part 3* غیرمقلدین کے تقلید کے متعلق پچاس سوالات کے جوابات
🔴 *part 3*
غیرمقلدین کے تقلید کے متعلق پچاس سوالات کے جوابات
🌟 *مناظر اسلام مولانا محمد امین صفدر اکاڑوی*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
🌻 *سوال نمبر 36:*
مجتہد کو بھی تقلید کرنے کا حق ہے یا نہیں ؟
📍 *جواب :* مجتہد پر اجتہاد واجب ہے اور اپنے جیسے مجتہد کی تقلید حرام ہے۔ ہاں اپنے سے بڑے مجتہد کی تقلید جائز ہے یا نہیں، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جواز کے قائل ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عدم جواز کے۔
🔰 *سوال نمبر 37:*
صحیح احادیث پر عمل ہر مجتہد کو اور اس کے بعد والوں کو کرنا چاہئے یا بٹوارہ کرلیں کہ ان احادیث پر تم عمل کرو ، ان پر ہم عمل کریں گے وغیرہ۔
🌼 *جواب :* احادیث کی دو قسمیں ہیں. متعارض اور غیر متعارض ۔ غیر متعارض احادیث پر سب عمل کرتے ہیں البتہ متعارض احادیث میں تمام احادیث پر عمل ممکن نہیں ، اس لئے احادیث راجح پر عمل کیا جاتا ہے ، ہم ان احادیث کو راجح قرار دیتے ہیں جن کو امام صاحب رحمہ اللہ نے صحابہ رضی اللہ عنهم کے پیمانہ عمل کو دیکھ کر راجح قرار دیا اور غیر مقلدین ان احادیث کو راجح قرار دیتے ہیں جو صحابہ رضی اللہ عنهم اور تابعین کرام رحمہ اللہ میں متروک العمل تھیں۔
🌸 *سوال نمبر 38:*
چاروں امام بھی مقلد تھے یا نہیں ؟ اور مقلد تھے تو کس کے ؟ اور نہیں تھے تو کیوں ؟
🌺 *جواب :* چاروں امام مجتہد تھے ۔ مجتہد پر اجتہاد واجب ہے نہ کہ تقلید .
🌹 *سوال نمبر 39:*
اللہ را ذرا یہ بھی بتایئے کہ کسی امام کی طرف نسبت کرلینا یعنی شافعی ، مالکی ، حنبلی یہ خود اماموں کی تعلیم ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو وہ عبارت کس کتاب میں ہے؟
🔅 *جواب :* یہ نسبتیں عثمانی ، علوی ، حنفی ، شافعی مسلمانوں میں بلانکیر جاری ہیں ، اس سے ثابت ہوا کہ ان کی صحت پر اجماع ہے اور اجماع دلیل شرعی ہے ۔ آپ بھی فرمائیں : کیا امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ میری کتاب کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہو؟ امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ فرمان کس کتاب میں ہے ؟ اور کیا ان چھ محدثین نے کہا تھا کہ ہماری کتابوں کو صحاح ستہ کہنا ؟ ان کا فرمان کس کتاب میں ہے ؟ اور کیا امام بخاری و مسلم رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ جس حدیث کو ہم دونوں لکھیں اس کو متفق علیہ کہنا ؟ ان کا یہ قول کس کتاب میں ہے ؟
🌷 *سوال نمبر 40:*
اگر چاروں ائمہ مسائل قرآن و حدیث سے لیتے رہے تو ہمیں قرآن و حدیٹ سے مسائل لینے میں غیر مقلدین بن جانے کا خوف کیوں ہو ؟
🏵 *جواب :* چاروں امام مجتہد تھے اس لئے وہ کتاب و سنت سے مسائل استنباط کرسکتے تھے ۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ مجتہد پر اجتہاد واجب ہے لیکن جو لوگ اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتے وہ براہ راست یعنی ناقص رائے سے کتاب و سنت سے مسائل لیں گے، بمطابق حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :: اذا وسد الأمر الی عیر أھله فانتظر ساعة :: بخاری ص 14 ج 1 :: تو وہ دین پر قیامت ڈھائیں گے، اگر وہ نااہل ہوکر مجتہد بنیں گے تو بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان ہوں گے کیونکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیعت لیتے تو یہ شرط ہوتی تھی :: أن لا تنازع الأمر أھله :: بخاری ص 1069 ج 2 = نسائی ص 159 ج 2 :: مفھوم : ہم کسی امر کے اہل سی جگھڑا نہیں کریں گے:: جیسے کسی ان پڑھ جاہل کو ڈاکٹری کی کتاب سے نسخے لکھ کر علاج کرنا جرم ہے ، کسی نااہل کمہار کو ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف قانون کی تشریح کرنا جرم ہے اور ایسا شخص توہین عدالت کا مستحق ہے ۔ اسی طرح نااہل غیرمقلد کا براہ راست کتاب و سنت کو گھسیٹنا کتاب و سنت کی توہین ہے ۔ اگر غیر مقلد یہ کہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ قرآن و حدیث میں اپنی سمجھ کی مطابق عمل کرے تو مرزا :قادیانی ملعون: کو کیسے غلط کہیں گے ؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے وفات مسیح قرآن سے سیکھی ::العیاذ بالله :: منکرین حدیث کو کیسے غلط کہیں گے ؟ کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت برحق ہے اور زندگی میں تھی ۔ جیسے ہر حاکم کی اطاعت موت کے بعد ختم ہوجاتی ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی وفات کے بعد باقی نہیں رہی ۔ العیاذ بالله۔
🎯 *سوال نمبر 41:*
تقلید فرض ہے یا واجب یا مباح ، تو کن لوگوں کے لئے اور کیوں ؟
💎 *جواب :* تقلید مطلق واجب بالذات ہے اور تقلید شخصی واجب بالغیر اور اس مجتہد کی تقلید ہوگی ،جس کا مذہب اس علاقے میں مدون اور متواتر ہوگا.
📌 *نوٹ :* واجب بالذات کے لئے نص کی ضرورت ہے لیکن واجب بالغیر کے لئے نص کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس کو فقہ میں :: مقدمة الواجب واجب:: کہتے ہیں ، جیسے نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے اس لئے کہ اس کی نص موجود ہے ، نماز میں فاتحہ نہ ہو تو نماز ناقص ہے لیکن یہاں کے لوگ اس واجب کو ادا نہ کرسکتے جب تک سورۂ فاتحہ پر اعراب اوقاف نہ لگے ہوں ، اس لئے فاتحہ واجب بالذات ہے لیکن ان کے اعراب اوقاف واجب بالغیر ہے ۔ اس لئے فاتحہ واجب بالذات ہے لیکن بغیر واجب بالغیر ادا نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح شرعآ مجتہد چاروں ہیں لیکن تکوینآ جس کا مذہب متواتر ہوگا تقلید اسی کی واجب ہوگی.
🛡 *سوال نمبر 42:*
یہ جو فقہ کی کتابوں میں ہے کہ عامی کا مذہب نہیں۔ اس کے کیا معنی ؟ پھر تو حنفی ہوکر بھی حنفی نہ رہے ؟
💐 *جواب :* شامی میں لکھا ہے کہ عامی کا مذہب نہیں ہوتا ۔ ہاں جس مفتی کا التزام کرلے اس کے مذہب کی طرف منسوب ہوگا اور اگر کسی مفتی کا التزام نہ کرے تو لامذہب ہی رہے گا ، اس لئے مقلد تقلید کے بعد صاحب مذہب ہوتا ہے لیکن غیر مقلد ساری عمر لامذہب ہوتا ہے ۔
🔮 *سوال نمبر 43:*
مقلد قرآن و حدیث کا مطلب سمجھ سکتا ہے یا نہیں ؟ حالانکہ ہماری فقہ کی کتابوں میں ہے کہ مقلد قرآن و حدیث سے دلیل لے ہی نہیں سکتا پھر تو گویا قرآن و حدیث منسوخ اور بے کار ہیں ، اگر لے سکتا ہے تو تقلید کی ضرورت ہی کیا ؟ اگر نہیں لے سکتا تو قرآن و حدیث ہی کیا ؟
💟 *جواب :* مجتہد اور مقلد میں مابہ الامتیاز استنباط اور اجتہاد ہے ۔ مجتہد کتاب و سنت سے نئے پیش آمدہ مسائل اخذ کرسکتا ہے لیکن مقلد نہیں کرسکتا ۔ ہاں مجتہد کی راہنمائی میں ان مسائل پر عمل کرسکتا ہے جو مجتہد کتاب و سنت سے اخذ کرتے ہیں ۔ اس کو یوں سمجھیں کہ ڈاکٹری کی کتاب مریضوں کے علاج کے لئے ہے لیکن خود مریض اس سے نسخہ نہیں لکھ سکتا ، نسخہ ماہر ڈاکٹر ہی لکھے گا ۔ کتاب و سنت کے جو مسائل نص سے سمجھ آتے ہیں وہ ہر ترجمہ جاننے والا جانتا ہے لیکن مسائل کے وہ الفاظ جو ان کی تہہ میں ہیں ان کو نکال کر لانا ہو تو اس کے لئے غوطہ خور کی ضرورت ہے جو خود غوطہ خور نہیں وہ موتی کے لئے غوطہ لگائے تو وہ موتی نہیں لائے گا بلکہ ڈوب جائے گا۔ جیسے ڈاکٹری کی کتابیں بے فائدہ نہیں لیکن ڈاکٹر کے لئے لکھی گئی ہیں نہ کہ کمہاروں کے لئے ، قانون کی کتابیں بے فائدہ نہیں لیکن ان کو سمجھنا وکیل کا کام ہے نہ کہ چمار کا۔
جس کا کام اسی کو ساجھے
نہیں تو ٹھینگا باجے
🏮 *سوال نمبر 44:*
مقلد قرآن و حدیث سے دلیل پکڑسکتا ہے یا نہیں ؟
✅ *جواب :* مقلد اور مجتہد میں مابہ الامتیاز نیا مسئلہ تلاش کرنا ہے ، یہ مقلد نہیں کرسکتا البتہ تلاش شدہ مسائل کے لئے کتاب و سنت کے دلائل تلاش کرسکتا ہے ، چناچہ امام طحاوی رحمہ اللہ ، صاحب ہدایہ رحمہ اللہ ، علامہ عینی رحمہ اللہ ، ملا علی قاری رحمہ اللہ ، علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ، علامہ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ باوجود مقلد ہونے کے مسائل کے ساتھ کتاب و سنت کے دلائل ذکر کرتے ہیں ۔ مقلد کی تعریف میں عدم علم شامل نہیں ، ہاں مجتہد سے اس کی خاص دلیل کا مطالبہ مقلد نہیں کرتا جیسے امتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کے بعد جزئیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الجھے ، کہ اس مسئلہ کی دلیل دو گے تو عمل کروں گا ورنہ نہ کروں گا ۔امتی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلامطالبہ دلیل مسئلہ تسلیم کرلیتا ہے ۔ اپنی تسکین قلب کے لئے کوئی دلائل جمع کرلے یا مخالفین کی زبان بندی کے لئے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسائل پر دلائل بیان کرے ، اس سے وہ امتی ہونے سے نہیں نکلتا بلکہ اعلی درجہ کا امتی شمار ہوتا ہے ۔ اسی طرح مقلد اپنے امام سے بلامطالبہ دلیل تسلیم کرلے ، اپنے تسکین قلب کے لئے خود اس کے دلائل تلاش کرے یا مخالفین کی زبان بندی کے لئے امام کے مسئلے بیان کردے تو وہ اپنے امام مجتہد کا نافرمان نہیں ہوگا بلکہ اپنے امام مجتہد کا اعلی درجہ کا وفادار ہوگا ۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید میں ہے مزہ
کیوں میں چباؤں پتے ثمر چھوڑ کر ؟
☸ *سوال نمبر 45:*
چار مصلے مکہ معظمہ میں خاص خانہ کعبہ میں قائم ہوئے تھے ، ان کو کس نے قائم کیا تھا اور کیوں قائم کیا اور کب قائم کیا؟ کیا اس سے مسلمانوں کے دین کے ٹکڑے نہیں ہوئے ؟ اور اماموں نے اسے کیوں قائم نہ کیا بلکہ یہ ساتویں صدی کی بدعت ہے ۔
❇ *جواب :* ساتویں صدی سے لے کر 1365ھ تک مکہ مکرمہ میں چار مصلے رہے جس سے پوری دنیا پر واضح رہا کہ اہل سنت کے چار مذاہب ہیں ۔ ان کا فائدہ یہ تھا کہ اہل سنت کے نام سے کوئی فرقہ نیا نہیں بن سکتا ۔ جس ملک میں نیا فرقہ بنتا لوگ فورآ پوچھتے خانہ کعبہ میں تمھارا کون سا مصلی ہے ؟ جب وہ نہ بتاسکتا تو ان کا فتنہ وہیں ختم ہوجاتا ۔ 1365ھ میں نجدی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے ایک حنبلی مصلی باقی رکھا ۔ کعبہ میں جب چار 4 مصلے تھے تو غیرمقلدوں کا مصلی اس وقت بھی نہ تھا ، اب ایک ہے وہ بھی مقلدوں کا ہے غیر مقلدوں کا اب بھی نہیں ۔ اس لئے غیر مقلدوں کا تعلق کبھی بھی نہ رہا ۔ آج جو غیر مقلد شور مچاتے ہیں کہ وہاں کا امام رفع یدین کرتا ہے ، وہ رفع یدین غیر مقلدین کا امتیازی نشان نہیں وہ حنبلی ، شافعی بھی کرتے ہیں ۔ غیر مقلدین یہ بتائیں کہ تقریبآ چھ 600 سو سال خانہ کعبہ میں چار 4 مصلے رہے کیا چاروں حق تھے یا نہیں ؟ اگر صدیوں تک وہاں ناحق رہ سکتا ہے تو یہ حکومت جس کی ابھی ایک صدی مکمل نہیں ہوئی ان کا طریقہ ناحق ہوسکتا ہے یا نہیں ؟؟ ہم 4 چاروں کو برحق مانتے ہیں ۔ غیر مقلدین تقلید کو شرک کہتے ہیں وہ بتائیں کم از کم چھ 600 سو سال کعبہ میں شرک ہوتا رہا ؟ کعبہ اس وقت کعبہ بھی تھا یا نہیں ؟؟
✳ *سوال نمبر 46:*
جب کہ ہمارے نزدیک چاروں مذاہب برحق ہیں پھر اہل حدیث کو جو ایک برحق مذہب ہے کے مطابق آمین ، رفع یدین ، اور سورۂ فاتحہ بجالاتے ہیں ، کیوں روکا جائے ؟
⚜ *جواب :* چاروں مذاہب برحق ہیں ، ان کی مثال جیسے چار کھیت ہوں اور ان میں سے وہ آدمی جس کا کھیت نہیں وہ مانگ کر گنا لے لے ، یقینآ حلال ہے لیکن غیر مقلدوں کی طرح گنا ایک کھیت سے چوری کرلیا ، آلو دوسرے کھیت سے چوری کرلئے ، لکڑیاں تیسرے کھیت سے چوری کرلیں ، یہ چوری کا مال یقینآ حرام ہے ۔ وہ چاروں مذاہب ہیں ، غیر مقلدیت چوری ڈاکہ کی مارکیٹ ہے ۔ اتنی بے غیرتی ہے کہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کو دین کے ٹکڑے کرنے والا کہا جاتا ہے اور انکے مسائل چوری کرکے نماز میں شامل کئے جاتے ہیں ، ہم اسے نمک حرامی کہتے ہیں ۔ انسان جس دیگ سے کھائے اسی میں پیشاب کرے ، کتا جہاں سے کھاتا ہے ان کو نہیں بھونکتا ہے ۔
غیرمقلد ایسا باؤلا کتا ہے جہاں سے کھاتا ہے انہی کو کاٹتا ہے
عواء الکلب لایظلم البدر
کتے کا بھونکنا چاند کی روشنی کو ختم نہیں کرتا
🌻 *سوال نمبر 47:*
اہل سنت والجماعت کی کیا تعریف ہے ؟ جب کہ مقلد نہ سنت سے دلیل لے سکے نہ جماعت صحابہ کے اجماع سے ، پھر اہل سنت کیوں کہا جائے ؟
📍 *جواب :*'اہل سنت وہ لوگ ہیں جو دلائل کو مانتے ہیں ۔ سنت میں علم قرآن کا اور نمونہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا ، والجماعت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کا اجماع جس کی پہچان ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے اجماع سے ہوتی ہے اور حنفی ، شافعی میں اجتہادی مسائل اور ہمارے لئے اجماعی مسائل حجت قاطعہ ہیں اور اجتہادی اختلافی مسائل رحمت واسعہ ہیں ۔ یہ کہنا کہ مقلد کتاب و سنت یا اجماع کو نہیں مانتا ، یہ جھوٹ ہے ۔
فقہ حنفی کے چار اساس
کتاب و سنت اجماع و قیاس شرعی
🔰 *سوال نمبر 48:* اہلحدیث صرف کتاب و سنت پر عمل کرنے والی جماعت ہے ۔ جب سے کتاب و سنت ہے تب سے یہ ہے یا بعد میں اس کا عامل کوئی نہیں رہا تھا یعنی کتاب اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی کا عمل ہی نہ تھا حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کے عامل قیامت تک رہیں گے۔
🌼 *جواب :* اہلحدیث انگریز کے دور سے پہلے کسی مذہبی فرقہ کا نام نہ تھا بلکہ ایک علمی طبقہ کا نام تھا جیسے محدث یا شیخ الحدیث کو اہل حدیث یا اصحاب الحدیث کہتے تھے ۔ اسی طرح انگریز سے پہلے اہل قرآن کسی مذہبی فرقے کا نام نہ تھا بلکہ ایک علمی طبقہ کا نام تھا جو قرآن کا حافظ ہو ۔ اس لئے اہل قرآن ، اہلحدیث بحیثیت فرقہ انگریز سے پہلے کہیں وجود میں نہ تھا ۔ مذہبی فرقے اور علمی طبقے کے نام میں ایک واضح فرق ہوتا ہے ، مذہبی فرقے کا نام ہر عالم ، جاہل ، بچے ، بوڑھے پر بولا جاتا ہے جیسے عالم سنی ، جاہل بھی سنی ، بچہ بھی سنی ۔ علمی طبقے کا نام ، جب تک علم حاصل نہ کرے ، اس پر استعمال نہیں ہوتا ، مثلا شیخ الحدیث کے بیٹے کو شیخ الحدیث نہیں کہتے جب تک علم حاصل نہ کرے ، سائنس دان کی بیوی کو سائنس دان نہیں کہتے جب تک وہ سائنس نہ پڑھے ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر تمھارا دعوی ہے کہ انگریز سے پہلے اہلحدیث کسی فرقے کا نام تھا تو صرف ایک حوالہ دیں کہ انگریز سے پہلے کسی ان پڑھ کو اہلحدیث یا اہل قرآن کہا گیا ہو ؟؟؟ ہم فی حوالہ آپ کو دس 10،00،000لاکھ روپے انعام دیں گے ۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
🌸 *سوال نمبر 49:*
قیامت کے دن حمد کا جھنڈا صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہی ہوگا یا ان چاروں اماموں کے بھی جھنڈے الگ لہرارہے ہوں گے ؟ حوض کوثر صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہوگا یا چاروں اماموں کے بھی ہوں گے ؟ اگر یہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے تو پھر ہم دنیا میں کیوں ادھر ادھر منہ ماریں ؟
🌺 *جواب :* قیامت کے دن حمد کا جھنڈا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہوگا اس کے نیچے سارے امام مقلدین سمیت ہوں گے ، اسی طرح حوض کوثر پر بھی سب حاضر ہوں گے ۔ امام شعرانی رحمہ اللہ نے قیامت کا نقشہ جو اپنے کشوف سے مرتب کیا ہے اس میں حنفی ، شافعی سب مقلدین تو میدان قیامت میں پل صراط پر بھی اور جنت کے دروازے میں بھی دکھائے گئے ہیں ۔ غیرمقلدین کا وہاں نام و نشان تک نہیں وہ پہلے ہی دوزخ میں گرچکے ہوں گے ۔
نہ خدا ہی ملا ، نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے ، نہ ادھر کے رہے
🌹 *سوال نمبر 50:*
اگر کسی امام کے پاس صحیح حدیث پہنچے اور وہ اس امام کے قول کے خلاف ہو تو اسے کیا کرنا چاہئے ؟ اور جو یہ کہہ کر حدیث کو ٹال دے کہ یہ میرے مذہب میں نہیں ، وہ مسلمان رہا یا اسلام سے خارج ہوگیا ؟ اور ایسے وقت مقلد کو کیا کرنا چاہئے ؟
🔅 *جواب :* اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کتاب و سنت فقہاء سے سمجھنے چاہئیں اس لئے اگر عامی کو حدیث ملے تو فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم
فرب حامل فقه الی من هو أفقه منه و رب حامل فقه لیس بفقیه
( ترمذی شریف ابواب العلم ص 94 ، ج 2:) کے مطابق فقیہ کے پاس لے جانی چاہئے اس لئے غیر مقلدین فقہاء سے سمجھنے کی بجائے اپنی رائے سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں وہ فقہاء کے نہیں بلکہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان ہوتے ہیں ۔ آپ تحریر کرلیں غیرمقلدین کو یہ حدیث دکھائیں جو ان کے عقیدہ کے خلاف ہو وہ کبھی اس پر عمل نہ کریں گے اور کہیں گے لکھ دو ، ہم اپنے مولوی : غیرفقیہ : سے سمجھیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقیہ سے سمجھنے کا حکم دیا ، وہ خود غیر فقیہ ہیں اور غیر فقیہ کے پاس جاتے ہیں ۔
محدث بن کے دنیا میں ہوئے ظاہر جو البانی
سلف کو چھوڑ کر ہونے لگی تقلید البانی
اور
بنے پھرتے ہیں علامے حکیم و ڈاکٹر کوئی
ذکر اسلاف کا لیکن نئی رسموں کے یہ بانی
⚡ *انتخاب*
کتاب تجلیات صفدر ج 3 صفحه نمبر 404 تا 439 تک
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦
غیرمقلدین کے تقلید کے متعلق پچاس سوالات کے جوابات
🌟 *مناظر اسلام مولانا محمد امین صفدر اکاڑوی*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
🌻 *سوال نمبر 36:*
مجتہد کو بھی تقلید کرنے کا حق ہے یا نہیں ؟
📍 *جواب :* مجتہد پر اجتہاد واجب ہے اور اپنے جیسے مجتہد کی تقلید حرام ہے۔ ہاں اپنے سے بڑے مجتہد کی تقلید جائز ہے یا نہیں، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جواز کے قائل ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عدم جواز کے۔
🔰 *سوال نمبر 37:*
صحیح احادیث پر عمل ہر مجتہد کو اور اس کے بعد والوں کو کرنا چاہئے یا بٹوارہ کرلیں کہ ان احادیث پر تم عمل کرو ، ان پر ہم عمل کریں گے وغیرہ۔
🌼 *جواب :* احادیث کی دو قسمیں ہیں. متعارض اور غیر متعارض ۔ غیر متعارض احادیث پر سب عمل کرتے ہیں البتہ متعارض احادیث میں تمام احادیث پر عمل ممکن نہیں ، اس لئے احادیث راجح پر عمل کیا جاتا ہے ، ہم ان احادیث کو راجح قرار دیتے ہیں جن کو امام صاحب رحمہ اللہ نے صحابہ رضی اللہ عنهم کے پیمانہ عمل کو دیکھ کر راجح قرار دیا اور غیر مقلدین ان احادیث کو راجح قرار دیتے ہیں جو صحابہ رضی اللہ عنهم اور تابعین کرام رحمہ اللہ میں متروک العمل تھیں۔
🌸 *سوال نمبر 38:*
چاروں امام بھی مقلد تھے یا نہیں ؟ اور مقلد تھے تو کس کے ؟ اور نہیں تھے تو کیوں ؟
🌺 *جواب :* چاروں امام مجتہد تھے ۔ مجتہد پر اجتہاد واجب ہے نہ کہ تقلید .
🌹 *سوال نمبر 39:*
اللہ را ذرا یہ بھی بتایئے کہ کسی امام کی طرف نسبت کرلینا یعنی شافعی ، مالکی ، حنبلی یہ خود اماموں کی تعلیم ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو وہ عبارت کس کتاب میں ہے؟
🔅 *جواب :* یہ نسبتیں عثمانی ، علوی ، حنفی ، شافعی مسلمانوں میں بلانکیر جاری ہیں ، اس سے ثابت ہوا کہ ان کی صحت پر اجماع ہے اور اجماع دلیل شرعی ہے ۔ آپ بھی فرمائیں : کیا امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ میری کتاب کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہو؟ امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ فرمان کس کتاب میں ہے ؟ اور کیا ان چھ محدثین نے کہا تھا کہ ہماری کتابوں کو صحاح ستہ کہنا ؟ ان کا فرمان کس کتاب میں ہے ؟ اور کیا امام بخاری و مسلم رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ جس حدیث کو ہم دونوں لکھیں اس کو متفق علیہ کہنا ؟ ان کا یہ قول کس کتاب میں ہے ؟
🌷 *سوال نمبر 40:*
اگر چاروں ائمہ مسائل قرآن و حدیث سے لیتے رہے تو ہمیں قرآن و حدیٹ سے مسائل لینے میں غیر مقلدین بن جانے کا خوف کیوں ہو ؟
🏵 *جواب :* چاروں امام مجتہد تھے اس لئے وہ کتاب و سنت سے مسائل استنباط کرسکتے تھے ۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ مجتہد پر اجتہاد واجب ہے لیکن جو لوگ اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتے وہ براہ راست یعنی ناقص رائے سے کتاب و سنت سے مسائل لیں گے، بمطابق حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :: اذا وسد الأمر الی عیر أھله فانتظر ساعة :: بخاری ص 14 ج 1 :: تو وہ دین پر قیامت ڈھائیں گے، اگر وہ نااہل ہوکر مجتہد بنیں گے تو بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان ہوں گے کیونکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیعت لیتے تو یہ شرط ہوتی تھی :: أن لا تنازع الأمر أھله :: بخاری ص 1069 ج 2 = نسائی ص 159 ج 2 :: مفھوم : ہم کسی امر کے اہل سی جگھڑا نہیں کریں گے:: جیسے کسی ان پڑھ جاہل کو ڈاکٹری کی کتاب سے نسخے لکھ کر علاج کرنا جرم ہے ، کسی نااہل کمہار کو ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف قانون کی تشریح کرنا جرم ہے اور ایسا شخص توہین عدالت کا مستحق ہے ۔ اسی طرح نااہل غیرمقلد کا براہ راست کتاب و سنت کو گھسیٹنا کتاب و سنت کی توہین ہے ۔ اگر غیر مقلد یہ کہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ قرآن و حدیث میں اپنی سمجھ کی مطابق عمل کرے تو مرزا :قادیانی ملعون: کو کیسے غلط کہیں گے ؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے وفات مسیح قرآن سے سیکھی ::العیاذ بالله :: منکرین حدیث کو کیسے غلط کہیں گے ؟ کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت برحق ہے اور زندگی میں تھی ۔ جیسے ہر حاکم کی اطاعت موت کے بعد ختم ہوجاتی ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی وفات کے بعد باقی نہیں رہی ۔ العیاذ بالله۔
🎯 *سوال نمبر 41:*
تقلید فرض ہے یا واجب یا مباح ، تو کن لوگوں کے لئے اور کیوں ؟
💎 *جواب :* تقلید مطلق واجب بالذات ہے اور تقلید شخصی واجب بالغیر اور اس مجتہد کی تقلید ہوگی ،جس کا مذہب اس علاقے میں مدون اور متواتر ہوگا.
📌 *نوٹ :* واجب بالذات کے لئے نص کی ضرورت ہے لیکن واجب بالغیر کے لئے نص کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس کو فقہ میں :: مقدمة الواجب واجب:: کہتے ہیں ، جیسے نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے اس لئے کہ اس کی نص موجود ہے ، نماز میں فاتحہ نہ ہو تو نماز ناقص ہے لیکن یہاں کے لوگ اس واجب کو ادا نہ کرسکتے جب تک سورۂ فاتحہ پر اعراب اوقاف نہ لگے ہوں ، اس لئے فاتحہ واجب بالذات ہے لیکن ان کے اعراب اوقاف واجب بالغیر ہے ۔ اس لئے فاتحہ واجب بالذات ہے لیکن بغیر واجب بالغیر ادا نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح شرعآ مجتہد چاروں ہیں لیکن تکوینآ جس کا مذہب متواتر ہوگا تقلید اسی کی واجب ہوگی.
🛡 *سوال نمبر 42:*
یہ جو فقہ کی کتابوں میں ہے کہ عامی کا مذہب نہیں۔ اس کے کیا معنی ؟ پھر تو حنفی ہوکر بھی حنفی نہ رہے ؟
💐 *جواب :* شامی میں لکھا ہے کہ عامی کا مذہب نہیں ہوتا ۔ ہاں جس مفتی کا التزام کرلے اس کے مذہب کی طرف منسوب ہوگا اور اگر کسی مفتی کا التزام نہ کرے تو لامذہب ہی رہے گا ، اس لئے مقلد تقلید کے بعد صاحب مذہب ہوتا ہے لیکن غیر مقلد ساری عمر لامذہب ہوتا ہے ۔
🔮 *سوال نمبر 43:*
مقلد قرآن و حدیث کا مطلب سمجھ سکتا ہے یا نہیں ؟ حالانکہ ہماری فقہ کی کتابوں میں ہے کہ مقلد قرآن و حدیث سے دلیل لے ہی نہیں سکتا پھر تو گویا قرآن و حدیث منسوخ اور بے کار ہیں ، اگر لے سکتا ہے تو تقلید کی ضرورت ہی کیا ؟ اگر نہیں لے سکتا تو قرآن و حدیث ہی کیا ؟
💟 *جواب :* مجتہد اور مقلد میں مابہ الامتیاز استنباط اور اجتہاد ہے ۔ مجتہد کتاب و سنت سے نئے پیش آمدہ مسائل اخذ کرسکتا ہے لیکن مقلد نہیں کرسکتا ۔ ہاں مجتہد کی راہنمائی میں ان مسائل پر عمل کرسکتا ہے جو مجتہد کتاب و سنت سے اخذ کرتے ہیں ۔ اس کو یوں سمجھیں کہ ڈاکٹری کی کتاب مریضوں کے علاج کے لئے ہے لیکن خود مریض اس سے نسخہ نہیں لکھ سکتا ، نسخہ ماہر ڈاکٹر ہی لکھے گا ۔ کتاب و سنت کے جو مسائل نص سے سمجھ آتے ہیں وہ ہر ترجمہ جاننے والا جانتا ہے لیکن مسائل کے وہ الفاظ جو ان کی تہہ میں ہیں ان کو نکال کر لانا ہو تو اس کے لئے غوطہ خور کی ضرورت ہے جو خود غوطہ خور نہیں وہ موتی کے لئے غوطہ لگائے تو وہ موتی نہیں لائے گا بلکہ ڈوب جائے گا۔ جیسے ڈاکٹری کی کتابیں بے فائدہ نہیں لیکن ڈاکٹر کے لئے لکھی گئی ہیں نہ کہ کمہاروں کے لئے ، قانون کی کتابیں بے فائدہ نہیں لیکن ان کو سمجھنا وکیل کا کام ہے نہ کہ چمار کا۔
جس کا کام اسی کو ساجھے
نہیں تو ٹھینگا باجے
🏮 *سوال نمبر 44:*
مقلد قرآن و حدیث سے دلیل پکڑسکتا ہے یا نہیں ؟
✅ *جواب :* مقلد اور مجتہد میں مابہ الامتیاز نیا مسئلہ تلاش کرنا ہے ، یہ مقلد نہیں کرسکتا البتہ تلاش شدہ مسائل کے لئے کتاب و سنت کے دلائل تلاش کرسکتا ہے ، چناچہ امام طحاوی رحمہ اللہ ، صاحب ہدایہ رحمہ اللہ ، علامہ عینی رحمہ اللہ ، ملا علی قاری رحمہ اللہ ، علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ، علامہ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ باوجود مقلد ہونے کے مسائل کے ساتھ کتاب و سنت کے دلائل ذکر کرتے ہیں ۔ مقلد کی تعریف میں عدم علم شامل نہیں ، ہاں مجتہد سے اس کی خاص دلیل کا مطالبہ مقلد نہیں کرتا جیسے امتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کے بعد جزئیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الجھے ، کہ اس مسئلہ کی دلیل دو گے تو عمل کروں گا ورنہ نہ کروں گا ۔امتی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلامطالبہ دلیل مسئلہ تسلیم کرلیتا ہے ۔ اپنی تسکین قلب کے لئے کوئی دلائل جمع کرلے یا مخالفین کی زبان بندی کے لئے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسائل پر دلائل بیان کرے ، اس سے وہ امتی ہونے سے نہیں نکلتا بلکہ اعلی درجہ کا امتی شمار ہوتا ہے ۔ اسی طرح مقلد اپنے امام سے بلامطالبہ دلیل تسلیم کرلے ، اپنے تسکین قلب کے لئے خود اس کے دلائل تلاش کرے یا مخالفین کی زبان بندی کے لئے امام کے مسئلے بیان کردے تو وہ اپنے امام مجتہد کا نافرمان نہیں ہوگا بلکہ اپنے امام مجتہد کا اعلی درجہ کا وفادار ہوگا ۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید میں ہے مزہ
کیوں میں چباؤں پتے ثمر چھوڑ کر ؟
☸ *سوال نمبر 45:*
چار مصلے مکہ معظمہ میں خاص خانہ کعبہ میں قائم ہوئے تھے ، ان کو کس نے قائم کیا تھا اور کیوں قائم کیا اور کب قائم کیا؟ کیا اس سے مسلمانوں کے دین کے ٹکڑے نہیں ہوئے ؟ اور اماموں نے اسے کیوں قائم نہ کیا بلکہ یہ ساتویں صدی کی بدعت ہے ۔
❇ *جواب :* ساتویں صدی سے لے کر 1365ھ تک مکہ مکرمہ میں چار مصلے رہے جس سے پوری دنیا پر واضح رہا کہ اہل سنت کے چار مذاہب ہیں ۔ ان کا فائدہ یہ تھا کہ اہل سنت کے نام سے کوئی فرقہ نیا نہیں بن سکتا ۔ جس ملک میں نیا فرقہ بنتا لوگ فورآ پوچھتے خانہ کعبہ میں تمھارا کون سا مصلی ہے ؟ جب وہ نہ بتاسکتا تو ان کا فتنہ وہیں ختم ہوجاتا ۔ 1365ھ میں نجدی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے ایک حنبلی مصلی باقی رکھا ۔ کعبہ میں جب چار 4 مصلے تھے تو غیرمقلدوں کا مصلی اس وقت بھی نہ تھا ، اب ایک ہے وہ بھی مقلدوں کا ہے غیر مقلدوں کا اب بھی نہیں ۔ اس لئے غیر مقلدوں کا تعلق کبھی بھی نہ رہا ۔ آج جو غیر مقلد شور مچاتے ہیں کہ وہاں کا امام رفع یدین کرتا ہے ، وہ رفع یدین غیر مقلدین کا امتیازی نشان نہیں وہ حنبلی ، شافعی بھی کرتے ہیں ۔ غیر مقلدین یہ بتائیں کہ تقریبآ چھ 600 سو سال خانہ کعبہ میں چار 4 مصلے رہے کیا چاروں حق تھے یا نہیں ؟ اگر صدیوں تک وہاں ناحق رہ سکتا ہے تو یہ حکومت جس کی ابھی ایک صدی مکمل نہیں ہوئی ان کا طریقہ ناحق ہوسکتا ہے یا نہیں ؟؟ ہم 4 چاروں کو برحق مانتے ہیں ۔ غیر مقلدین تقلید کو شرک کہتے ہیں وہ بتائیں کم از کم چھ 600 سو سال کعبہ میں شرک ہوتا رہا ؟ کعبہ اس وقت کعبہ بھی تھا یا نہیں ؟؟
✳ *سوال نمبر 46:*
جب کہ ہمارے نزدیک چاروں مذاہب برحق ہیں پھر اہل حدیث کو جو ایک برحق مذہب ہے کے مطابق آمین ، رفع یدین ، اور سورۂ فاتحہ بجالاتے ہیں ، کیوں روکا جائے ؟
⚜ *جواب :* چاروں مذاہب برحق ہیں ، ان کی مثال جیسے چار کھیت ہوں اور ان میں سے وہ آدمی جس کا کھیت نہیں وہ مانگ کر گنا لے لے ، یقینآ حلال ہے لیکن غیر مقلدوں کی طرح گنا ایک کھیت سے چوری کرلیا ، آلو دوسرے کھیت سے چوری کرلئے ، لکڑیاں تیسرے کھیت سے چوری کرلیں ، یہ چوری کا مال یقینآ حرام ہے ۔ وہ چاروں مذاہب ہیں ، غیر مقلدیت چوری ڈاکہ کی مارکیٹ ہے ۔ اتنی بے غیرتی ہے کہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کو دین کے ٹکڑے کرنے والا کہا جاتا ہے اور انکے مسائل چوری کرکے نماز میں شامل کئے جاتے ہیں ، ہم اسے نمک حرامی کہتے ہیں ۔ انسان جس دیگ سے کھائے اسی میں پیشاب کرے ، کتا جہاں سے کھاتا ہے ان کو نہیں بھونکتا ہے ۔
غیرمقلد ایسا باؤلا کتا ہے جہاں سے کھاتا ہے انہی کو کاٹتا ہے
عواء الکلب لایظلم البدر
کتے کا بھونکنا چاند کی روشنی کو ختم نہیں کرتا
🌻 *سوال نمبر 47:*
اہل سنت والجماعت کی کیا تعریف ہے ؟ جب کہ مقلد نہ سنت سے دلیل لے سکے نہ جماعت صحابہ کے اجماع سے ، پھر اہل سنت کیوں کہا جائے ؟
📍 *جواب :*'اہل سنت وہ لوگ ہیں جو دلائل کو مانتے ہیں ۔ سنت میں علم قرآن کا اور نمونہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا ، والجماعت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کا اجماع جس کی پہچان ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے اجماع سے ہوتی ہے اور حنفی ، شافعی میں اجتہادی مسائل اور ہمارے لئے اجماعی مسائل حجت قاطعہ ہیں اور اجتہادی اختلافی مسائل رحمت واسعہ ہیں ۔ یہ کہنا کہ مقلد کتاب و سنت یا اجماع کو نہیں مانتا ، یہ جھوٹ ہے ۔
فقہ حنفی کے چار اساس
کتاب و سنت اجماع و قیاس شرعی
🔰 *سوال نمبر 48:* اہلحدیث صرف کتاب و سنت پر عمل کرنے والی جماعت ہے ۔ جب سے کتاب و سنت ہے تب سے یہ ہے یا بعد میں اس کا عامل کوئی نہیں رہا تھا یعنی کتاب اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی کا عمل ہی نہ تھا حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کے عامل قیامت تک رہیں گے۔
🌼 *جواب :* اہلحدیث انگریز کے دور سے پہلے کسی مذہبی فرقہ کا نام نہ تھا بلکہ ایک علمی طبقہ کا نام تھا جیسے محدث یا شیخ الحدیث کو اہل حدیث یا اصحاب الحدیث کہتے تھے ۔ اسی طرح انگریز سے پہلے اہل قرآن کسی مذہبی فرقے کا نام نہ تھا بلکہ ایک علمی طبقہ کا نام تھا جو قرآن کا حافظ ہو ۔ اس لئے اہل قرآن ، اہلحدیث بحیثیت فرقہ انگریز سے پہلے کہیں وجود میں نہ تھا ۔ مذہبی فرقے اور علمی طبقے کے نام میں ایک واضح فرق ہوتا ہے ، مذہبی فرقے کا نام ہر عالم ، جاہل ، بچے ، بوڑھے پر بولا جاتا ہے جیسے عالم سنی ، جاہل بھی سنی ، بچہ بھی سنی ۔ علمی طبقے کا نام ، جب تک علم حاصل نہ کرے ، اس پر استعمال نہیں ہوتا ، مثلا شیخ الحدیث کے بیٹے کو شیخ الحدیث نہیں کہتے جب تک علم حاصل نہ کرے ، سائنس دان کی بیوی کو سائنس دان نہیں کہتے جب تک وہ سائنس نہ پڑھے ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر تمھارا دعوی ہے کہ انگریز سے پہلے اہلحدیث کسی فرقے کا نام تھا تو صرف ایک حوالہ دیں کہ انگریز سے پہلے کسی ان پڑھ کو اہلحدیث یا اہل قرآن کہا گیا ہو ؟؟؟ ہم فی حوالہ آپ کو دس 10،00،000لاکھ روپے انعام دیں گے ۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
🌸 *سوال نمبر 49:*
قیامت کے دن حمد کا جھنڈا صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہی ہوگا یا ان چاروں اماموں کے بھی جھنڈے الگ لہرارہے ہوں گے ؟ حوض کوثر صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہوگا یا چاروں اماموں کے بھی ہوں گے ؟ اگر یہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے تو پھر ہم دنیا میں کیوں ادھر ادھر منہ ماریں ؟
🌺 *جواب :* قیامت کے دن حمد کا جھنڈا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہوگا اس کے نیچے سارے امام مقلدین سمیت ہوں گے ، اسی طرح حوض کوثر پر بھی سب حاضر ہوں گے ۔ امام شعرانی رحمہ اللہ نے قیامت کا نقشہ جو اپنے کشوف سے مرتب کیا ہے اس میں حنفی ، شافعی سب مقلدین تو میدان قیامت میں پل صراط پر بھی اور جنت کے دروازے میں بھی دکھائے گئے ہیں ۔ غیرمقلدین کا وہاں نام و نشان تک نہیں وہ پہلے ہی دوزخ میں گرچکے ہوں گے ۔
نہ خدا ہی ملا ، نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے ، نہ ادھر کے رہے
🌹 *سوال نمبر 50:*
اگر کسی امام کے پاس صحیح حدیث پہنچے اور وہ اس امام کے قول کے خلاف ہو تو اسے کیا کرنا چاہئے ؟ اور جو یہ کہہ کر حدیث کو ٹال دے کہ یہ میرے مذہب میں نہیں ، وہ مسلمان رہا یا اسلام سے خارج ہوگیا ؟ اور ایسے وقت مقلد کو کیا کرنا چاہئے ؟
🔅 *جواب :* اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کتاب و سنت فقہاء سے سمجھنے چاہئیں اس لئے اگر عامی کو حدیث ملے تو فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم
فرب حامل فقه الی من هو أفقه منه و رب حامل فقه لیس بفقیه
( ترمذی شریف ابواب العلم ص 94 ، ج 2:) کے مطابق فقیہ کے پاس لے جانی چاہئے اس لئے غیر مقلدین فقہاء سے سمجھنے کی بجائے اپنی رائے سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں وہ فقہاء کے نہیں بلکہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان ہوتے ہیں ۔ آپ تحریر کرلیں غیرمقلدین کو یہ حدیث دکھائیں جو ان کے عقیدہ کے خلاف ہو وہ کبھی اس پر عمل نہ کریں گے اور کہیں گے لکھ دو ، ہم اپنے مولوی : غیرفقیہ : سے سمجھیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقیہ سے سمجھنے کا حکم دیا ، وہ خود غیر فقیہ ہیں اور غیر فقیہ کے پاس جاتے ہیں ۔
محدث بن کے دنیا میں ہوئے ظاہر جو البانی
سلف کو چھوڑ کر ہونے لگی تقلید البانی
اور
بنے پھرتے ہیں علامے حکیم و ڈاکٹر کوئی
ذکر اسلاف کا لیکن نئی رسموں کے یہ بانی
⚡ *انتخاب*
کتاب تجلیات صفدر ج 3 صفحه نمبر 404 تا 439 تک
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦
Comments
Post a Comment