ میں رہی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پورے یمن میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی اور دور صحابہ رضی اللہ عنهم میں ہر شہر کے لوگ اپنے شہر کے مجتہد کی تقلید کرتے تھے ۔

🔮 *سوال نمبر 4:*
 الف : جو کام ان مبارک زمانوں میں نہ ہوا ، اگر اسے بعد والے دینی امر سمجھ کر کریں تو آیت الیوم اکملت لکم دینکم جو قرآن میں ہے ، وہ بتلاتی ہے کہ اللہ کا دین ہر طرح کامل ہوگیا ، پھر ائمہ دین کی رائے و قیاس کو بھی دین میں داخل کرنا اس آیت کے خلاف تو نہیں ؟

ب : وہ بہ اصطلاح شرعی بدعت کیوں نہیں ؟

💟 *جواب :* تقلید شخصی خیرالقرون میں موجود تھی البتہ اسے شرک اور بدعت کہنا دور وکٹوریہ کی بدعت ہے

🏮 *سوال نمبر 5:*
چاروں ائمہ یعنی امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہ اجمعین نے بھی اس تقلید کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا ہے یا نہیں ؟ اور اگر فرمایا ہے تو کیا ؟ ہم نے سنا ہے کہ چاروں ائمہ تقلید کو حرام فرمایا کرتے تھے ؟

✅ *جواب :* چاروں ائمہ نے جو اپنی فقہ مرتب کروائی ، ہر مسئلہ دلیل سے مرتب کروایا ۔ مرتب کروانے کا مقصد اس پر عمل کرانا تھا تو گویا ہر مسئلہ دعوت تقلید ہے ۔ اس لئے جب ان کی یہ فقہ متواتر ہے تو دعوت تقلید بھی ان سے متواتر ثابت ہے ۔ الکفایه کتاب الصوم میں صراحۃ بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے عامی کے لئے تقلید کا وجوب ثابت ہے ۔ ہاں ان ائمہ نے یہ فرمایا :: جو شخص خود اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہے اس پر اجتہاد واجب ، تقلید حرام ہے ۔ جو خطاب انہوں نے مجتہدین کو کیا تھا ان کو عوام پر چسپاں کرنا یحرفون الکلم عن مواضعه کی بدترین مثال ہے ۔ ہمارے ہاں مجتہد پر اجتہاد واحب ، غیر مجتہد پر تقلید واجب ہے اور غیر مقلد پر تعزیر واجب ہے.

☸ *دائرہ اجتہاد و تقلید :*
تقلید کا تعلق چونکہ اجتہادی مسائل سے ہے ، اس لئے اجتہاد کا دائرہ کار کا پتہ چلنے سے تقلید کی ضرورت بھی واضح ہوتی ہے ۔ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے 9ھ میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ فرمایا تو پوچھا : اے معاذ : فیصلہ کیسے کروگے ؟ تو انہوں نے عرض کیا : کتاب اللہ سے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فان لم تجد فیه
تو عرض کیا : بسنة رسول الله ۔ فرمایا فان لم تجد فیه تو عرض کیا : اجتهد برأیی و لا آلو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ألحمد لله الذی وفق رسول رسول الله لما یرضی به رسول الله
( ابوداؤد ، ترمذی )

❇ اس سے معلوم ہوا کہ جو مسئلہ اور حکم کتاب و سنت میں صراحتاً نہ ملے وہاں اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وضاحت یوں ہے کہ
مسائل فرعیہ کی دو قسمیں ہیں : منصوصہ ، غیر منصوصہ ۔
پھر منصوصہ کی دو قسمیں ہیں : متعارضہ ، غیر متعارضہ ۔
پھر غیر متعارضہ کی دو قسمیں ہیں : محکمہ ، محتملہ ۔
1: مسائل منصوصہ ، غیر متعارضہ محکمہ میں نہ اجتہاد کی ضرورت نہ تقلید کی ۔ جیسے پانچ نمازوں کی فرضیت ، نصاب زکوۃ وغیرہ ۔

2: مسائل منصوصہ متعارضہ میں رفع تعارض کرکے مجتہد راجح نص پر عمل کرتا ہے اور مقلد بھی اس کی راہنمائی میں راجح نص پر عمل کرتا ہے جیسے قرأت خلف الامام ، ترك رفع یدین وغیرہ ۔

3: مسائل منصوصہ متحملہ میں مجتہد اپنے اجتہاد سے راجح احتمال کی تلاش کرتا ہے اور اس نض کے راجح احتمال پر عمل کرتا ہے اور مقلد اسکی راہنمائی میں اس نص کے راجح احتمال پر عمل کرتا ہے جیسے احکام فرض ، سنت ، واجب وغیرہ ۔

4: مسائل غیر منصوصہ میں مجتہد منصوص مسائل میں کوئی علت تلاش کرتا ہے ۔ وہی علت جن غیر منصوص مسائل میں پائی جاتی ہے تو وہی حکم اس میں جاری کرتا ہے اور مقلد مجتہد کی راہنمائی میں اسی حکم پر عمل کرتا ہے جس کی بنیاد مجتہد نے کتاب و سنت کی بنیاد پر رکھی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجتہد اپنی اجتہادی بصیرت سے کتاب و سنت کے منصوص اور علت سے ثابت مسائل پر عمل کرتا ہے اور مقلد بھی اس کی راہنمائی میں کتاب و سنت ہی کے مسائل پر عمل کرتا ہے اس لئے ان اجتہادی مسائل میں مجتہد پر اجتہاد واجب ہے۔ جو اجتہاد کی اہلیت نہ رکھے اس پر تقلید واجب ہے ، اس لئے اسے مقلد کہتے ہیں اور جو نہ خود اجتہاد کرسکے اور نہ مجتہد کی تقلید کرے اسے غیرمقلد کہتے ہیں ، اس پر تعزیر واجب ہے ۔

✳ *تمہید :* دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر آخر خیرالقرون تک اہل سنت والجماعت میں مجتہدین اجتہاد کرتے تھے اور غیر مجتہدین ان کی تقلید کرتے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم اور تابعین و تبع تابعین کرام رحمہ اللہ میں سے ایک نام بھی پیش نہیں کیا جاسکتا جو نہ اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہو اور نہ تقلیدآ کتاب و سنت پر عمل کرتا ہو اور اپنے کو غیرمقلد کہتا ہو ۔ ہم فی حوالہ سو روپے انعام دیں گے ۔ خیرالقرون کے بعد اجتہاد کی ضرورت نہ رہی اس لئے سب اہل سنت ائمہ اربعہ رحمہ اللہ میں سے کسی کی تقلید کرتے تھے ۔ اس لئے چار ہی قسم کی کتابیں ملتی ہیں : طبقات حنفیہ ، طبقات مالکیہ ، طبقات شافعیہ ، طبقات حنابلہ ۔
جس طرح ملکہ وکٹوریہ کے دور سے پہلے طبقات مرزائیہ نام کا ذکر کہیں نہیں ملتا اس لئے کہ مرزائیوں کا وجود ہی نہیں تھا ، اسی طرح طبقات غیرمقلدین نامی کوئی کتاب کسی محدث یا مؤرخ کی لکھی ہوئی ملکہ وکٹوریہ سے پہلے کہیں نہیں پائی گئی کیونکہ غیرمقلدین کا فرقہ کہیں نہیں تھا ۔

📍 *نوٹ :* تقلید کی تعریف میں الدلیل کا لفظ آتا ہے ، اس سے وہ خاص دلیل مراد ہوتی ہے جو بوقت اجتہاد مجتہد کے پیش نظر تھی اور دلیل تفصیلی اسے کہتے ہیں جو منع اور نقص سے ثابت ہو ۔

⚜ *تقلید :* مجتہد نے جو مسئلہ کتاب و سنت سے نکالا ، اس سے اس کی خاص دلیل تفصیلی کا مطالبہ کئے بغیر اس بادلیل مسئلہ کو بلامطالبہ دلیل ماننا اور مجتہد کی راہنمائی میں کتاب و سنت پر عمل کرنا تقلید کہلاتا ہے ۔

🌻 *نوٹ :* آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں پورے یمن میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی تقلید شخصی ہوتی تھی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم تابعین اور تبع تابعین رحهم اللہ تعالی علیہ کے دور میں سب لوگ اپنے شہر کے مجتہد مفتی کی تقلید شخصی کرتے تھے۔
چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم تابعین اور تبع تابعین رحهم اللہ تعالی علیہ میں غیرمقلدیت کا نام و نشان تک نہ تھا اس لئے غیرمقلدین کے بدعتی ہونے میں کوئی شک نہیں ۔

🔰 *سوال نمبر 6:*
شامی شریف جو مذہب حنفی کی فقہ کی معتبر کتاب ہے ۔ سنا ہے کہ اس میں یہ مذکور ہے کہ چاروں اماموں نے اپنا مذہب قرآن و حدیث بتایا ہے ۔ پس قرآن و حدیث پر عمل کرنا ، ان کی تابعداری کرنا چاہئے یا قرآن و حدیث پر عمل چھوڑکر ان کے اقوال کو ماننا ، ان کی تقلید کرنا چاہیئے ؟

🌼 *جواب :* ائمہ اربعہ رحمہ اللہ سے فقہ کے جو اصول متواتر ہیں ان میں مسائل ہیں دلائل نہیں تو بلاذکر دلائل مسائل کو جمع کرانا اور اس پر متواتر عمل ہونا یہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ سے جواز تقلید کا متواتر ثبوت ہے ۔ ہر کہ شک آرد کافر گردد ۔ البتہ انہوں نے مجتہدین کو فرمایا کہ مجتہد پر اجتہاد واجب ہے ، تقلید حرام ۔ اس حکم کو عوام پر چسپاں کرنا یحرفون الکلم عن مواضعه كی بدترین مثال ہے ۔
🌸 *سوال نمبر 7:*
چاروں ائمہ سے پہلے بھی یہ تقلید جاری تھی یا نہیں ؟ اور تھی تو کس کی ؟

🌺 *جواب :* فقہ کے اصوال بالاتفاق چار ہیں : کتاب و سنت ، اجماع و قیاس ۔ مجتہد ان چاروں دلائل سے مسائل لیتا ہے اور مقلد بھی انہی مسائل پر عمل کرتا ہے ، جو مجتہد نے ان چاروں میں سے کسی بھی دلیل سے لئے ہوں ، جیسے کامل اجتہاد کی بنیاد چار دلیلیں ہیں ، اسی طرح کامل مجتہد کی راہنمائی میں کتاب و سنت پر عمل کیا جائے ۔

🌹 *سوال نمبر 8:*
اگر چاروں اماموں سے پہلے تقلید جاری تھی تو کس امام کی تقلید جاری تھی اور اس وقت امام کی تقلید فرض ، واجب یا مباح تھی یا نہیں ؟ اگر تھی تو کیوں ؟ اور نہیں تو کیوں ؟ اور پھر منسوخ کیوں ہوئی ؟

🔅 *جواب :* چاروں اماموں سے پہلے بھی ہر قوم اپنی قوم کے فقیہ کی تقلید کرتی تھی ۔
 لیفقهوا فی الدين و لینذروا قومهم اذا رجعوا الیهم لعلهم یحذرون
 ( سورۃ التوبہ آیت : 122 )

چاروں اماموں سے پہلے اپنے علاقے یا قوم کے مجتہد کی تقلید ہوتی تھی :
لعلمه الذین یستنبطونه منهم
( سورۃ النساء آیت : 83 )

🌷 اس وقت واجب تھی لیکن چونکہ ان کے مذاہب مدون نہ تھے اور نہ عمل متواتر ہوا ، اس لئے ان کی وفات کے بعد ان کا مذہب مٹ گیا ، تقلید ختم ہوگئی جیسے مسجد کے امام کی وفات کے بعد اقتداء ختم ہوجاتی ہے ۔
🏵 *سوال نمبر 9:*
چاروں اماموں سے پہلے جس امام کی تقلید جاری تھی اس کا نام کیا ہے ؟ اور اب بھی اس امام کی تقلید فرض ، واجب یا مباح ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں ؟ کب منع ہوئی؟ کس نے منع کی ؟ اور پھر کس نے اس منصب پر ائمہ کو پہنچایا ؟

🎯 *جواب :* ائمہ اربعہ رحمہ اللہ سے پہلے مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، ان کے بعد حضرت عطاء رحمہ اللہ کی تقلید ہوتی رہی مدینہ میں اپنی اپنی خلافت میں خلفاء راشدین رضی الله عنهم ، زید بن ثابت ، ان کے بعد فقہاء سبعہ کی تقلید ہوتی رہی ، کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، انکے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی تقلید ہوتی رہی ، بصرہ میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی تقلید ہوتی رہی ، ان کے چونکہ مذاہب مدون نہ ہوسکے اس لئے ان کے جو مسائل عملا متواتر تھے ان کو ائمہ اربعہ نے اپنی فقہ میں لے لیا ، جو ان سے شاذ اقوال مروی تھے ان کو ترک کردیا ، یہ ایسے ہی ہے
جیسے صحابہ رضی اللہ عنهم کے زمانہ میں بہت سے قاری تھے مگر انہوں نے اپنی قرأت کو مکمل طور پر مدون نہ فرمایا ، پھر سات قاریوں نے صحابہ رضی اللہ عنهم کی متواتر قرأت کو مدون کیا ، شاذ و متروک قرأت کو ترک کردیا ، اب ان سات متواتر قرأتوں میں تلاوت کرنے میں صحابہ رضی اللہ عنهم کی متواتر قرأت پر عمل ہورہا ہے ، البتہ ان سات قرأتوں کے علاوہ کوئی قرأت صحابہ رضی اللہ عنهم کی طرف منسوب ہو تو اس کی تلاوت جائز نہیں کیونکہ متواتر کے خلاف شاذ واجب الترک ہے ۔ اسی طرح صحابہ رضی اللہ عنهم کے متواتر فقہی مسائل پر ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کی تقلید میں عمل ہورہا ہے ، ان متواترات کے خلاف کوئی شاذ قول کسی صحابی رضی اللہ عنه ، مجتہد یا تابعی کی طرف منقول ہو تو اس پر عمل جائز نہیں کیونکہ متواتر کے خلاف شاذ واجب الترک ہے ۔

💎 *سوال نمبر 10:*
اجماع کی تعریف کیا ہے ؟ اور اجماع کن لوگوں کا معتبر ہے ؟ کیا تقلید شخصی پر اجماع ہوا ؟ اگر ہوا ہے تو کب ، کہاں اور کن کا ؟

📌 *جواب :* ہم عصر مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر اتفاق کرنا اجماع کہلاتا ہے اور اس پر متواتر عمل ہونے سے اس کا متواتر ثبوت ہوتا ہے جیسے اہل فن نےاجماع کیا کہ : کل فاعل مرفوع : سب جگہ اہل فن فاعل پر رفع پڑھتے چلے آرہے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات اہل فن کے ہاں اجماعی ہے ۔ اسی طرح خیرالقرون کے بعد ہر جگہ کسی نہ کسی امام کی تقلید شخصی پر متواتر عمل جاری رہا ، یہی اس کے اجماع پر قوی ترین دلیل ہے ۔

🛡 *سوال نمبر 11:*
مجتہد کس کو کہتے ہیں؟ کیا ہر مجتہد کی تقلید فرض ہوتی ہے ؟ چودہ سو سالوں میں اسلام میں مجتہد کیا صرف چار ہی ہوئے ہیں ؟ صحابہ رضی اللہ عنهم، تابعین رحمہ اللہ تو شاید اجتہاد کے درجہ سے محروم ہی رہے ہوں گے ؟ پھر ان چاروں ائمہ میں سے ایک کی تقلید کس ترجیح کی بناء پر ہے ؟

💐 *جواب :* یاد رہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تو شرعی حکام معلوم کرنے کے 3 تین طریقے تھے : جو لوگ ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے وہ ہر مسئلہ دریافت کرلیتے ، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہوتے وہ اگر مجتہد ہوتے تو اجتہاد کرتے جیسے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں ، جو مجتہد نہ ہوتے تو وہ اپنے علاقے کے مجتہد کی تقلید کرتے جیسے اہل یمن ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد دو طریقے باقی رہے : مجتہدین اجتہاد کرتے اور غیر مجتہدین تقلید کرتے ۔ خیرالقرون کے بعد اجتہاد کی ضرورت باقی نہ رہی اس لئے وہ ختم ہوگیا ، اس کے بعد صرف تقلید ہی باقی رہ گئی : یہ تقلید شروع سے پہلے دن سے ہے ۔ خیرالقرون میں کچھ مجتہدین ہوتے تھے ، اب صرف مقلدین باقی رہ گئے ہیں ، یہ تفصیل مقدمہ ابن خلدون میں ہے ۔ اس اجماع میں عملآ تمام محدثین ، مفکرین ، فقہاء ، سلاطین شامل ہیں جیسا کہ کتب طبقات سے روز روشن کی طرح واضح ہے ۔

🔮 ہمارا سوال غیرمقلدین سے ہے کہ قرآن و حدیث سے جواب دیں کہ اجماع کی تعریف کیا ہے ؟ اجماع کن کا اور بخاری کی اصح کتب ہونے پر اجماع کب ہوا اور کہاں ہوا اور کن کا ہوا ؟

💟 *سوال نمبر 12:*
چاروں مذکورہ بالا اماموں میں سے فلاں ایک ہی کے مسائل سچے ہیں ، اس کا علم مقلد کو کیسے حاصل ہوا ؟

🏮 *جواب :* جس طرح علم حساب کا ۔ مجتہد اسے کہتے ہیں جو قواعد حساب کا واضع ہو ، اسی طرح جو کتاب و سنت سے قواعد کا استنباط کرسکے اس کو مجتہد کہتے ہیں جیسے صحابہ رضی اللہ عنهم میں بہت قاری ہوئے لیکن انہوں نے اپنی قرأتوں کو مدون کیا ۔ اسی طرح ائمہ اربعہ رحمہ اللہ سے پہلے صحابہ رضی اللہ عنهم و تابعین رحمہ اللہ میں بہت مجتہد گزرے لیکن انہوں نے اپنے مذاہب کو مکمل طور پر مرتب نہ کروایا ، البتہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ نے ان کے متواتر احکام کو مرتب کرلیا جس طرح سات قرأتوں میں سے کسی قرأت پر بھی قرآن پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنهم والا قرآن پڑھنا ہی ہے ، اسی طرح چاروں اماموں میں سے کسی کی تقلید کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنهم کے طریقے پر عمل کرنا ہے ۔ ہاں چاروں اماموں میں سے جس امام کا مذہب درسآ اور عملآ متواتر ہوگا اسی کی تقلید کی جائے گی جیسے سات قاریوں میں سے جس قاری کی قرأت ہمارے ملک میں تلاوتآ متواتر ہوگی اسی پر تلاوت کی جائے گی۔

✅ *سوال نمبر 13:*
ان چاروں ائمہ کی تعلیم بذریعہ وحی ہوئی یا اور ائمہ سے انہوں نے پڑھا ؟ اگر بذریعہ وحی ہوئی تو ان میں اور نبی میں کیا فرق رہا ؟ اور اگر بذریعہ اور ائمہ ہوئی تو ان کے استاد افضل تھے یا مفضول ؟ اگر افضل تھے ان کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی ؟

☸ *جواب :* جس امام کا مذہب جس علاقے میں متواتر ہوگا اس پر مقلد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس عقیدہ سے عمل کرے گا کہ مجتہد صواب کو پہنچتا ہے اور خطاء کو بھی ، اس لئے مجتہد کا عمل یقینی ہے ، مقبول ہے ، جیسے تحری فی القبلہ والے کی نماز یقینآ مقبول ہے اور ایک اجر کا پکا یقین ہے ۔ چونکہ مجتہد فقط خطاء پر ماجور ہے اور دوسرے اجر کی مجتہد اور مقلد کی خدا کی رحمت واسعہ سے امید ہے ۔ اس کے برعکس غیرمقلدین کا عمل جو محض خودرائی پر مبنی ہے ۔ خودرائی کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں ، وہ یقینآ مردود ہے اور اس پر گناہ لازم ہے ، وہ نیکی برباد گناه لازم کا مصداق ہے ۔

❇ *سوال نمبر 14:*
یہ چاروں ائمہ افضل تھے یا چاروں خلفاء ؟ جب ان چار ائمہ کی تقلید فرض ہو تو ان چار خلفاء کی ڈبل فرض کیوں نہ ہو ؟

✳ *جواب :* ائمہ پر وحی نازل نہیں ہوتی لیکن مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھنے اور سمجھانے میں ماہر ہوتے ہیں ، ان کے اساتذہ کے متواتر مسائل ان کی فقہ میں آگئے جیسے صحاح ستہ والوں کے اساتذہ کی حدیثیں صحاح ستہ میں آگئیں ۔ ساتوں قاریوں کے اساتذہ کی قرأتیں سات قرأتوں میں آگئیں۔ اسی طرح قاری عاصم رحمہ اللہ کی قرأت پڑھنے سے ان کے اساتذہ کی قرأت پڑھی گئی اور ہر امام کی تقلید کرنے میں ان کے اساتذہ کے مسائل پر بھی عمل ہورہا ہے۔

⚜ *سوال نمبر 15:*
قران و حدیث پر عمل کرنا عامی آدمیوں پر فرض ہے یا مجتہدوں اور اماموں پر بھی فرض ہے ؟ کیا جتنا فرق ہم میں اور اماموں میں ہے اتنا اماموں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں ؟

🌻 *جواب :* چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم ائمہ رحمہ اللہ کے پیشوا اور افضل ہیں ، ان کی حیات میں ان کے اجتہادی مسائل کی تقلید ہوتی رہی لیکن چونکہ ان کے مذاہب مدون نہ ہوئے اس لئے ائمہ رحمہ اللہ نے ان کے متواتر مسائل کو مدون کرلیا ۔ اب ان ائمہ کرام رحمہ اللہ کے ذریعے ان کے مسائل پر بھی عمل ہورہا ہے جیسے ساتوں قرأتوں میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی قرأتیں بھی پڑھی جارہی ہیں ۔

📍 *اب غیرمقلدین سے ہمارا سوال 1 :*
حدیث کی کتابیں صحاح ستہ والوں نے وحی سے مرتب کیں یا استادوں سے سن کر ؟ ان کے استاد ان سے افضل تھے یا نہیں ؟ پھر ان کے استادوں کی کتابوں کو صحاح ستہ سے کیوں خارج کیا گیا ؟

🔰 *غیرمقلدین سے ہمارا سوال 2 :*
صحاح ستہ والے افضل تھے یا خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم ؟ تو پھر خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی کتابوں کو صحاح ستہ میں کیوں شامل نہ کیا گیا ؟

🌼 *غیرمقلدین سے ہمارا سوال 3:*
سات قاری افضل تھے یا خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم ؟ کیا آپ کے خیال میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنهم کی قرأتوں سے خارج کردیا تو کیوں ؟

🌸 *سوال نمبر 16:*
جو ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے علاوہ ہیں ان کی تقلید فرض ، واجب یا مباح ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں ؟ حالانکہ وہ ان کے استاد ہیں ۔ علم میں ، ادب میں ، زہد میں ، فقہ میں ، اجتہاد و تقوی میں ان سے بڑے ہیں ۔ یہ ان کی بزرگی کے قائل تھی ، ان کا ادب کرتے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کی تقلید نہ کرکے نیچے والوں کی تقلید کرنا کون سی عقلمندی ہے ؟

🌺 *جواب :* کتاب و سنت پر عمل کرنا مجتہد پر فرض ہے اور مقلد پر بھی فرض ہے لیکن مجتہد اپنے اجتہاد کی روشنی میں عمل کرتا ہے اور مقلد ان کی راہنمائی میں کتاب و سنت پر عمل کرتا ہے جیسے آنکھوں والا چاند کو دیکھ کر روزہ رکھتا ہے اور نابینا پوچھ کر ، جیسے نماز میں قبلہ رو ہونا بینا اور نابینا دونوں پر فرض ہے ، بینا دیکھ کر اور نابینا بینا سے پوچھ کر ۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام مجتہد سے انتہائی زیادہ ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع مسائل منصوصہ غیر معارضہ محکمہ میں ہے ، مجتہد کی اتباع ان مسائل میں ہے جہاں اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحت نہیں ملی ، اس لئے یہاں مقابلے کی صورت ہی نہیں ہے ۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات