part 2* تقلید کی ضرورت و اہمیت
🔴 *part 2*
تقلید کی ضرورت و اہمیت
🌟 *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
🌹 *مسائل اجتہادی کی اقسام*
🌷 ہم نے تقلید کے معنیٰ میں پہلا لفظ استعمال کیا مسائل اجتہادیہ۔ مسئلہ اجتہادی ہو تو تقلید ہوتی ہے، مسئلہ اجتہادی نہ ہو تو تقلید نہیں ہوتی۔
اور مسائل اجتہادی کی چار قسمیں ہیں
1⃣ مسئلہ غیر منصوص ہو، قرآن اور حدیث میں مسئلہ موجود ہی نہ ہو۔
2⃣مسئلہ منصوص ہو، لیکن منصوص میں تعارض ہو۔ تو یہ تعارض مجتہد رفع کرے گا۔
3⃣ مسئلہ منصوص ہو اور نص مجمل ہو۔ تو اس اجمال کی وضاحت مجتہد کرے گا۔
4⃣مسئلہ نص میں موجود ہو اور نص محتمل ہو اور اس کے کئی معنیٰ ہوں۔ تو کئی معنیٰ میں سے ایک معنیٰ کا تعین مجتہد کرےگا۔
🎯 اب سمجھ گئے؟ تو تقلید کس میں ہوتی ہے؟ مسائل اجتہادیہ میں۔ اور مسائل اجتہادیہ کا دائرہ چار ہے۔
1: مسائل غیر منصوصہ
2: منصوصہ متعارضہ
3: منصوصہ مجملہ
4: منصوصہ محتملہ
🌹 *تقلید کے سوا کوئی چارہ نہیں*
یہ دائرہ ہے تقلید کا۔ کوئی دنیا میں مائی کا لال ایسا نہیں جو بغیر تقلید کے ان مسائل تک پہنچے، ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی بغیر تقلید کے ان چار مسائل تک پہنچے۔ بات سمجھ آگئی؟
*نمبر1:*
مسئلہ غیر منصوص ہو، بغیر تقلید کے اس تک پہنچے۔ آپ بغیر تقلید کے اس پر کیسے عمل کر یں گے؟ مثلا ًلڑکا ہے رنگون کا، جس لڑکی سے شادی کرنی ہو، وہ کراچی رہتی ہو۔ یہ کراچی نہیں جاسکتا، کراچی والی یہاں نہیں آسکتی۔ اب شادی کیسے کریں؟ کہتے ہیں پہلے شادی کرے، پیپر بنائے، پھر آجائے ایسا ہوتا ہے ناں۔ ایسا یہ کیسے کریں گے؟
کہتے ہیں ٹیلیفونک نکاح، یہ نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں ہے۔ ہوگا کیسے؟ مقلد ہے تو کام چل جائے گا، ایمان بھی بچ جائے گا اور لڑکی بھی مل جائے گی۔ اور اگر غیر مقلد ہے، تو یا اس کو تقلید والا شرک کرنا پڑے گا یا اس کو لڑکی کی قربانی دینی پڑے گی، ہمیں لڑکی بھی مل جائے گی اور ایمان بھی بچ جائے گا۔اگر ٹیلیفونک نکاح کے لیے غیر مقلد مفتی کے پاس جائے اور وہ کہے قرآن وحدیث میں نہیں اور لڑکا کہے کہ میں تو اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ کہتا ہے بیٹا قرآن وحدیث میں تو ہے ہی نہیں، جو قرآن حدیث میں نہ ہو، ایسا مسئلہ تو شرک ہے۔ یا تو اس کو مشرک بننا پڑے گا یا اس کو لڑکی قربان کرنی پڑے گی۔ ہم لڑکی بھی قربان نہیں کریں گے اور مشرک بھی نہیں بنیں گے۔ دارالافتاء جائیں گے،ٹیلیفونک نکاح کی تفصیل پوچھیں گے، نکاح کریں گے، پیپر بنیں گے، لڑکی پاس آ جائے گی، دنیا بھی ٹھیک ہو جائے گی، آخرت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ اگر تقلید نہیں کریں گے تو ایک نقصان ضرور ہے، یہ یاوہ۔
🛡 دوسری مثال بات سمجھانےکے لیے دیتا ہوں۔ باپ ہسپتال میں ہے اور ڈاکٹر کہہ دے کہ اس کو دو بوتلیں خون کی چاہییں۔ اب یہ غیر مقلد لڑکا ہے اور اپنے دارالافتاء جائے، تو وہ کہیں گے ہم نے حدیث کا بہت مطالعہ کیا ہے، کل آنا۔ جب کل آئے گا،تو کہیں گے ہم نے حدیث کا بہت مطالعہ کیا ہے، اس میں یہ تو ہے کہ اگر کوئی بندہ بیمار ہو تو اس کا خون نکال لو، یہ نہیں ہے کہ خون دے دو۔حجامہ کا ذکر ہے، اس میں خون نکالتے ہیں، دیتے نہیں ہیں۔ لہذا تم اپنے باپ کا ایک بوتل خون نکالو، تو بیٹا کہےگا وہ تو مر رہا ہے اس کو تو دو بوتل خون دینا ہے۔ انہوں نے کہنا ہے قرآن و حدیث میں مریض کو خون دینے کا ذکر نہیں ہے، خون نکالنے کا ہے، باپ کا خون نکالو۔ اب وہ کیا کرے گا؟
🔮 اگر وہ حنفی کے پاس آتا ہے، تقلید کرتا ہے، تو مشرک ہوتا ہےاور اگر توحید لیتا ہے، تو باپ جاتا ہے۔یا توحید گئی یا باپ گیا۔ اور اگر تقلید کرے گا، تو توحید بھی رہ جائے گی اور باپ بھی رہ جائے گا۔میں مثالیں دے رہا ہوں تاکہ آپ ان چیزوں کو سمجھیں اور آگے سمجھائیں۔ تقلید ہوتی ہے مسائل اجتہادیہ میں اور مسائل اجتہادیہ میں پہلا مسئلہ غیر منصوص ہے۔ مسئلہ منصوص ہے، تو پھر تو ہم بغیر تقلید کے عمل کریں گے۔
💐 ہم مثال دیتے ہیں مکھی گرنے کی، کب تک مکھی گرنے والی مثال دیتے رہیں گے۔ کوئی جدید مثالیں بھی پیش کریں ناں۔ایک ہی مثال ہمارے پاس ہے کہ مکھی کھانے میں گرگئی ہے، اس کو نکال لیا ہے توکھانا ناپاک نہیں ہوگا۔ اس کے بارے میں تو حدیث آئی ہے، اب مچھر کا کیا کرنا ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ مچھر کھانے میں گرجائے اور غیر مقلد کہے کہ باہر نکالو تو وہ کہے گا کہ میں تو نہیں نکالتا، تم پہلے حدیث سناؤ، حدیث تو ہے ہی نہیں، مچھر کو کیسے باہر نکالے گا۔
*نمبر2:*
مسئلہ منصوص تو ہے لیکن نصوص میں تعارض ہے، ایک نص میں ہے کہ رفع الیدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ایک نص میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین نہیں فرمایا، چھوڑ دیا۔ اب دونوں نصوص ہیں، کرنے کی بھی ہیں اور نہ کرنے کی بھی ہیں۔ اب کس پر عمل کریں؟ ایک بندہ کہتاہے صحیح پر عمل کرو، ضعیف چھوڑدو۔ پو چھو صحیح کو نسی ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ یہ ضعیف ہے؟ کسی حدیث پہ صحت یا ضعف کا حکم لگانا یہ امرِ اجتہادی ہے۔ قواعد فی علوم الحدیث میں علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے بڑی وضاحت سے یہ بات کی ہے، آپ اس کو ذرا پڑھیں۔
✅ ایک بندہ کہتا ہے کہ صحیح کو لے لو اور ضعیف کو چھوڑ دو۔ بولو صحت و ضعف کا پتا کیسے چلے گا؟ جو بتائے گا وہ اجتہاد سے بتائے گا۔یا کہتے ہیں پہلے والی کو چھوڑ دو بعد والی کو لے لو اور یہ بھی کوئی حدیث تو نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوکہ یہ حدیث پہلے کی ہے اور یہ حدیث بعد کی ہے ،پہلے اور بعد والا زمانہ کیسے پتا چلےگا؟ قرائن جمع کریں گے، مسئلہ نص میں موجود ہے لیکن نصوص میں تعارض ہے، تو تعارض بغیر مجتہد کے رفع ہو ہی نہیں سکتا۔ دنیا میں کوئی مائی کا لال ایسا نہیں جو کہے کہ میں تعارض رفع کرتا ہوں بغیر اجتہاد کے۔
*نمبر 3:*
مسئلہ نص میں موجود ہے، مگر نص میں کئی احتمال ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے، اور وہ بھی احتمال ہے۔ اب اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ اس کی مثال کیا ہے تو آپ نے ایک مثال دینی ہے
*وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ*
(سورۃ البقرۃ آیت نمبر228)
💟 قروء کامعنیٰ حیض بھی ہے، طہر بھی ہے۔ یہی ہے ناں؟ ہمارے پاس ایک مثال پکی پکائی ہے، جو ہر سال ہم نے سنانی ہے۔ ایسی بہت سی نصوص ملتی ہیں کہ جن میں دو احتمال ہیں۔ میں آپ کو ایسی مثال دیتا ہوں جو آپ کے لیے بالکل نئی ہوگی اور اس سے ایک اور مسئلہ بھی حل ہو جائےگا۔
📌 *تین طلاق ،اور غیر مقلدین*
آج ایک فتنہ چلا ہے کہ تین طلاق اکٹھی دو، تو ایک ہوتی ہے اہل السنت و الجماعت کا اتفاق ہے کہ تین طلاق دو توتین ہی ہو تی ہیں، چاہے ایک مجلس میں دو، یا کئی مجالس میں۔ غیر مقلد، روافض اور مرزائی یہ تین طبقے کہتے ہیں کہ تین طلاقیں دو تو ایک ہوتی ہے، اس مسئلے پر غیر مقلدین حضرات کے ہاں جو سب سے بڑی اور قوی دلیل ہے، وہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
*كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة*
(صحیح مسلم رقم الحدیث 1472)
🏮 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، صدیق اکبر کی خلافت کے دور میں اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں میں 3 طلاق ایک شمار ہوتی تھیں۔ اور بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ تین طلاق دو تو تین ہونگی۔ کہتے ہیں کہ حضور کے دور میں تین ایک ہے، تو اب کیوں نہیں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں تین ایک ہے، تو اب ایک کیوں نہیں؟ اور جب یہ دلیل آتی ہے تو ہم سے جواب نہیں بنتا۔ اور دلیل بھی صحیح مسلم کی ہے کوئی عام کتاب تو نہیں ہے ناں۔
☸ *صحیح مسلم کی طلاق والی روایت کا جواب*
اس کے جوابات بہت ہیں، میں ایک جواب آپ حضرات کے سامنے عرض کرتا ہوں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بعد جو مرکزی راوی ہے، وہ طاؤس ہے اور یہ طاؤس شیعہ تھا اور اصول حدیث میں ہے کہ اگر بدعتی راوی اپنے مسلک کی تائید میں روایت پیش کرے تو وہ قبول نہیں ہوتی۔ اگر اپنے مسلک کے خلاف پیش کرے تو قبول ہوتی ہے۔ تین کو ایک کہنا روافض کا مذہب ہے، یہ چونکہ رافضی ہے اس لیے اس کی حدیث اس کے حق میں قابل قبول نہیں، اس کے خلاف ہوگی تو قابل قبول ہوگی۔
❇ دوسرا جواب یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حدیث کے پہلے راوی ہیں اور اصول حدیث میں سے ہے کہ راوی کوئی روایت نقل کرے اور فتویٰ اس کے خلاف نقل کرے۔ تو اس کے فتوے کا اعتبار ہوتاہے روایت یا قول کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سارے فتوے تین طلاق کے تین ہونے کے ہیں، تین کے ایک ہونے کا ایک فتویٰ بھی نہیں ہے۔ اگر اس روایت کا وہی معنیٰ ہوتا، جو غیر مقلد کرتے ہیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ خود تین کو ایک کیوں نہیں کہتے؟ تین کوتین کیوں کہتے ہیں؟
✳ *تکرار اور استیناف*
جواب کئی ہیں، میں صرف احتمال ہی بتا رہا ہوں۔ اس کا اصل معنیٰ کیاہے؟ امام نووی رحمہ اللہ نے اسی حدیث کے حاشیے میں لکھا ہے کہ عربی میں دو لفظ ہیں ایک ہے تاکید اور ایک ہے استیناف، ایک ہی لفظ کو بار بار ذکر کرلیا اور معنیٰ ایک ہو اس کا نام تاکید ہے ایک ہی لفظ کو باربار ذکر کریں اور ہر بار ذکر کرنے سے معنیٰ الگ ہو اس کا نام استیناف ہے۔
📍 میں آج دارالعلوم میں بھی کہہ رہا تھا کہ اصطلاحی الفاظ کا عوامی زبان میں معنیٰ کریں۔ تاکید کی مثال کہ ایک لفظ کو بار بار ذکر کرے اورمعنیٰ ایک ہو۔ گھر میں عورت آواز دیتی ہے، عبدالرحمٰن! ابو کو بلاؤ، سانپ آگیا ہے، سانپ آگیا ہے، سانپ آگیا ہے، حالانکہ سانپ تین نہیں آئے، ایک ہی آیا ہے۔ اسی کو تاکید کہتے ہیں۔ شور مچارہی ہے، سانپ سانپ کہہ رہی ہے، کئی سانپ نہیں، ایک ہی سانپ ہے۔ اسی کو تاکید کہتے ہیں۔
⚜ اور اگر لفظ ایک ہو، بار بار ذکر کرنے سے معنیٰ الگ الگ ہو جائے، اس کو استیناف کہتے ہیں۔ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے۔ ہر بارمعنیٰ بدل رہاہے، تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اب یہ تاکید ہے یااستیناف؟ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بہت خیر کا زمانہ تھا جب کوئی بندہ بیوی سے کہتا انتِ طالق طالق طالق تو اس سے پوچھتے کہ دوسرا طالق طالق تاکید ہے یا استیناف ہے؟ اگر کہتا کہ تاکید ہے تو طلاق ایک ہوتی اور اگر کہتا استیناف، تو طلاقیں تین ہوتیں۔ لیکن اگر انت طالق ثلاثا کہے تو پھر ثلاثاً نص ہے کہ تین تین ہی ہوتی ہیں اور غیر مقلد کے ہاں تین ہوں، تو بھی ایک ہوتی ہے۔
🌻 یہ دلیل ان کی نہیں بنتی، اگر کہے انت طالق ثلاثا ًتو وہ پھر بھی کہتے ہیں ایک ہوگی۔ حالانکہ اس حدیث کا تعلق
*انت طالق طالق طالق*
سے تھا ،اس میں ارادہ پوچھتے کہ ایک کا ارادہ ہے یا تین کا، اگر تین کہتا تو تین ہوتی، اگر ایک کہتا تو ایک ہوتی تھی۔ اس لیے کہ طالق صریح لفظ ہے، طلاق ہو جائے گی باقی اگلا طالق طالقتین میں صریح نہیں ہے۔ تاکید ہو گا، تو ایک ہوگی اور استیناف ہو گا تو پھر تین ہوں گی۔ تو اس زمانے میں پوچھ لیا جاتاتھا۔
🌼 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چونکہ اس میں دونوں احتمال ہیں۔ تین کا بھی، ایک کا بھی۔اب جبکہ شر پھیل گیا، عجم عرب سے مل گئے ہیں، شروع میں تین کی نیت کریں گے، جب غصہ اترےگا، توکہے گا میری نیت تو ایک کی تھی، یوں فساد پیدا ہو گا۔ اس لیے میں فیصلہ کرتا ہوں، اگر چہ اس میں احتمال دونوں موجود ہیں، مگر ہم نے تاکید کے احتمال کو ختم کردیا، استیناف کے احتمال کو متعین کردیاہے۔ مجتہد کی بات ماننا ضروری ہے۔ اب یہ اس کا صحیح محمل ہے۔ میں عرض کررہا تھا کہ مسئلہ منصوص ہوگا، لیکن اس نص میں کئی معنیٰ کا احتمال ہوگا، ایک احتمال کا تعین مجتہد کرے گا قروء کامعنیٰ حیض ہے یا طہر؟ اس کی تعیین مجتہد کرے گا۔
🔰 *ایک اور اجتہادی مسئلہ*
ایک اور مثال عہد صحابہ رضی اللہ عنہ سے (صحیح بخاری میں اس کی بڑی بہترین مثال ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خندق سے فارغ ہوگئے تو ادھر سے جبرائیل امین آگئے وحی لے کر، کہا: آپ ذرا بنو قریظہ چلیں، تو صحیح بخاری میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
*لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ*
(صحیح بخاری، رقم الحدیث 4119)
🌸 تم میں سے کوئی بندہ محلہ بنو قریظہ کے علاوہ میں عصر نہ پڑھے۔ بنو قریظہ کے محلے میں عصر جاکر پڑھو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم چل پڑے، ابھی بنو قریظہ کے محلے میں نہیں پہنچے کہ سورج غروب ہو نے کے قریب ہو گیا۔
صحابہ رضی اللہ عنہم میں اختلاف ہو گیا۔ بعض نے کہا عصر کی نماز پڑھ لیں اور قضا نہ کریں۔ بعض نے کہا قضا بھی ہوجائے گی، تو عصر کی نماز وہاں جاکے پڑھیں گے۔ حالانکہ لفظ بالکل واضح ہے، لیکن اختلاف معنیٰ کے تعین میں ہواہے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ؓنے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا یہ تھی، اتنا تیز چلو کہ عصر تک وہاں پہنچ جاؤ۔ب عض نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا یہ تھی کہ تم نے عصر ہی وہاں جاکر پڑھنی ہے۔
🌺 بعض نے ظاہر کو لیا اور بعض نے تاویل کر کے دوسرا معنیٰ لیا۔ احتمال دونوں کا موجود ہے۔بعض نے ایک احتمال کو لیا اور بعض نے دوسرے احتمال کو لیا، بعض نے پہلے احتمال کو لیا اور نماز ادا کرلی اور مغرب میں بنو قریظہ کے محلے میں پہنچے اور بعضوں نے عصر قضا کرلی مگر پڑھی بنوقریظہ میں جاکر۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک کو بھی غلط نہیں کہا، دونوں کو فرمایا: ٹھیک ہے، کسی پر تنقید نہیں فرمائی، دونوں کی تصویب فرمائی۔ دیکھو! یہاں پر نص ایک ہے، لیکن دونوں احتمال ہیں، اب ایک احتمال کا تعین مجتہد کرےگا۔
*نمبر 4:*
مسئلہ نص میں موجو د ہو، اور نص مجمل ہو، تو اس اجمال کو دور مجتہد کرےگا۔ اس کی مثال قرآن مجید میں سب سے آسان یہ ہے۔
*يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ الخ*
(سورۃ المائدۃ آیت نمبر 6)
🌹 اے ایمان والو! تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ اپنے چہرے کو دھولیا کرو، قرآن نے یہ تو کہا چہرہ کو دھو لیا کرو، مگر چہرہ کہتے کسے ہیں؟ یہ قرآن میں نہیں ہے۔ غسلِ وجوہ کا حکم مجمل ہے۔ وجوہ کہتے کسے ہیں؟ یہ قرآن میں نہیں ہے۔ اب بتاؤکہ چہرہ کیا ہے یہ تو قرآن میں نہیں ہے ناں! تو چہرے کی حد بندی کون بتائے گا؟ اب اس اجمال کی تفسیر کون کرے گا؟ کوئی نہیں کر سکتا۔
🔅 *ڈاڑھی کی تعریف و تحدید*
لوگ مسئلہ پوچھتے ہیں ناں کہ رخسار کے اوپر والے بال کاٹ سکتے ہیں کہ نہیں؟ پو چھتے ہیں ناں، یہ نیچے گردن کا خط کرسکتے ہیں کہ نہیں، پوچھتے ہیں کہ نہیں؟ پوچھتے ہیں۔ بات سمجھ آرہی ہے؟ جس بندے کو ڈاڑھی کا معنیٰ آتا ہے، اس کو کوئی الجھن نہیں ہے ناں۔ جس کو ڈاڑھی ر کھنے کاشرعی حکم نہیں آتا ہے،وہ تو پوچھے گا، رخسار کے بال کاٹنے ہیں کہ نہیں؟ حکم تو ڈاڑھی رکھنے کا ہے ناں۔جو ڈاڑھی ہے اس کو رکھنا ضروری ہے، جو ڈاڑھی نہیں، اس کو رکھنا ضروری نہیں ہے۔ تو ڈاڑھی ڈاڑ ھ سے ہے۔ جو بال ڈاڑھ پر ہے وہ ڈاڑھی ہے، اور جو بال داڑھ سے اوپر یا نیچے حصہ میں ہے اسے چاہے تو رکھ لو چاہے تو کاٹ دو۔اب کیا مشکل ہے۔ پوچھنے والا کیوں پوچھتا ہے؟ کیوں کہ اس کو ڈاڑھی کےمعنیٰ کاپتا نہیں ہے ناں۔
🌷 *حضرت اوکاڑوی رحمہ اللہ کا علمی لطیفہ*
بسا اوقات لوگ اعتراض بھی کرتے ہیں اور ڈاڑھی کا معنیٰ بھی نہیں آتا اس سے پوچھو، ڈارھی کا معنیٰ ہے کیا؟ وہ کہے گا کہ مجھے نہیں پتا، اعتراض کرنے کا پتا ہے معنیٰ کا نہیں پتا۔ اعتراض کرنا بہت آسان ہے، حضر ت مولانا امین صفدر اکاڑوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ٹرین میں سفر کررہا تھا، میں اوپر برتھ پر لیٹا تھا،پتا ہے ناں، نیچے سیٹ ہوتی ہے اور اوپر برتھ ہوتی ہے۔ تو دو آدمی نیچے بحث کر رہے تھے۔ ایک کہتا ہے ڈاڑھی اتنی ہونی چاہیے۔ دوسرا کہتا ہے کہ ڈاڑھی اتنی ہونی چاہیے۔ ایک کہتا ہے کہ ڈاڑھی ایک مٹھی ہونی چاہیےدوسرا کہتا ہے کہ ڈاڑھی ناف تک ہونی چاہیے۔ جب میں نیچے آیا تھا تو ایک بندے نے کہا کہ مولوی صاحب آپ بتائیں، ڈاڑھی کتنی ہونی چاہیے؟ حضرت فرماتے ہیں کہ تمہارا اختلاف کیا ہے؟ ایک کہتا ہے کہ ڈاڑھی ایک مٹھی ہے، دوسرا کہتا ہے کہ ناف تک ہونی چاہیے۔
تو مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے مزاق میں کہا کہ اختلاف ڈاڑھی میں ہےیا ڈاڑھ میں ہے؟ ایک ہوتی ہے ڈاڑھی، ایک ہوتی ہے ڈاڑھ، مسئلہ تو ڈاڑھی کا ہے، ڈاڑھی اور ڈاڑھ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ جو یہاں تک ہے اس کو ڈاڑھی کہتے ہیں۔ اس کو ڈاڑھ تھوڑی کہتے ہیں۔ نہیں سمجھے! ڈاڑھ کہتے ہیں بہت بڑی چیز کو مبالغہ پیداکرنے کے لیے۔ اس طرح کرتے ہیں ناں۔ فرماتے ہیں کہ مسئلہ ڈاڑھی کا ہے اگر ڈاڑھی نہ ہو تو بہت بڑا ڈاڑھ ہو گا اب بات سمجھ میں آگئی؟
🏵 *ڈاڑھی کی تحدید پر غیر مقلد کا اعتراض*
ایک غیر مقلد کہتا ہے کہ ڈاڑھی بڑی رکھنی چاہیے کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک بندہ نماز پڑھتا تھا، سلام پھیرتے تو اسکی ڈاڑھی نظر آتی تھی۔ میں نے کہا مسئلہ چوڑائی کا نہیں ہے مسئلہ لمبائی کا ہے، تم کہتے ہو چوڑائی کا ہے چوڑائی کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے۔
💎 دوسری بات یہ ہے کہ مسائل اجتہادیہ میں مجتہد پر تقلید واجب نہیں ہوتی، حضرت علی رضی اللہ عنہ خود مجتہد تھے، تقلید غیر مجتہد کرتے ہیں، مجتہد نہیں کرتے۔
🎯 *حضرت تھانوی کی عبارت پر اعتراض اور جواب*
غیر مقلد آپ کو حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمہ اللہ کی عبارت پیش کرے گا اور آپ پھنس جائیں گے۔ عبارت کیا ہے؟ تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ”یہ بات تو قطعیت سے ثابت ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ غیر مقلد تھے“ کہیں گے امام صاحب غیر مقلد ہیں، میں غیرمقلد بن گیا تو کیا حرج ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ غیر مقلد ہے، میں بناتو کیا حرج ہے؟ بات سمجھ گئے؟
🛡 حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی عبارت کا مطلب کیا ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ غیر مقلد تھے یعنی مقلد نہیں تھے بلکہ مجتہد تھے۔ مجتہد کے مقابلے میں ہوتا ہےمقلد، تو مجتہد کون ہوتاہے؟ غیر مقلد، اور اس کا مقابل مقلد۔اس لیے مجتہد کسی کا مقلد نہیں ہوتا۔ ایک ہوتا ہے غیر مقلد بمقابلہ مقلد، یعنی مجتہد بھی نہیں ہے اور مقلد بھی نہیں ہے،بلکہ غیر مقلد ہے۔ تو دونوں کا مطلب الگ ہے ناں؟ یہ مقلد بھی نہیں اور مجتہد بھی نہیں بلکہ غیر مقلد ہے۔اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ مجتہد تھے
*ایک غیر مقلد سےمکالمہ*
مجھ سے ایک غیر مقلد کا مکالمہ ہوا۔ میرا سندھ میں خیر پور میں جلسہ تھا مرکزی مسجد میں جمعہ کے بعد ایک غیر مقلد مجھے کہنے لگا کہ تقلید کرنا واجب ہے؟ اور اگر تقلید نہ کریں تو؟ میں نے کہا گناہ ہوتا ہے، وہ کہنے لگا کہ پھر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کس کے مقلد تھے؟ میں نے کہا کسی کے بھی نہیں۔ کہا ان کو گناہ ہوتا تھا؟ میں نے کہا نہیں، کہنے لگا کہ جب تقلید واجب ہے، نہ کرو تو گناہ ہے، تو پھر گناہ تو سب کے لیے ہوتا ہے، امام صاحب نہ کریں تو ان کو گناہ کیوں نہیں ہوتا؟ میں نے کہا میں آپ سے دو مسئلے پوچھتا ہوں پھر یہ مسئلہ آپ کو سمجھ آئے گا۔یہ بتائیں کہ ہر انسان کے لیے کسی نبی کا کلمہ پڑھنا فرض ہے؟ کہا جی ہاں میں نے کہا کلمہ نہ پڑھے تو پھر مؤمن ہوتا ہے؟ کہتا ہے کافر ہوتا ہے۔ میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے؟ کہتا ہے جی ہاں! انسان کامل تھے۔ میں نے کہا کلمہ کس کا پڑھا تھا؟ کہتا ہے کسی کا نہیں۔ میں نے کہا کیوں؟ کہتا ہےوہ تو خود نبی تھے، وہ کسی کا کلمہ کیوں پڑھتے، میں نے کہا یہ ایک مسئلہ ہوگیا۔
🔮 *دوسرا مسئلہ*
دوسرا مسئلہ یہ کہ باجماعت نماز پڑھنا ضروری ہے؟ کہا جی ہاں میں نے کہا نہ پڑھیں تو؟ کہا گناہ ہوتا ہے میں نے پوچھا باجماعت نماز کسے کہتے ہیں؟ کہا کہ کچھ لوگ ایک امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں، یہ نماز باجماعت ہے۔ میں نے کہا تمہاری عوام باجماعت پڑھتی ہے، تمہارے مولوی بے جماعت پڑھتے ہیں، وہ سب گناہ گار ہیں۔ وہ کہتاہے کیوں؟ میں نے کہا وہ کس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں، تو نے خود کہا باجماعت کامعنیٰ ہے کہ کچھ لوگ ایک امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں، تم تو امام کے پیچھے ہو، تمہارا امام کس کے پیچھے ہے، وہ تو بغیر جماعت کے پڑھ کر گناہ گار ہورہا ہے، مجھے کہتاہے نہیں۔ وہ تو خود امام ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا کلمہ اس لیے نہیں پڑھا کہ خود نبی ہیں۔ اور امام کسی کا مقتدی کیوں نہیں اس لیے کہ خود امام ہے۔ میں نے کہا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس لیے تقلید نہیں کرتے کہ خود امام ہیں، مجتہد ہیں، کیوں تقلید کریں گے؟
🌹 *تقلید امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی کی کیوں*
پھر کہنے لگا کہ مجتہد تو اور بھی ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ تعالی،امام مالک رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام اوزاعی رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ، آپ نے سب کو چھوڑ کر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کیوں کی؟ میں نے کہا اس شہر میں ایک ہی مسجد ہے یا اور بھی مسجدیں ہیں؟ کہتا ہے بہت مسجدیں ہیں، میں نے کہا تم نے اور مسجدیں چھوڑ کر یہاں جمعہ کیوں پڑھا؟ کہنے لگا کہ اور مسجدیں چھوٹی ہیں، یہ بڑی ہے۔ میں نے کہا باقی امام چھوٹے ہیں اور یہ بڑے ہیں۔ وہ سندھی تھا، اس لیے مجھے کہتا تھا سائیں آپ دلیل نہیں دیتے، مثال دیتے ہیں؟ میں نے کہا مولوی لائے گا تو دلیل دوں گا، تجھ جیسا جاہل ہوگا، تو مثال دوں گا،مولوی کو قائل کرنے کا اصول اور ہوتا ہے، غیر عالم کو قائل کرنے کا اصول اور ہوتا ہے۔ عالم کو دلیل دیتے ہیں اور غیر عالم کو مثال دیتے ہیں۔ آپ میرے جتنے بیانات سنیں گے تو اس میں دلائل بھی ہوں گے اور مثالیں بھی ہوں گی، دلیل اور ساتھ مثال۔ مثال کے بغیر مسئلہ کھلتا نہیں ہے، مثال کے بغیر وضاحت نہیں ہوتی، مثال کے بغیر بندہ قائل نہیں ہوتا۔
💐 *تقلید غیر مجتہد کرتا ہے۔*
مسائل اجتہادیہ میں غیر مجتہد کا ایسے مجتہد کے مفتی ٰبہ مسائل کو بغیر مطالبۂ دلیل مان لینا، جس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو، ایسا مجتہد کہ اس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو۔ یہ اس لیے کہا کہ ہر کوئی کہے گا کہ میں تو مجتہد ہوں، میری تقلید کرلو، قرآن تو اب نہیں اتر سکتا، حدیث تو نہیں آسکتی اجتہاد کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے، کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں مجتہد ہوں، میری تقلید کرو۔ امام کی تقلید تم نے ضرور کرنی ہے؟ اب آپ کیا جواب دیں گے؟
✅ مولویانہ بحث ہر بندہ نہیں سمجھتا، سیدھی سادی بات بتاؤ کہ ہم اسے مجتہد مانیں گے، جس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو۔
اب پوچھیں گے کہ تو مجتہد ہے تو اس پر دلیل شرعی کیا ہے؟ شرعی دلیل یا تو قرآن ہے، یا شرعی دلیل حدیث ہے،یا شرعی دلیل اجماع امت ہے۔ قیاس سے مجتہد ہونا ثابت نہیں ہو سکتا قیامت تک۔ کیونکہ جس پر قیاس کرے گا اس جیسا بھی ہونا چاہیے وہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔اب بندہ یوں اصول بھی نکالے پھر اصول سے فروع کا استدلال بھی کرے، یوں تو درجہ اسباب میں ناممکن ہے۔ ان کو کہو کہ قرآن پیش کرو،نہیں پیش کرسکتے۔ احادیث پیش کرو،نہیں پیش کر سکتے۔ اجماع امت پیش کرو، نہیں کر سکتے۔
💟 امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پہ بندہ ہزار اعتراض کرے گا، لیکن مجتہد مان کر اعتراض کرے گا۔ اس لیے کہ امام صاحب کا اجتہاد دلیل شرعی اجماع امت سے ثابت ہے اور جس بندے کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو ،اس کی ہم تقلید کرتے ہیں ورنہ ہر بندہ کہے گاکہ میں مجتہد ہوں، میری بات مان لو۔ ہم کہیں گے کہ ہم ماننے کے لیے تیار ہیں لیکن تم اپنے مجتہد ہونے پر دلیل شرعی تو پیش کرو۔ کیا اعتراض ہے ہم مان لیتے ہیں۔ ہم نے ضروری 1200سال پہلے جانا ہے۔ لیکن تم کوئی دلیل شرعی تو پیش کرو۔ تو کل تک ڈاڑھی منڈارہا تھا آج تو نے رکھی ہے، پہلے فلمیں دیکھتا تھا آج تو نے توبہ کی ہے۔ مجتہد اس کو کہتے ہیں؟ جو 50سال تک بدکرداریاں کرے اور پھر امت کا امام بنے۔ اس کو مجتہد نہیں کہتے، اس کو صوفی مان لیں گے، اس کو پیر مان لیں گے،لیکن مجتہد نہیں مانتے۔
📌 مجتہد کی صورتیں کچھ اور ہوتی ہیں، خانقاہ کے پیر کی کچھ اور ہوتی ہیں، بندہ گناہ کرتا رہے، توبہ کرے تو ولی بن جائے اور اللہ اس سے کام لے لے، تو صحیح ہے اس میں کیا حرج ہے، ایسا ہو سکتا ہے بلکہ ہوتابھی ہے کہ دوسروں سے بھی اصلاح زیادہ کرے کیونکہ وہ گناہوں سے گزرکر آیا ہے تو وہ اونچ نیچ زیادہ جانتا ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ دوسروں سے بھی آگے نکل جائے۔اللہ ہمیں یہ بات سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔
🏮 تقلید کی تعریف میں یہ کہا تھا کہ ایسے مجتہد کے مفتیٰ بہ مسائل میں تقلید کی جائےگی۔ اس سے پتا چلا کہ تقلید ان مسائل میں ہے جو مفتیٰ بہ ہیں، ان مسائل میں نہیں جو مفتیٰ بہ نہیں ہیں۔ یہ اس لیے کہا کہ غیر مقلد آپ کے سامنے ایسے مسائل پیش کرے گا کہ جس پر ہمارے فقہاء کا فتویٰ نہیں ہے مثلاً غیر مقلد آپ سے کہے گا کہ قرآن کریم میں ہے کہ ماں اپنے بچے کو دو سال تک دودھ پلائے مگر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اڑھائی سال تک پلا سکتی ہے، تو تمہارے امام کا مسئلہ تو قرآن کے خلاف ہے، ایسے امام کی تقلید کیسے کرو گے؟ ہم اسے کہیں گے کہ امام صاحب رحمہ اللہ کے دو قول ہیں۔ دو سال کا بھی ہے اور اڑھائی سال کا بھی ہے، فتوی ٰ دو سال پر ہے، اس لیے دوسال والا جو فتویٰ ہے اس میں تقلید کرتے ہیں اڑھائی سال والے پر فتویٰ نہیں اس لیے تقلید بھی نہیں کرتے.
☸ *مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک اشکال*
پھر کو ئی بندہ آپ سے کہہ دے گا کہ آپ دو سال والے پر تقلید کیوں کرتے ہیں؟ دو سال کا مسئلہ تو منصوص ہے، منصوص پر تو تقلید نہیں ہوتی۔ قرآن کریم میں ہے۔
*وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ*
(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 233)
❇ دوسال پر تو نص موجود ہے، پھر اس میں تقلید کیسی ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ نہیں، تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے، امام صاحب چھوٹے آدمی نہیں۔ امام صاحب رحمہ اللہ نےحَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ کے باوجود اڑھائی سال کا قول بیان کیا ہے تو اس کی وجہیں ہیں، آپ امام صاحب کے علوم کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے، اسی کو فقہ کہتے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں:
*قرآن کریم میں ہے*
*وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ*
(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر233)
✳ فَإِنْ کامطلب کیا ہے؟”فا“ عربی زبان میں تعقیب مع الوصل کے لیے آتی ہے یعنی بعد میں بھی ہو اور فوراًبھی ہو۔ اب ”فا“ کا مطلب یہ ہے کہ دوسال تک ماں اپنے بچے کو دودھ پلائے، پھر دوسال کے بعد چھڑانا چاہیں مرضی اور مشورے سے تو کوئی حرج نہیں۔ کیوں جی! جب ہے ہی دو سال تو پھر اس کا کیا مطلب کہ مشورے سے چھڑانا چاہیں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔”فا“ کا لفظ بتاتا ہے کہ دو سال کے بعد بھی پلانے کی گنجائش ہے ورنہ فَلَا جُنَاحَ کامعنیٰ ہی نہیں بنتا۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ کے سبق کا وقت اڑھائی سے لے کر چار تک ہے لیکن اگر چار بجے کے بعد بھی10منٹ لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں۔
📍دوسری بات یہ کہ بھائی! سبق کا وقت ہے اڑھائی سے چار بجے تک اور وہاں کا قانون ہے کہ بلڈنگ 4 بجے بند ہو جاتی ہے۔ 4 بجے کے بعد ایک منٹ آپ یہاں ٹھہر ہی نہیں سکتے۔ اگر ٹھہریں گے تو جرمانہ ہوگا، لیکن پھر بھی کہتے ہیں آپ ٹھہریں تو 10منٹ ٹھہرسکتے ہیں۔ بھئی جب چارکے بعد گنجائش نہیں تو پھر آپ گنجائش کیسے دےرہے ہیں؟
⚜ نمازیں پانچ فرض ہیں چھٹی پڑھنا چاہیں، تو گنجائش ہے؟ جب چھٹی ہے ہی نہیں، تو پڑھنے کا کیا مطلب ہے؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ فرض تو پانچ ہیں لیکن اگر آپ تہجد پڑھنا چاہیں، تو پڑھ سکتے ہیں۔ میں فقہ حنفی کے مطابق کہتا ہوں کہ ظہرکے فرض چار ہیں مسافر ہو تو دو ہیں۔ لیکن مسافر چارپڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے؟ مشورے سے پڑھ لو، تو پڑھ سکتے ہیں؟ [نہیں پڑھ سکتے، سامعین ]
🌻 فرض دو ہی ہیں، سنتیں پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے تو پھر دو رکعت فرض کے علاوہ سنت کی گنجائش کیسے نکالیں گے؟ اچھی طرح بات سمجھو! ہم گاڑی میں جارہے ہیں 5منٹ 10منٹ ہمارے پاس ہیں اب فرض کتنے پڑھنے ہیں؟ [دو،سامعین ] میں کہتاہوں حضرت آپ فرمائیں دو کی بجائے چار پڑھ لو، تو پانچ منٹ ہیں اگلے فرض کے ساتھ پڑھنا ہو تو پڑھ لیں؟ اجازت دےسکتے ہیں؟ (نہیں، سامعین ) اچھا میں کہتا ہوں کہ فرض کتنے ہیں؟ دو، اگر پانچ منٹ میں ساتھ چارسنتیں بھی پڑھ لو تو؟ مجھے کہتے ہیں ہاں ہاں پڑھنا ہے تو پڑھ لو، تو چار سنتوں کی اجازت مانگو، اجازت دو ،تو بات بنتی ہے۔ ہاں اگر دو فرضوں کے بعد مزید دو فرضوں کی اجازت مانگو توبات نہیں بنتی۔
🌼 قرآن کریم کیا کہہ رہا ہے کہ مدت ہے دو سال اب اگر اس کے بعد مشورہ سے چھوڑنا چاہے تو کوئی حرج نہیں، اس کا مطلب ہے اس کے بعد پلا سکتے ہیں اور چھڑا بھی سکتے ہیں تو ”فا “ بتارہا ہے دو سال کے بعد گنجائش موجود ہے اب سمجھ آئی امام صاحب کی فقاہت؟ امام صاحب کا دماغ دیکھیں ”فا“ بتاتا ہے کہ کچھ گنجائش موجود ہے اچھا گنجائش کتنی ہے؟ قرآن مجید میں چھبیسویں سپارے میں ہے۔
*وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا*
(سورۃ الاحقاف آیت نمبر 15)
*اس سے پیچھے آیت کہاں سے شروع ہوتی ہے؟*
*وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا آگے حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا آگے وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا*
🔰 *قرآن کریم نے کہا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حمل کے دومعنیٰ ہیں؛ حمل کا ایک معنیٰ ہے اگر بچہ پیٹ کے اندر ہے اسے بھی حمل کہتے ہیں اور اگر بچہ گود میں ہو اسے بھی حمل کہتے ہیں۔*
*قرآن کریم میں آیاہے*
*مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا*
(سورۃ الجمعۃ، آیت نمبر 5)
🌸 یہاں بھی لفظ حمل آتا ہے کہ نہیں؟ یعنی بچہ اگرچہ اس کے پیٹ کے اندر نہ ہو، باہر اٹھایا ہو، اس کا نام بھی حمل ہے ٹھیک ہے؟
*حَمُولَةً وَ فَرْشًا*
(سورۃ الانعام، آیت نمبر142)
🌺 قرآن نے جانوروں کو حمول کہا ہے اچھا اور اگر بچہ پیٹ کے اندر ہو اس کو بھی حمل کہتے ہیں۔ حملۃ سے کیا مراد ہے اب حملۃ کے دونوں معنیٰ ہیں، ایک بچے کا عورت کے پیٹ میں رہنا اور عورت کا اس کو اٹھانا وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا توجہ رکھنا! عورت کا بچے کو پیٹ میں رکھنا اور پیٹ سے نکلنے کے بعد اس کو دودھ پلانا یہ پوری مدت بنتی ہے ثَلَاثُونَ شَهْرًا اب اس کا مطلب کیا ہوگا پیٹ کے اندر حمل اور دو سال کا دودھ۔ 30 مہینے یعنی اڑھائی سال بن گئے، سمجھ آگئی بات؟ اچھا اگر اس سے مراد پیٹ کے اندر نہ ہو بلکہ بچہ گود میں رکھنا ہو تو اس کا مطلب یہ ہےطکہ بچہ جننے کے بعد عورت کا بچے کو گود میں رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا اس کی مدت ہے اڑھائی سال۔
🌹 اس پہ قرینہ موجود ہے کہ اس سے مراد پیٹ والا حمل نہیں ہے، گود والا حمل ہے۔ اس پہ قرینہ موجود ہے۔قرینہ کیا ہے
*حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا*
🔅 اسی نے پیٹ میں رکھا ہے، بڑی مشقت اٹھائی ہے۔ پھر جنا ہے بڑی مشقت اٹھائی ہے۔ اب اس کے بعد مشقت کون سی ہے گود میں رکھ کے تربیت کرنے والی، قرینہ موجود ہے، اس حمل سے مراد پیٹ کے اندر والا حمل نہیں ہے گود میں رکھ کے پالنے والا حمل ہے۔ یقین سے بتادیا مدت رضاعت کتنی بنتی ہے؟ اڑھائی سال ! امام صاحب ایسے تو قول نہیں بیان کرتے ناں!
🌹 *امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی عظمت*
میں صرف ایک مثال دیتا ہوں، آپ کو خود اندازہ ہوگا، ہمارا امام کتنا بڑا ہے، ورنہ طلباء کو نہیں سمجھ آتی ہے، ہمارے امام کتنے بڑے ہیں۔ آپ کہیں گے یار جب نص موجود ہے کہ مدت دو سال ہے، امام صاحب نے اڑھائی سال کا قول بیان کیا کیسے؟ اب امام صاحب فرماتے ہیں ان دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ مدت رضاعت دو سال ہو اور ان دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ مدت رضاعت اڑھائی سال ہو، دو سال کا بھی قول بنتا ہے اڑھائی سال کا بھی قول بنتا ہے لیکن فتویٰ اڑھائی کے بجائے دو سال پر ہے۔ اب امام صاحب نے نئی جہت نکالی، فرمایا: دیکھو چونکہ یہ بھی احتمال ہے اڑھائی سال والا۔ نص میں احتمال تو ہے ناں! لہذا اگر کوئی اڑھائی سال کے اندر اندر دودھ پلا لے تو رضاعت کا حکم جاری کردو۔
🌷 مدت رضاعت تو ہے دو سال، لیکن حرمت مصاہرۃ با لرضاعۃ کے لیے اڑھائی سال رکھو احتیاطاً، کوئی پوچھے مدت رضاعت کتنی ہے؟ تو کیا کہو گے؟ دو سال۔پ ھر کوئی پوچھے حرمت مصاہرۃ بالرضاعۃ اس کی مدت کتنی ہے؟ پھر کیا کہو گے؟ اڑھائی سال۔ کیونکہ احتیاط اس میں ہے۔ اب بتاؤ امام صاحب کی فقہ تک کوئی بندہ پہنچ سکتا ہے؟ میں ایک بات معذرت کے ساتھ کہتا ہوں، یہ امام صاحب کا وہ تفقہ ہے، جس کو ہمارا مفتی بھی نہیں سمجھتا۔ اس لیے امام صاحب کی جلالت شان ہم جیسوں کے دماغ میں نہیں ہوتی۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦
تقلید کی ضرورت و اہمیت
🌟 *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
🌹 *مسائل اجتہادی کی اقسام*
🌷 ہم نے تقلید کے معنیٰ میں پہلا لفظ استعمال کیا مسائل اجتہادیہ۔ مسئلہ اجتہادی ہو تو تقلید ہوتی ہے، مسئلہ اجتہادی نہ ہو تو تقلید نہیں ہوتی۔
اور مسائل اجتہادی کی چار قسمیں ہیں
1⃣ مسئلہ غیر منصوص ہو، قرآن اور حدیث میں مسئلہ موجود ہی نہ ہو۔
2⃣مسئلہ منصوص ہو، لیکن منصوص میں تعارض ہو۔ تو یہ تعارض مجتہد رفع کرے گا۔
3⃣ مسئلہ منصوص ہو اور نص مجمل ہو۔ تو اس اجمال کی وضاحت مجتہد کرے گا۔
4⃣مسئلہ نص میں موجود ہو اور نص محتمل ہو اور اس کے کئی معنیٰ ہوں۔ تو کئی معنیٰ میں سے ایک معنیٰ کا تعین مجتہد کرےگا۔
🎯 اب سمجھ گئے؟ تو تقلید کس میں ہوتی ہے؟ مسائل اجتہادیہ میں۔ اور مسائل اجتہادیہ کا دائرہ چار ہے۔
1: مسائل غیر منصوصہ
2: منصوصہ متعارضہ
3: منصوصہ مجملہ
4: منصوصہ محتملہ
🌹 *تقلید کے سوا کوئی چارہ نہیں*
یہ دائرہ ہے تقلید کا۔ کوئی دنیا میں مائی کا لال ایسا نہیں جو بغیر تقلید کے ان مسائل تک پہنچے، ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی بغیر تقلید کے ان چار مسائل تک پہنچے۔ بات سمجھ آگئی؟
*نمبر1:*
مسئلہ غیر منصوص ہو، بغیر تقلید کے اس تک پہنچے۔ آپ بغیر تقلید کے اس پر کیسے عمل کر یں گے؟ مثلا ًلڑکا ہے رنگون کا، جس لڑکی سے شادی کرنی ہو، وہ کراچی رہتی ہو۔ یہ کراچی نہیں جاسکتا، کراچی والی یہاں نہیں آسکتی۔ اب شادی کیسے کریں؟ کہتے ہیں پہلے شادی کرے، پیپر بنائے، پھر آجائے ایسا ہوتا ہے ناں۔ ایسا یہ کیسے کریں گے؟
کہتے ہیں ٹیلیفونک نکاح، یہ نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں ہے۔ ہوگا کیسے؟ مقلد ہے تو کام چل جائے گا، ایمان بھی بچ جائے گا اور لڑکی بھی مل جائے گی۔ اور اگر غیر مقلد ہے، تو یا اس کو تقلید والا شرک کرنا پڑے گا یا اس کو لڑکی کی قربانی دینی پڑے گی، ہمیں لڑکی بھی مل جائے گی اور ایمان بھی بچ جائے گا۔اگر ٹیلیفونک نکاح کے لیے غیر مقلد مفتی کے پاس جائے اور وہ کہے قرآن وحدیث میں نہیں اور لڑکا کہے کہ میں تو اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ کہتا ہے بیٹا قرآن وحدیث میں تو ہے ہی نہیں، جو قرآن حدیث میں نہ ہو، ایسا مسئلہ تو شرک ہے۔ یا تو اس کو مشرک بننا پڑے گا یا اس کو لڑکی قربان کرنی پڑے گی۔ ہم لڑکی بھی قربان نہیں کریں گے اور مشرک بھی نہیں بنیں گے۔ دارالافتاء جائیں گے،ٹیلیفونک نکاح کی تفصیل پوچھیں گے، نکاح کریں گے، پیپر بنیں گے، لڑکی پاس آ جائے گی، دنیا بھی ٹھیک ہو جائے گی، آخرت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ اگر تقلید نہیں کریں گے تو ایک نقصان ضرور ہے، یہ یاوہ۔
🛡 دوسری مثال بات سمجھانےکے لیے دیتا ہوں۔ باپ ہسپتال میں ہے اور ڈاکٹر کہہ دے کہ اس کو دو بوتلیں خون کی چاہییں۔ اب یہ غیر مقلد لڑکا ہے اور اپنے دارالافتاء جائے، تو وہ کہیں گے ہم نے حدیث کا بہت مطالعہ کیا ہے، کل آنا۔ جب کل آئے گا،تو کہیں گے ہم نے حدیث کا بہت مطالعہ کیا ہے، اس میں یہ تو ہے کہ اگر کوئی بندہ بیمار ہو تو اس کا خون نکال لو، یہ نہیں ہے کہ خون دے دو۔حجامہ کا ذکر ہے، اس میں خون نکالتے ہیں، دیتے نہیں ہیں۔ لہذا تم اپنے باپ کا ایک بوتل خون نکالو، تو بیٹا کہےگا وہ تو مر رہا ہے اس کو تو دو بوتل خون دینا ہے۔ انہوں نے کہنا ہے قرآن و حدیث میں مریض کو خون دینے کا ذکر نہیں ہے، خون نکالنے کا ہے، باپ کا خون نکالو۔ اب وہ کیا کرے گا؟
🔮 اگر وہ حنفی کے پاس آتا ہے، تقلید کرتا ہے، تو مشرک ہوتا ہےاور اگر توحید لیتا ہے، تو باپ جاتا ہے۔یا توحید گئی یا باپ گیا۔ اور اگر تقلید کرے گا، تو توحید بھی رہ جائے گی اور باپ بھی رہ جائے گا۔میں مثالیں دے رہا ہوں تاکہ آپ ان چیزوں کو سمجھیں اور آگے سمجھائیں۔ تقلید ہوتی ہے مسائل اجتہادیہ میں اور مسائل اجتہادیہ میں پہلا مسئلہ غیر منصوص ہے۔ مسئلہ منصوص ہے، تو پھر تو ہم بغیر تقلید کے عمل کریں گے۔
💐 ہم مثال دیتے ہیں مکھی گرنے کی، کب تک مکھی گرنے والی مثال دیتے رہیں گے۔ کوئی جدید مثالیں بھی پیش کریں ناں۔ایک ہی مثال ہمارے پاس ہے کہ مکھی کھانے میں گرگئی ہے، اس کو نکال لیا ہے توکھانا ناپاک نہیں ہوگا۔ اس کے بارے میں تو حدیث آئی ہے، اب مچھر کا کیا کرنا ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ مچھر کھانے میں گرجائے اور غیر مقلد کہے کہ باہر نکالو تو وہ کہے گا کہ میں تو نہیں نکالتا، تم پہلے حدیث سناؤ، حدیث تو ہے ہی نہیں، مچھر کو کیسے باہر نکالے گا۔
*نمبر2:*
مسئلہ منصوص تو ہے لیکن نصوص میں تعارض ہے، ایک نص میں ہے کہ رفع الیدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ایک نص میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین نہیں فرمایا، چھوڑ دیا۔ اب دونوں نصوص ہیں، کرنے کی بھی ہیں اور نہ کرنے کی بھی ہیں۔ اب کس پر عمل کریں؟ ایک بندہ کہتاہے صحیح پر عمل کرو، ضعیف چھوڑدو۔ پو چھو صحیح کو نسی ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ یہ ضعیف ہے؟ کسی حدیث پہ صحت یا ضعف کا حکم لگانا یہ امرِ اجتہادی ہے۔ قواعد فی علوم الحدیث میں علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے بڑی وضاحت سے یہ بات کی ہے، آپ اس کو ذرا پڑھیں۔
✅ ایک بندہ کہتا ہے کہ صحیح کو لے لو اور ضعیف کو چھوڑ دو۔ بولو صحت و ضعف کا پتا کیسے چلے گا؟ جو بتائے گا وہ اجتہاد سے بتائے گا۔یا کہتے ہیں پہلے والی کو چھوڑ دو بعد والی کو لے لو اور یہ بھی کوئی حدیث تو نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوکہ یہ حدیث پہلے کی ہے اور یہ حدیث بعد کی ہے ،پہلے اور بعد والا زمانہ کیسے پتا چلےگا؟ قرائن جمع کریں گے، مسئلہ نص میں موجود ہے لیکن نصوص میں تعارض ہے، تو تعارض بغیر مجتہد کے رفع ہو ہی نہیں سکتا۔ دنیا میں کوئی مائی کا لال ایسا نہیں جو کہے کہ میں تعارض رفع کرتا ہوں بغیر اجتہاد کے۔
*نمبر 3:*
مسئلہ نص میں موجود ہے، مگر نص میں کئی احتمال ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے، اور وہ بھی احتمال ہے۔ اب اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ اس کی مثال کیا ہے تو آپ نے ایک مثال دینی ہے
*وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ*
(سورۃ البقرۃ آیت نمبر228)
💟 قروء کامعنیٰ حیض بھی ہے، طہر بھی ہے۔ یہی ہے ناں؟ ہمارے پاس ایک مثال پکی پکائی ہے، جو ہر سال ہم نے سنانی ہے۔ ایسی بہت سی نصوص ملتی ہیں کہ جن میں دو احتمال ہیں۔ میں آپ کو ایسی مثال دیتا ہوں جو آپ کے لیے بالکل نئی ہوگی اور اس سے ایک اور مسئلہ بھی حل ہو جائےگا۔
📌 *تین طلاق ،اور غیر مقلدین*
آج ایک فتنہ چلا ہے کہ تین طلاق اکٹھی دو، تو ایک ہوتی ہے اہل السنت و الجماعت کا اتفاق ہے کہ تین طلاق دو توتین ہی ہو تی ہیں، چاہے ایک مجلس میں دو، یا کئی مجالس میں۔ غیر مقلد، روافض اور مرزائی یہ تین طبقے کہتے ہیں کہ تین طلاقیں دو تو ایک ہوتی ہے، اس مسئلے پر غیر مقلدین حضرات کے ہاں جو سب سے بڑی اور قوی دلیل ہے، وہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
*كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة*
(صحیح مسلم رقم الحدیث 1472)
🏮 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، صدیق اکبر کی خلافت کے دور میں اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں میں 3 طلاق ایک شمار ہوتی تھیں۔ اور بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ تین طلاق دو تو تین ہونگی۔ کہتے ہیں کہ حضور کے دور میں تین ایک ہے، تو اب کیوں نہیں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں تین ایک ہے، تو اب ایک کیوں نہیں؟ اور جب یہ دلیل آتی ہے تو ہم سے جواب نہیں بنتا۔ اور دلیل بھی صحیح مسلم کی ہے کوئی عام کتاب تو نہیں ہے ناں۔
☸ *صحیح مسلم کی طلاق والی روایت کا جواب*
اس کے جوابات بہت ہیں، میں ایک جواب آپ حضرات کے سامنے عرض کرتا ہوں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بعد جو مرکزی راوی ہے، وہ طاؤس ہے اور یہ طاؤس شیعہ تھا اور اصول حدیث میں ہے کہ اگر بدعتی راوی اپنے مسلک کی تائید میں روایت پیش کرے تو وہ قبول نہیں ہوتی۔ اگر اپنے مسلک کے خلاف پیش کرے تو قبول ہوتی ہے۔ تین کو ایک کہنا روافض کا مذہب ہے، یہ چونکہ رافضی ہے اس لیے اس کی حدیث اس کے حق میں قابل قبول نہیں، اس کے خلاف ہوگی تو قابل قبول ہوگی۔
❇ دوسرا جواب یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حدیث کے پہلے راوی ہیں اور اصول حدیث میں سے ہے کہ راوی کوئی روایت نقل کرے اور فتویٰ اس کے خلاف نقل کرے۔ تو اس کے فتوے کا اعتبار ہوتاہے روایت یا قول کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سارے فتوے تین طلاق کے تین ہونے کے ہیں، تین کے ایک ہونے کا ایک فتویٰ بھی نہیں ہے۔ اگر اس روایت کا وہی معنیٰ ہوتا، جو غیر مقلد کرتے ہیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ خود تین کو ایک کیوں نہیں کہتے؟ تین کوتین کیوں کہتے ہیں؟
✳ *تکرار اور استیناف*
جواب کئی ہیں، میں صرف احتمال ہی بتا رہا ہوں۔ اس کا اصل معنیٰ کیاہے؟ امام نووی رحمہ اللہ نے اسی حدیث کے حاشیے میں لکھا ہے کہ عربی میں دو لفظ ہیں ایک ہے تاکید اور ایک ہے استیناف، ایک ہی لفظ کو بار بار ذکر کرلیا اور معنیٰ ایک ہو اس کا نام تاکید ہے ایک ہی لفظ کو باربار ذکر کریں اور ہر بار ذکر کرنے سے معنیٰ الگ ہو اس کا نام استیناف ہے۔
📍 میں آج دارالعلوم میں بھی کہہ رہا تھا کہ اصطلاحی الفاظ کا عوامی زبان میں معنیٰ کریں۔ تاکید کی مثال کہ ایک لفظ کو بار بار ذکر کرے اورمعنیٰ ایک ہو۔ گھر میں عورت آواز دیتی ہے، عبدالرحمٰن! ابو کو بلاؤ، سانپ آگیا ہے، سانپ آگیا ہے، سانپ آگیا ہے، حالانکہ سانپ تین نہیں آئے، ایک ہی آیا ہے۔ اسی کو تاکید کہتے ہیں۔ شور مچارہی ہے، سانپ سانپ کہہ رہی ہے، کئی سانپ نہیں، ایک ہی سانپ ہے۔ اسی کو تاکید کہتے ہیں۔
⚜ اور اگر لفظ ایک ہو، بار بار ذکر کرنے سے معنیٰ الگ الگ ہو جائے، اس کو استیناف کہتے ہیں۔ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے۔ ہر بارمعنیٰ بدل رہاہے، تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اب یہ تاکید ہے یااستیناف؟ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بہت خیر کا زمانہ تھا جب کوئی بندہ بیوی سے کہتا انتِ طالق طالق طالق تو اس سے پوچھتے کہ دوسرا طالق طالق تاکید ہے یا استیناف ہے؟ اگر کہتا کہ تاکید ہے تو طلاق ایک ہوتی اور اگر کہتا استیناف، تو طلاقیں تین ہوتیں۔ لیکن اگر انت طالق ثلاثا کہے تو پھر ثلاثاً نص ہے کہ تین تین ہی ہوتی ہیں اور غیر مقلد کے ہاں تین ہوں، تو بھی ایک ہوتی ہے۔
🌻 یہ دلیل ان کی نہیں بنتی، اگر کہے انت طالق ثلاثا ًتو وہ پھر بھی کہتے ہیں ایک ہوگی۔ حالانکہ اس حدیث کا تعلق
*انت طالق طالق طالق*
سے تھا ،اس میں ارادہ پوچھتے کہ ایک کا ارادہ ہے یا تین کا، اگر تین کہتا تو تین ہوتی، اگر ایک کہتا تو ایک ہوتی تھی۔ اس لیے کہ طالق صریح لفظ ہے، طلاق ہو جائے گی باقی اگلا طالق طالقتین میں صریح نہیں ہے۔ تاکید ہو گا، تو ایک ہوگی اور استیناف ہو گا تو پھر تین ہوں گی۔ تو اس زمانے میں پوچھ لیا جاتاتھا۔
🌼 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چونکہ اس میں دونوں احتمال ہیں۔ تین کا بھی، ایک کا بھی۔اب جبکہ شر پھیل گیا، عجم عرب سے مل گئے ہیں، شروع میں تین کی نیت کریں گے، جب غصہ اترےگا، توکہے گا میری نیت تو ایک کی تھی، یوں فساد پیدا ہو گا۔ اس لیے میں فیصلہ کرتا ہوں، اگر چہ اس میں احتمال دونوں موجود ہیں، مگر ہم نے تاکید کے احتمال کو ختم کردیا، استیناف کے احتمال کو متعین کردیاہے۔ مجتہد کی بات ماننا ضروری ہے۔ اب یہ اس کا صحیح محمل ہے۔ میں عرض کررہا تھا کہ مسئلہ منصوص ہوگا، لیکن اس نص میں کئی معنیٰ کا احتمال ہوگا، ایک احتمال کا تعین مجتہد کرے گا قروء کامعنیٰ حیض ہے یا طہر؟ اس کی تعیین مجتہد کرے گا۔
🔰 *ایک اور اجتہادی مسئلہ*
ایک اور مثال عہد صحابہ رضی اللہ عنہ سے (صحیح بخاری میں اس کی بڑی بہترین مثال ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خندق سے فارغ ہوگئے تو ادھر سے جبرائیل امین آگئے وحی لے کر، کہا: آپ ذرا بنو قریظہ چلیں، تو صحیح بخاری میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
*لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ*
(صحیح بخاری، رقم الحدیث 4119)
🌸 تم میں سے کوئی بندہ محلہ بنو قریظہ کے علاوہ میں عصر نہ پڑھے۔ بنو قریظہ کے محلے میں عصر جاکر پڑھو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم چل پڑے، ابھی بنو قریظہ کے محلے میں نہیں پہنچے کہ سورج غروب ہو نے کے قریب ہو گیا۔
صحابہ رضی اللہ عنہم میں اختلاف ہو گیا۔ بعض نے کہا عصر کی نماز پڑھ لیں اور قضا نہ کریں۔ بعض نے کہا قضا بھی ہوجائے گی، تو عصر کی نماز وہاں جاکے پڑھیں گے۔ حالانکہ لفظ بالکل واضح ہے، لیکن اختلاف معنیٰ کے تعین میں ہواہے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ؓنے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا یہ تھی، اتنا تیز چلو کہ عصر تک وہاں پہنچ جاؤ۔ب عض نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا یہ تھی کہ تم نے عصر ہی وہاں جاکر پڑھنی ہے۔
🌺 بعض نے ظاہر کو لیا اور بعض نے تاویل کر کے دوسرا معنیٰ لیا۔ احتمال دونوں کا موجود ہے۔بعض نے ایک احتمال کو لیا اور بعض نے دوسرے احتمال کو لیا، بعض نے پہلے احتمال کو لیا اور نماز ادا کرلی اور مغرب میں بنو قریظہ کے محلے میں پہنچے اور بعضوں نے عصر قضا کرلی مگر پڑھی بنوقریظہ میں جاکر۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک کو بھی غلط نہیں کہا، دونوں کو فرمایا: ٹھیک ہے، کسی پر تنقید نہیں فرمائی، دونوں کی تصویب فرمائی۔ دیکھو! یہاں پر نص ایک ہے، لیکن دونوں احتمال ہیں، اب ایک احتمال کا تعین مجتہد کرےگا۔
*نمبر 4:*
مسئلہ نص میں موجو د ہو، اور نص مجمل ہو، تو اس اجمال کو دور مجتہد کرےگا۔ اس کی مثال قرآن مجید میں سب سے آسان یہ ہے۔
*يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ الخ*
(سورۃ المائدۃ آیت نمبر 6)
🌹 اے ایمان والو! تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ اپنے چہرے کو دھولیا کرو، قرآن نے یہ تو کہا چہرہ کو دھو لیا کرو، مگر چہرہ کہتے کسے ہیں؟ یہ قرآن میں نہیں ہے۔ غسلِ وجوہ کا حکم مجمل ہے۔ وجوہ کہتے کسے ہیں؟ یہ قرآن میں نہیں ہے۔ اب بتاؤکہ چہرہ کیا ہے یہ تو قرآن میں نہیں ہے ناں! تو چہرے کی حد بندی کون بتائے گا؟ اب اس اجمال کی تفسیر کون کرے گا؟ کوئی نہیں کر سکتا۔
🔅 *ڈاڑھی کی تعریف و تحدید*
لوگ مسئلہ پوچھتے ہیں ناں کہ رخسار کے اوپر والے بال کاٹ سکتے ہیں کہ نہیں؟ پو چھتے ہیں ناں، یہ نیچے گردن کا خط کرسکتے ہیں کہ نہیں، پوچھتے ہیں کہ نہیں؟ پوچھتے ہیں۔ بات سمجھ آرہی ہے؟ جس بندے کو ڈاڑھی کا معنیٰ آتا ہے، اس کو کوئی الجھن نہیں ہے ناں۔ جس کو ڈاڑھی ر کھنے کاشرعی حکم نہیں آتا ہے،وہ تو پوچھے گا، رخسار کے بال کاٹنے ہیں کہ نہیں؟ حکم تو ڈاڑھی رکھنے کا ہے ناں۔جو ڈاڑھی ہے اس کو رکھنا ضروری ہے، جو ڈاڑھی نہیں، اس کو رکھنا ضروری نہیں ہے۔ تو ڈاڑھی ڈاڑ ھ سے ہے۔ جو بال ڈاڑھ پر ہے وہ ڈاڑھی ہے، اور جو بال داڑھ سے اوپر یا نیچے حصہ میں ہے اسے چاہے تو رکھ لو چاہے تو کاٹ دو۔اب کیا مشکل ہے۔ پوچھنے والا کیوں پوچھتا ہے؟ کیوں کہ اس کو ڈاڑھی کےمعنیٰ کاپتا نہیں ہے ناں۔
🌷 *حضرت اوکاڑوی رحمہ اللہ کا علمی لطیفہ*
بسا اوقات لوگ اعتراض بھی کرتے ہیں اور ڈاڑھی کا معنیٰ بھی نہیں آتا اس سے پوچھو، ڈارھی کا معنیٰ ہے کیا؟ وہ کہے گا کہ مجھے نہیں پتا، اعتراض کرنے کا پتا ہے معنیٰ کا نہیں پتا۔ اعتراض کرنا بہت آسان ہے، حضر ت مولانا امین صفدر اکاڑوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ٹرین میں سفر کررہا تھا، میں اوپر برتھ پر لیٹا تھا،پتا ہے ناں، نیچے سیٹ ہوتی ہے اور اوپر برتھ ہوتی ہے۔ تو دو آدمی نیچے بحث کر رہے تھے۔ ایک کہتا ہے ڈاڑھی اتنی ہونی چاہیے۔ دوسرا کہتا ہے کہ ڈاڑھی اتنی ہونی چاہیے۔ ایک کہتا ہے کہ ڈاڑھی ایک مٹھی ہونی چاہیےدوسرا کہتا ہے کہ ڈاڑھی ناف تک ہونی چاہیے۔ جب میں نیچے آیا تھا تو ایک بندے نے کہا کہ مولوی صاحب آپ بتائیں، ڈاڑھی کتنی ہونی چاہیے؟ حضرت فرماتے ہیں کہ تمہارا اختلاف کیا ہے؟ ایک کہتا ہے کہ ڈاڑھی ایک مٹھی ہے، دوسرا کہتا ہے کہ ناف تک ہونی چاہیے۔
تو مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے مزاق میں کہا کہ اختلاف ڈاڑھی میں ہےیا ڈاڑھ میں ہے؟ ایک ہوتی ہے ڈاڑھی، ایک ہوتی ہے ڈاڑھ، مسئلہ تو ڈاڑھی کا ہے، ڈاڑھی اور ڈاڑھ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ جو یہاں تک ہے اس کو ڈاڑھی کہتے ہیں۔ اس کو ڈاڑھ تھوڑی کہتے ہیں۔ نہیں سمجھے! ڈاڑھ کہتے ہیں بہت بڑی چیز کو مبالغہ پیداکرنے کے لیے۔ اس طرح کرتے ہیں ناں۔ فرماتے ہیں کہ مسئلہ ڈاڑھی کا ہے اگر ڈاڑھی نہ ہو تو بہت بڑا ڈاڑھ ہو گا اب بات سمجھ میں آگئی؟
🏵 *ڈاڑھی کی تحدید پر غیر مقلد کا اعتراض*
ایک غیر مقلد کہتا ہے کہ ڈاڑھی بڑی رکھنی چاہیے کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک بندہ نماز پڑھتا تھا، سلام پھیرتے تو اسکی ڈاڑھی نظر آتی تھی۔ میں نے کہا مسئلہ چوڑائی کا نہیں ہے مسئلہ لمبائی کا ہے، تم کہتے ہو چوڑائی کا ہے چوڑائی کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے۔
💎 دوسری بات یہ ہے کہ مسائل اجتہادیہ میں مجتہد پر تقلید واجب نہیں ہوتی، حضرت علی رضی اللہ عنہ خود مجتہد تھے، تقلید غیر مجتہد کرتے ہیں، مجتہد نہیں کرتے۔
🎯 *حضرت تھانوی کی عبارت پر اعتراض اور جواب*
غیر مقلد آپ کو حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمہ اللہ کی عبارت پیش کرے گا اور آپ پھنس جائیں گے۔ عبارت کیا ہے؟ تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ”یہ بات تو قطعیت سے ثابت ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ غیر مقلد تھے“ کہیں گے امام صاحب غیر مقلد ہیں، میں غیرمقلد بن گیا تو کیا حرج ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ غیر مقلد ہے، میں بناتو کیا حرج ہے؟ بات سمجھ گئے؟
🛡 حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی عبارت کا مطلب کیا ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ غیر مقلد تھے یعنی مقلد نہیں تھے بلکہ مجتہد تھے۔ مجتہد کے مقابلے میں ہوتا ہےمقلد، تو مجتہد کون ہوتاہے؟ غیر مقلد، اور اس کا مقابل مقلد۔اس لیے مجتہد کسی کا مقلد نہیں ہوتا۔ ایک ہوتا ہے غیر مقلد بمقابلہ مقلد، یعنی مجتہد بھی نہیں ہے اور مقلد بھی نہیں ہے،بلکہ غیر مقلد ہے۔ تو دونوں کا مطلب الگ ہے ناں؟ یہ مقلد بھی نہیں اور مجتہد بھی نہیں بلکہ غیر مقلد ہے۔اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ مجتہد تھے
*ایک غیر مقلد سےمکالمہ*
مجھ سے ایک غیر مقلد کا مکالمہ ہوا۔ میرا سندھ میں خیر پور میں جلسہ تھا مرکزی مسجد میں جمعہ کے بعد ایک غیر مقلد مجھے کہنے لگا کہ تقلید کرنا واجب ہے؟ اور اگر تقلید نہ کریں تو؟ میں نے کہا گناہ ہوتا ہے، وہ کہنے لگا کہ پھر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کس کے مقلد تھے؟ میں نے کہا کسی کے بھی نہیں۔ کہا ان کو گناہ ہوتا تھا؟ میں نے کہا نہیں، کہنے لگا کہ جب تقلید واجب ہے، نہ کرو تو گناہ ہے، تو پھر گناہ تو سب کے لیے ہوتا ہے، امام صاحب نہ کریں تو ان کو گناہ کیوں نہیں ہوتا؟ میں نے کہا میں آپ سے دو مسئلے پوچھتا ہوں پھر یہ مسئلہ آپ کو سمجھ آئے گا۔یہ بتائیں کہ ہر انسان کے لیے کسی نبی کا کلمہ پڑھنا فرض ہے؟ کہا جی ہاں میں نے کہا کلمہ نہ پڑھے تو پھر مؤمن ہوتا ہے؟ کہتا ہے کافر ہوتا ہے۔ میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے؟ کہتا ہے جی ہاں! انسان کامل تھے۔ میں نے کہا کلمہ کس کا پڑھا تھا؟ کہتا ہے کسی کا نہیں۔ میں نے کہا کیوں؟ کہتا ہےوہ تو خود نبی تھے، وہ کسی کا کلمہ کیوں پڑھتے، میں نے کہا یہ ایک مسئلہ ہوگیا۔
🔮 *دوسرا مسئلہ*
دوسرا مسئلہ یہ کہ باجماعت نماز پڑھنا ضروری ہے؟ کہا جی ہاں میں نے کہا نہ پڑھیں تو؟ کہا گناہ ہوتا ہے میں نے پوچھا باجماعت نماز کسے کہتے ہیں؟ کہا کہ کچھ لوگ ایک امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں، یہ نماز باجماعت ہے۔ میں نے کہا تمہاری عوام باجماعت پڑھتی ہے، تمہارے مولوی بے جماعت پڑھتے ہیں، وہ سب گناہ گار ہیں۔ وہ کہتاہے کیوں؟ میں نے کہا وہ کس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں، تو نے خود کہا باجماعت کامعنیٰ ہے کہ کچھ لوگ ایک امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں، تم تو امام کے پیچھے ہو، تمہارا امام کس کے پیچھے ہے، وہ تو بغیر جماعت کے پڑھ کر گناہ گار ہورہا ہے، مجھے کہتاہے نہیں۔ وہ تو خود امام ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا کلمہ اس لیے نہیں پڑھا کہ خود نبی ہیں۔ اور امام کسی کا مقتدی کیوں نہیں اس لیے کہ خود امام ہے۔ میں نے کہا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس لیے تقلید نہیں کرتے کہ خود امام ہیں، مجتہد ہیں، کیوں تقلید کریں گے؟
🌹 *تقلید امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی کی کیوں*
پھر کہنے لگا کہ مجتہد تو اور بھی ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ تعالی،امام مالک رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام اوزاعی رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ، آپ نے سب کو چھوڑ کر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کیوں کی؟ میں نے کہا اس شہر میں ایک ہی مسجد ہے یا اور بھی مسجدیں ہیں؟ کہتا ہے بہت مسجدیں ہیں، میں نے کہا تم نے اور مسجدیں چھوڑ کر یہاں جمعہ کیوں پڑھا؟ کہنے لگا کہ اور مسجدیں چھوٹی ہیں، یہ بڑی ہے۔ میں نے کہا باقی امام چھوٹے ہیں اور یہ بڑے ہیں۔ وہ سندھی تھا، اس لیے مجھے کہتا تھا سائیں آپ دلیل نہیں دیتے، مثال دیتے ہیں؟ میں نے کہا مولوی لائے گا تو دلیل دوں گا، تجھ جیسا جاہل ہوگا، تو مثال دوں گا،مولوی کو قائل کرنے کا اصول اور ہوتا ہے، غیر عالم کو قائل کرنے کا اصول اور ہوتا ہے۔ عالم کو دلیل دیتے ہیں اور غیر عالم کو مثال دیتے ہیں۔ آپ میرے جتنے بیانات سنیں گے تو اس میں دلائل بھی ہوں گے اور مثالیں بھی ہوں گی، دلیل اور ساتھ مثال۔ مثال کے بغیر مسئلہ کھلتا نہیں ہے، مثال کے بغیر وضاحت نہیں ہوتی، مثال کے بغیر بندہ قائل نہیں ہوتا۔
💐 *تقلید غیر مجتہد کرتا ہے۔*
مسائل اجتہادیہ میں غیر مجتہد کا ایسے مجتہد کے مفتی ٰبہ مسائل کو بغیر مطالبۂ دلیل مان لینا، جس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو، ایسا مجتہد کہ اس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو۔ یہ اس لیے کہا کہ ہر کوئی کہے گا کہ میں تو مجتہد ہوں، میری تقلید کرلو، قرآن تو اب نہیں اتر سکتا، حدیث تو نہیں آسکتی اجتہاد کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے، کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں مجتہد ہوں، میری تقلید کرو۔ امام کی تقلید تم نے ضرور کرنی ہے؟ اب آپ کیا جواب دیں گے؟
✅ مولویانہ بحث ہر بندہ نہیں سمجھتا، سیدھی سادی بات بتاؤ کہ ہم اسے مجتہد مانیں گے، جس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو۔
اب پوچھیں گے کہ تو مجتہد ہے تو اس پر دلیل شرعی کیا ہے؟ شرعی دلیل یا تو قرآن ہے، یا شرعی دلیل حدیث ہے،یا شرعی دلیل اجماع امت ہے۔ قیاس سے مجتہد ہونا ثابت نہیں ہو سکتا قیامت تک۔ کیونکہ جس پر قیاس کرے گا اس جیسا بھی ہونا چاہیے وہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔اب بندہ یوں اصول بھی نکالے پھر اصول سے فروع کا استدلال بھی کرے، یوں تو درجہ اسباب میں ناممکن ہے۔ ان کو کہو کہ قرآن پیش کرو،نہیں پیش کرسکتے۔ احادیث پیش کرو،نہیں پیش کر سکتے۔ اجماع امت پیش کرو، نہیں کر سکتے۔
💟 امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پہ بندہ ہزار اعتراض کرے گا، لیکن مجتہد مان کر اعتراض کرے گا۔ اس لیے کہ امام صاحب کا اجتہاد دلیل شرعی اجماع امت سے ثابت ہے اور جس بندے کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو ،اس کی ہم تقلید کرتے ہیں ورنہ ہر بندہ کہے گاکہ میں مجتہد ہوں، میری بات مان لو۔ ہم کہیں گے کہ ہم ماننے کے لیے تیار ہیں لیکن تم اپنے مجتہد ہونے پر دلیل شرعی تو پیش کرو۔ کیا اعتراض ہے ہم مان لیتے ہیں۔ ہم نے ضروری 1200سال پہلے جانا ہے۔ لیکن تم کوئی دلیل شرعی تو پیش کرو۔ تو کل تک ڈاڑھی منڈارہا تھا آج تو نے رکھی ہے، پہلے فلمیں دیکھتا تھا آج تو نے توبہ کی ہے۔ مجتہد اس کو کہتے ہیں؟ جو 50سال تک بدکرداریاں کرے اور پھر امت کا امام بنے۔ اس کو مجتہد نہیں کہتے، اس کو صوفی مان لیں گے، اس کو پیر مان لیں گے،لیکن مجتہد نہیں مانتے۔
📌 مجتہد کی صورتیں کچھ اور ہوتی ہیں، خانقاہ کے پیر کی کچھ اور ہوتی ہیں، بندہ گناہ کرتا رہے، توبہ کرے تو ولی بن جائے اور اللہ اس سے کام لے لے، تو صحیح ہے اس میں کیا حرج ہے، ایسا ہو سکتا ہے بلکہ ہوتابھی ہے کہ دوسروں سے بھی اصلاح زیادہ کرے کیونکہ وہ گناہوں سے گزرکر آیا ہے تو وہ اونچ نیچ زیادہ جانتا ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ دوسروں سے بھی آگے نکل جائے۔اللہ ہمیں یہ بات سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔
🏮 تقلید کی تعریف میں یہ کہا تھا کہ ایسے مجتہد کے مفتیٰ بہ مسائل میں تقلید کی جائےگی۔ اس سے پتا چلا کہ تقلید ان مسائل میں ہے جو مفتیٰ بہ ہیں، ان مسائل میں نہیں جو مفتیٰ بہ نہیں ہیں۔ یہ اس لیے کہا کہ غیر مقلد آپ کے سامنے ایسے مسائل پیش کرے گا کہ جس پر ہمارے فقہاء کا فتویٰ نہیں ہے مثلاً غیر مقلد آپ سے کہے گا کہ قرآن کریم میں ہے کہ ماں اپنے بچے کو دو سال تک دودھ پلائے مگر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اڑھائی سال تک پلا سکتی ہے، تو تمہارے امام کا مسئلہ تو قرآن کے خلاف ہے، ایسے امام کی تقلید کیسے کرو گے؟ ہم اسے کہیں گے کہ امام صاحب رحمہ اللہ کے دو قول ہیں۔ دو سال کا بھی ہے اور اڑھائی سال کا بھی ہے، فتوی ٰ دو سال پر ہے، اس لیے دوسال والا جو فتویٰ ہے اس میں تقلید کرتے ہیں اڑھائی سال والے پر فتویٰ نہیں اس لیے تقلید بھی نہیں کرتے.
☸ *مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک اشکال*
پھر کو ئی بندہ آپ سے کہہ دے گا کہ آپ دو سال والے پر تقلید کیوں کرتے ہیں؟ دو سال کا مسئلہ تو منصوص ہے، منصوص پر تو تقلید نہیں ہوتی۔ قرآن کریم میں ہے۔
*وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ*
(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 233)
❇ دوسال پر تو نص موجود ہے، پھر اس میں تقلید کیسی ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ نہیں، تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے، امام صاحب چھوٹے آدمی نہیں۔ امام صاحب رحمہ اللہ نےحَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ کے باوجود اڑھائی سال کا قول بیان کیا ہے تو اس کی وجہیں ہیں، آپ امام صاحب کے علوم کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے، اسی کو فقہ کہتے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں:
*قرآن کریم میں ہے*
*وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ*
(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر233)
✳ فَإِنْ کامطلب کیا ہے؟”فا“ عربی زبان میں تعقیب مع الوصل کے لیے آتی ہے یعنی بعد میں بھی ہو اور فوراًبھی ہو۔ اب ”فا“ کا مطلب یہ ہے کہ دوسال تک ماں اپنے بچے کو دودھ پلائے، پھر دوسال کے بعد چھڑانا چاہیں مرضی اور مشورے سے تو کوئی حرج نہیں۔ کیوں جی! جب ہے ہی دو سال تو پھر اس کا کیا مطلب کہ مشورے سے چھڑانا چاہیں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔”فا“ کا لفظ بتاتا ہے کہ دو سال کے بعد بھی پلانے کی گنجائش ہے ورنہ فَلَا جُنَاحَ کامعنیٰ ہی نہیں بنتا۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ کے سبق کا وقت اڑھائی سے لے کر چار تک ہے لیکن اگر چار بجے کے بعد بھی10منٹ لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں۔
📍دوسری بات یہ کہ بھائی! سبق کا وقت ہے اڑھائی سے چار بجے تک اور وہاں کا قانون ہے کہ بلڈنگ 4 بجے بند ہو جاتی ہے۔ 4 بجے کے بعد ایک منٹ آپ یہاں ٹھہر ہی نہیں سکتے۔ اگر ٹھہریں گے تو جرمانہ ہوگا، لیکن پھر بھی کہتے ہیں آپ ٹھہریں تو 10منٹ ٹھہرسکتے ہیں۔ بھئی جب چارکے بعد گنجائش نہیں تو پھر آپ گنجائش کیسے دےرہے ہیں؟
⚜ نمازیں پانچ فرض ہیں چھٹی پڑھنا چاہیں، تو گنجائش ہے؟ جب چھٹی ہے ہی نہیں، تو پڑھنے کا کیا مطلب ہے؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ فرض تو پانچ ہیں لیکن اگر آپ تہجد پڑھنا چاہیں، تو پڑھ سکتے ہیں۔ میں فقہ حنفی کے مطابق کہتا ہوں کہ ظہرکے فرض چار ہیں مسافر ہو تو دو ہیں۔ لیکن مسافر چارپڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے؟ مشورے سے پڑھ لو، تو پڑھ سکتے ہیں؟ [نہیں پڑھ سکتے، سامعین ]
🌻 فرض دو ہی ہیں، سنتیں پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے تو پھر دو رکعت فرض کے علاوہ سنت کی گنجائش کیسے نکالیں گے؟ اچھی طرح بات سمجھو! ہم گاڑی میں جارہے ہیں 5منٹ 10منٹ ہمارے پاس ہیں اب فرض کتنے پڑھنے ہیں؟ [دو،سامعین ] میں کہتاہوں حضرت آپ فرمائیں دو کی بجائے چار پڑھ لو، تو پانچ منٹ ہیں اگلے فرض کے ساتھ پڑھنا ہو تو پڑھ لیں؟ اجازت دےسکتے ہیں؟ (نہیں، سامعین ) اچھا میں کہتا ہوں کہ فرض کتنے ہیں؟ دو، اگر پانچ منٹ میں ساتھ چارسنتیں بھی پڑھ لو تو؟ مجھے کہتے ہیں ہاں ہاں پڑھنا ہے تو پڑھ لو، تو چار سنتوں کی اجازت مانگو، اجازت دو ،تو بات بنتی ہے۔ ہاں اگر دو فرضوں کے بعد مزید دو فرضوں کی اجازت مانگو توبات نہیں بنتی۔
🌼 قرآن کریم کیا کہہ رہا ہے کہ مدت ہے دو سال اب اگر اس کے بعد مشورہ سے چھوڑنا چاہے تو کوئی حرج نہیں، اس کا مطلب ہے اس کے بعد پلا سکتے ہیں اور چھڑا بھی سکتے ہیں تو ”فا “ بتارہا ہے دو سال کے بعد گنجائش موجود ہے اب سمجھ آئی امام صاحب کی فقاہت؟ امام صاحب کا دماغ دیکھیں ”فا“ بتاتا ہے کہ کچھ گنجائش موجود ہے اچھا گنجائش کتنی ہے؟ قرآن مجید میں چھبیسویں سپارے میں ہے۔
*وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا*
(سورۃ الاحقاف آیت نمبر 15)
*اس سے پیچھے آیت کہاں سے شروع ہوتی ہے؟*
*وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا آگے حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا آگے وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا*
🔰 *قرآن کریم نے کہا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حمل کے دومعنیٰ ہیں؛ حمل کا ایک معنیٰ ہے اگر بچہ پیٹ کے اندر ہے اسے بھی حمل کہتے ہیں اور اگر بچہ گود میں ہو اسے بھی حمل کہتے ہیں۔*
*قرآن کریم میں آیاہے*
*مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا*
(سورۃ الجمعۃ، آیت نمبر 5)
🌸 یہاں بھی لفظ حمل آتا ہے کہ نہیں؟ یعنی بچہ اگرچہ اس کے پیٹ کے اندر نہ ہو، باہر اٹھایا ہو، اس کا نام بھی حمل ہے ٹھیک ہے؟
*حَمُولَةً وَ فَرْشًا*
(سورۃ الانعام، آیت نمبر142)
🌺 قرآن نے جانوروں کو حمول کہا ہے اچھا اور اگر بچہ پیٹ کے اندر ہو اس کو بھی حمل کہتے ہیں۔ حملۃ سے کیا مراد ہے اب حملۃ کے دونوں معنیٰ ہیں، ایک بچے کا عورت کے پیٹ میں رہنا اور عورت کا اس کو اٹھانا وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا توجہ رکھنا! عورت کا بچے کو پیٹ میں رکھنا اور پیٹ سے نکلنے کے بعد اس کو دودھ پلانا یہ پوری مدت بنتی ہے ثَلَاثُونَ شَهْرًا اب اس کا مطلب کیا ہوگا پیٹ کے اندر حمل اور دو سال کا دودھ۔ 30 مہینے یعنی اڑھائی سال بن گئے، سمجھ آگئی بات؟ اچھا اگر اس سے مراد پیٹ کے اندر نہ ہو بلکہ بچہ گود میں رکھنا ہو تو اس کا مطلب یہ ہےطکہ بچہ جننے کے بعد عورت کا بچے کو گود میں رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا اس کی مدت ہے اڑھائی سال۔
🌹 اس پہ قرینہ موجود ہے کہ اس سے مراد پیٹ والا حمل نہیں ہے، گود والا حمل ہے۔ اس پہ قرینہ موجود ہے۔قرینہ کیا ہے
*حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا*
🔅 اسی نے پیٹ میں رکھا ہے، بڑی مشقت اٹھائی ہے۔ پھر جنا ہے بڑی مشقت اٹھائی ہے۔ اب اس کے بعد مشقت کون سی ہے گود میں رکھ کے تربیت کرنے والی، قرینہ موجود ہے، اس حمل سے مراد پیٹ کے اندر والا حمل نہیں ہے گود میں رکھ کے پالنے والا حمل ہے۔ یقین سے بتادیا مدت رضاعت کتنی بنتی ہے؟ اڑھائی سال ! امام صاحب ایسے تو قول نہیں بیان کرتے ناں!
🌹 *امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی عظمت*
میں صرف ایک مثال دیتا ہوں، آپ کو خود اندازہ ہوگا، ہمارا امام کتنا بڑا ہے، ورنہ طلباء کو نہیں سمجھ آتی ہے، ہمارے امام کتنے بڑے ہیں۔ آپ کہیں گے یار جب نص موجود ہے کہ مدت دو سال ہے، امام صاحب نے اڑھائی سال کا قول بیان کیا کیسے؟ اب امام صاحب فرماتے ہیں ان دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ مدت رضاعت دو سال ہو اور ان دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ مدت رضاعت اڑھائی سال ہو، دو سال کا بھی قول بنتا ہے اڑھائی سال کا بھی قول بنتا ہے لیکن فتویٰ اڑھائی کے بجائے دو سال پر ہے۔ اب امام صاحب نے نئی جہت نکالی، فرمایا: دیکھو چونکہ یہ بھی احتمال ہے اڑھائی سال والا۔ نص میں احتمال تو ہے ناں! لہذا اگر کوئی اڑھائی سال کے اندر اندر دودھ پلا لے تو رضاعت کا حکم جاری کردو۔
🌷 مدت رضاعت تو ہے دو سال، لیکن حرمت مصاہرۃ با لرضاعۃ کے لیے اڑھائی سال رکھو احتیاطاً، کوئی پوچھے مدت رضاعت کتنی ہے؟ تو کیا کہو گے؟ دو سال۔پ ھر کوئی پوچھے حرمت مصاہرۃ بالرضاعۃ اس کی مدت کتنی ہے؟ پھر کیا کہو گے؟ اڑھائی سال۔ کیونکہ احتیاط اس میں ہے۔ اب بتاؤ امام صاحب کی فقہ تک کوئی بندہ پہنچ سکتا ہے؟ میں ایک بات معذرت کے ساتھ کہتا ہوں، یہ امام صاحب کا وہ تفقہ ہے، جس کو ہمارا مفتی بھی نہیں سمجھتا۔ اس لیے امام صاحب کی جلالت شان ہم جیسوں کے دماغ میں نہیں ہوتی۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦
Comments
Post a Comment