کیا تقلید اور اتباع ایک ہی چیز ہے؟؟
کیا تقلید اور اتباع ایک ہی چیز ہے؟؟
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
تقلید و اتباع ایک ہی چیز ہے تقلید عین اتباع ہے تمام صحابہ کرام رضوان الله اجمعین بهی مقلد تهے }
✅ *جانیئے شرعی دلائل سے!*
تقلید کی تعریف میں لفظ " اتباع " موجود ہے ... همارا دعوی یہ ہے کہ تقلید اور اتباع ایک چیز ہے.
غیر مقلدین اس کے قائل نہیں وه کہتے ہیں کہ تقلید الگ چیز ہے اور اتباع الگ چیز ہے تقلید مزموم ہے جب کہ اتباع محمود ہے.
💐 هماری دلیل یہ ہے تقلید کی تعریف میں اهل لغت نے لفظ " اتباع " کو ذکر کیا ہے جب تقلیدکی تعریف کا اہم جز ہی اتباع ہے تو دونوں الگ الگ کیسے ہوسکتے
ملاحظہ فرمائیے
1⃣ التقلید اتباع الانسان غیره فیما یقول او یفعل معتقدا للحقیته من غیر نظر الی الدلیل ، کأن هذا المتبع جعل قول الغیر أو فعله قلادة فی عنقه من غیر مطالبة دلیل
کشاف اصطلاحات الفنون:1178 بحواله الکلام الفید: 31 مکتبه صفدریه ))
⚜" کسی کو حق پر سمجهتے ہوئے دلیل میں غور کئے بغیر اسکے قول یا فعل میں اس کی اتباع کرنے کو تقلید کو تقلید کہتے ہیں گویا کہ یہ اتباع کرنے والا غیر کے قول کو ہار سمجھ کر اپنے گلے میں ڈالتا ہے اور دلیل کا مطالبہ نہیں کرتا."
2⃣ *علامہ ابن ملک اور علامہ عینی فرماتے ہیں*
" و هو عبارة عن إتباعه في قوله أو فعله معتقدا للحقيقة من تأمل في الدليل
( شرح منار مصري 252)
🏮 *ترجمہ:* تقلید دوسرے کے قول یا فعل میں اس کی اتباع کرنے کا نام ہے اسکی دلیل کی فکر میں پڑے بغیر یہ اعتقاد کرتے ہوئے کہ وہ حق پر ہے
3⃣ التقلید اتباع الغیر علی ظن انه محق بلا نظر فی الدلیل...
(النامی شرح الحسامی ص190 مکتبه قدیمی )
❇ *ترجمہ:* " دلیل میں غور و خوص کئے بغیر کسی کی اتباع کرنا یہ گمان رکهتے ہوئے کہ وه حق پر ہے "
4⃣ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں تقلید اور اتباع ایک ہی ہے
(سبیل الرشاد ص27)
📌اب اگر ان دونوں میں فرق ہوتا تو اہل لغت تقلید کی تعریف اتباع سے نہ کرتے دیکهو تقلید کی تعریف میں خود " اتباع " کے الفاظ آپ کے سامنے واضیح ہے.
✳ " التعریف بالمتغایر لایجوز..... کسی چیز کی تعریف ایسے الفاظ سے کرنا درست نہیں کہ اس چیز اور ان الفاظ کا آپس میں ربط و جوڑ ہی نہ ہو "
💎 نیز غیرمقلدوں کے شیخ الکل کی تحریر سے بهی ثابت ہوتا ہے کہ تقلید اور اتباع ایک ہی چیز ہے آپ خود ملاحظہ کیجئے
🔮 *غیرمقلدوں کے پیشوا شیخ الکل میاں سید نذیر حسین دہلوی لکهتے ہیں*
معنی تقلید کے اصطلاح میں اہل اصول کی یہ ہے کہ مان لینا اور عمل کرنا ساتھ قول بلا دلیل اس شخص کے جس کا قول حجت شرعی نہ ہو بنا پر اس اصطلاح کی رجوع کرنا عامی کا طرف مجتہدوں کی اور تقلید کرنی انکی کسی مسئلہ میں تقلید نہ ہوگی بلکہ اس کو اتباع اور سوال کہینگے
معنی تقلید کے عرف میں یہ ہیکہ وقت لاعلمی کے کسی اہل علم کا قول مان لینا اور اس پر عمل کرنا اور اسی معنی عرفی میں مجتہدوں کے اتباع کو تقلید بولا جاتا ہے
نیز آگے عقد الفرید کا حوالہ نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ تقلید اس شخص کے قول پر بلا دلیل عمل کرنا ہے جس کا قول حجت شرعیہ میں سے نہ ہو سو رجوع کرنا آنحضرت ﷺ اور اجماع کی طرف تقلید نہ ٹهہری اور اسی طرح رجوع کرنا انجان کا مفتی کے قول کی طرف اور رجوع کرنا قاضی کا ثقہ آدمی کے قول کی طرف تقلید نہیں ٹهہریگی کیونکہ یہ رجوع بحکم شرع واجب ہے بلکہ رجوع کرنا مجتہد یا انجان کا اپنے جیسے آدمی کی طرف تقلید نہیں لیکن مشہور یوں ہوگیا ہے کہ انجان مجتہد کا مقلد ہے امام الحرمین نے کہا ہے کہ اسی قول مشہور پر بڑے بڑے اصولی ہیں اور امام غزالی، آمدی، اور ابن الحاجب رحمهم الله نے کہا ہے کہ رجوع کرنا آنحضرت ﷺ اور اجماع اور مفتی اور گواہوں کی طرف اگر تقلید قرار دیا جائے تو کوئی حرج نہیں پس ثابت ہوا آنحضرت ﷺ کی پیروی کو اور مجتہدین کی اتباع کو تقلید کہنا مجوز ہے
( معیار الحق ص66/67)
🎯 غیرمقلدوں کے شیخ الکل کی تفصیلی عبارت سے درج ذیل فوائد ثابت ہوئے
1⃣ لاعلمی کے وقت کسی مسئلہ میں مجتہدین کی طرف رجوع کرنا در حقیقت تقلید نہیں بلکہ اتباع اور سوال ہے
2⃣ مجتہدین کی تقلید کو اتباع بهی کہاجاتا ہے یعنی بالمآل تقلید اور اتباع ایک ہی چیز ہے ان میں کوئی فرق نہیں
3⃣ لاعلم اور انجان آدمی کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا یہ تقلید نہیں بلکہ بحکم شرح واجب ہے لیکن بڑے بڑے اصولیوں کے قول کے مطابق اسکو تقلید کہنے میں بهی کوئی حرج اور مضائقہ نہیں
4⃣ جس طرح مجتہدین کی تقلید کو اتباع کہنا جائز ہے اسی طرح آنحضرت ﷺ کی اتباع کو بهی تقلید کہنا جائز ہے
☸ قرآن کریم میں جہاں بهی لفظ اتباع ہے مفسرین نے وہیں تقلید کی بحث کو چیهڑا ہے .
حالانکہ وہاں لفظ تقلید موجود ہی نہیں ہوتا...... اس سے بهی معلوم ہوا کہ مفسرین قرآن بهی تقلید اور اتباع میں فرق نہیں کرتے ہیں
اگر فرق ہوتا تو تقلید کی بحث کسی اور جگہ بهی ذکر کرسکتے تهے
🌻 *جان لو کہ اتباع بهی بلادلیل ہوتی ہے*
غیرمقلدین کہتے ہیں کہ تقلید وه ہے جوبلا دلیل ہو اور اتباع دلیل کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے دونوں میں فرق ہے.
ان کی یہ بات بهی درست نہیں ہے دیکهو قرآن پاک میں کیا ہے ( ومن یتبع خطوت الشیطن فانه یامر بالفحشاء والمنکر..... سوره النور آیت 21 )
🌺 *ترجمہ:* " جوشخص شیطان کی پیروی کرتا ہے تو اچهی طرح جان لے کہ شیطان بے حیائی اور نامعقول کام ہی کرنے کا حکم دیتا ہے "
🌸 دوسری آیت .... بل نتبع ماألفینا علیه ابائنا سوره البقره آیت 170 ....... ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا.
🌼 ان آیات میں وہ اتباع تو کررہے ہیں مگر ساتھ میں کوئی دلیل نہیں ہے یہاں اتباع دلیل کے ساتھ نہیں ہورہی ہے ..... اس طرح اور بهی آیات موجود ہے جس میں لفظ اتباع موجود ہے.
اور اصل بات تو یہ ہے کہ یہاں غیرمقلدین حضرات بهی اس بات کے قائل نہیں کہ یہاں جو اتباع ہورہی ہے وه دلیل کے ساتھ ہورہی ہے.
🔅مگر پهر بهی کہتے ہیں دونوں میں فرق ہے یہی افسوس کی بات ہے.
🛡حضرت شیخ الاسلام امام ابن تیمیه رح: فرماتے ہیں.
" جمهور امت کا مذهب یہی ہے کہ فی الجملہ اجتهاد بهی جائز ہے اور تقلید بهی ، ایسا نہیں کہ هر ایک پر اجتهاد واجب اور تقلید حرام هو اور نہ ہی هر ایک پر تقلید واجب اور اجتهاد حرام ہے.
بلکہ جو اجتهاد پر قدرت رکهتا ہے اس کے لئے اجتهاد کرنا جائز ہے.
اوراجتهاد سے عاجز ہو اس کے لئے تقلید کرنا جائز ہے.
( مجموعه الفتاوی ج20 ص113 ، مکتبه العبیکان )
🌹 اگر تقلید علی الاطلاق مذموم ہوتی تو علامہ ابن تیمہ رح: جنہیں غیرمقلدین اپنا پیشوا مانتے ہیں تقلید کو جائز نہ کہتے
عبارت سے یہ بهی معلوم هوا کہ عاجز عن الاجتهاد کے لئے تقلید جائز ہے اجتهاد چونکہ هر کس و ناکس کا کام نہیں اس کے لئے علوم وفنون میں پختگی و مہارت کے ساتھ ساتھ تقوی سے متصف ہونا بهی ضروری ہے .
✅ *صحابه کرام رضوان الله اجمعین بهی مقلد تهے ... الله اکبر*
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ تقلید و اتباع ایک ہی چیز ہے تو ہم کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین متبع یعنی مقلد تهے.
🏵 علام ابن تیمہ رحمه الله فرماتے ہیں !
*فان علم ان مقلده مصیب ... کتقلید الرسول او اهل الاجماع.. فقد قلده بحجته....*
(مجموعه الفتاوی ج20 ص14 ، مکتبه العبیکان)
🔰 *ترجمہ:* " اگر مقلدین کو یقین ہو کہ وه جس کی تقلید کررہا ہے وه خود راه راست پر ہے تو یہ تقلید درست ہے کہ تقلید مع الدلیل ہے جیسے .
صحابه کرام کا رسول الله صلی الله علیه وسلم کی تقلید کرنا اور عام مومینین کا اهل اجماع کی تقلید کرنا.
🌷 حضرت امام شاه ولی الله رحمه الله نے فرمایا هے .... ان الصحابه لا یقلدون الا صاحب الشرع.... واضح رہے کہ صحابہ کرام صرف رسول الله صلی الله علیه وسلم کی تقلید کرتے تهے.
💟 *عامی پر تقلید واجب هے*
علامہ ابوبکر جصاص رحمة الله علیه فرماتے هیں.....علماء پر واجب ہے کہ ان مسائل کا استنباط کریں اور منصوصات میں غور و خوص کر کے ان کے نظائر تلاش کریں اور ان کا حکم متعین کریں.
اور ان پیش آمده مسائل میں غیر مجتهد پر مجتهدین کی تقلید واجب ہے.
( احکام القران ج3 ص183)
💐 عامی سے مراد وه ہے جو استنباط و استخراج کی صلاحیت نہ رکهتا هو یعنی مجتهد نہ هو.
⚜ آج پوری امت مسلمہ امام ابو حنیفه رح ، امام مالک رح ، امام شافعی رح ، امام احمد بن حنبل رح کی اتباع میں اپنے نبی اکرم ﷺ کے لائے هوئے دین اسلام پر عمل کرتے ہیں .............. اسی کا نام آپ تقلید رکہیں یا اتباع دونوں ہم معنی ہیں..... جو مجتهد نہ ہو اور وه کسی کی اتباع یعنی تقلید بهی نہ کرے اور خود سے قرآن و حدیث کو پڑهے اور عمل کریں اس کو گمراہی کے سوا کچھ بهی حاصل نہیں ہوگا.
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
تقلید و اتباع ایک ہی چیز ہے تقلید عین اتباع ہے تمام صحابہ کرام رضوان الله اجمعین بهی مقلد تهے }
✅ *جانیئے شرعی دلائل سے!*
تقلید کی تعریف میں لفظ " اتباع " موجود ہے ... همارا دعوی یہ ہے کہ تقلید اور اتباع ایک چیز ہے.
غیر مقلدین اس کے قائل نہیں وه کہتے ہیں کہ تقلید الگ چیز ہے اور اتباع الگ چیز ہے تقلید مزموم ہے جب کہ اتباع محمود ہے.
💐 هماری دلیل یہ ہے تقلید کی تعریف میں اهل لغت نے لفظ " اتباع " کو ذکر کیا ہے جب تقلیدکی تعریف کا اہم جز ہی اتباع ہے تو دونوں الگ الگ کیسے ہوسکتے
ملاحظہ فرمائیے
1⃣ التقلید اتباع الانسان غیره فیما یقول او یفعل معتقدا للحقیته من غیر نظر الی الدلیل ، کأن هذا المتبع جعل قول الغیر أو فعله قلادة فی عنقه من غیر مطالبة دلیل
کشاف اصطلاحات الفنون:1178 بحواله الکلام الفید: 31 مکتبه صفدریه ))
⚜" کسی کو حق پر سمجهتے ہوئے دلیل میں غور کئے بغیر اسکے قول یا فعل میں اس کی اتباع کرنے کو تقلید کو تقلید کہتے ہیں گویا کہ یہ اتباع کرنے والا غیر کے قول کو ہار سمجھ کر اپنے گلے میں ڈالتا ہے اور دلیل کا مطالبہ نہیں کرتا."
2⃣ *علامہ ابن ملک اور علامہ عینی فرماتے ہیں*
" و هو عبارة عن إتباعه في قوله أو فعله معتقدا للحقيقة من تأمل في الدليل
( شرح منار مصري 252)
🏮 *ترجمہ:* تقلید دوسرے کے قول یا فعل میں اس کی اتباع کرنے کا نام ہے اسکی دلیل کی فکر میں پڑے بغیر یہ اعتقاد کرتے ہوئے کہ وہ حق پر ہے
3⃣ التقلید اتباع الغیر علی ظن انه محق بلا نظر فی الدلیل...
(النامی شرح الحسامی ص190 مکتبه قدیمی )
❇ *ترجمہ:* " دلیل میں غور و خوص کئے بغیر کسی کی اتباع کرنا یہ گمان رکهتے ہوئے کہ وه حق پر ہے "
4⃣ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں تقلید اور اتباع ایک ہی ہے
(سبیل الرشاد ص27)
📌اب اگر ان دونوں میں فرق ہوتا تو اہل لغت تقلید کی تعریف اتباع سے نہ کرتے دیکهو تقلید کی تعریف میں خود " اتباع " کے الفاظ آپ کے سامنے واضیح ہے.
✳ " التعریف بالمتغایر لایجوز..... کسی چیز کی تعریف ایسے الفاظ سے کرنا درست نہیں کہ اس چیز اور ان الفاظ کا آپس میں ربط و جوڑ ہی نہ ہو "
💎 نیز غیرمقلدوں کے شیخ الکل کی تحریر سے بهی ثابت ہوتا ہے کہ تقلید اور اتباع ایک ہی چیز ہے آپ خود ملاحظہ کیجئے
🔮 *غیرمقلدوں کے پیشوا شیخ الکل میاں سید نذیر حسین دہلوی لکهتے ہیں*
معنی تقلید کے اصطلاح میں اہل اصول کی یہ ہے کہ مان لینا اور عمل کرنا ساتھ قول بلا دلیل اس شخص کے جس کا قول حجت شرعی نہ ہو بنا پر اس اصطلاح کی رجوع کرنا عامی کا طرف مجتہدوں کی اور تقلید کرنی انکی کسی مسئلہ میں تقلید نہ ہوگی بلکہ اس کو اتباع اور سوال کہینگے
معنی تقلید کے عرف میں یہ ہیکہ وقت لاعلمی کے کسی اہل علم کا قول مان لینا اور اس پر عمل کرنا اور اسی معنی عرفی میں مجتہدوں کے اتباع کو تقلید بولا جاتا ہے
نیز آگے عقد الفرید کا حوالہ نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ تقلید اس شخص کے قول پر بلا دلیل عمل کرنا ہے جس کا قول حجت شرعیہ میں سے نہ ہو سو رجوع کرنا آنحضرت ﷺ اور اجماع کی طرف تقلید نہ ٹهہری اور اسی طرح رجوع کرنا انجان کا مفتی کے قول کی طرف اور رجوع کرنا قاضی کا ثقہ آدمی کے قول کی طرف تقلید نہیں ٹهہریگی کیونکہ یہ رجوع بحکم شرع واجب ہے بلکہ رجوع کرنا مجتہد یا انجان کا اپنے جیسے آدمی کی طرف تقلید نہیں لیکن مشہور یوں ہوگیا ہے کہ انجان مجتہد کا مقلد ہے امام الحرمین نے کہا ہے کہ اسی قول مشہور پر بڑے بڑے اصولی ہیں اور امام غزالی، آمدی، اور ابن الحاجب رحمهم الله نے کہا ہے کہ رجوع کرنا آنحضرت ﷺ اور اجماع اور مفتی اور گواہوں کی طرف اگر تقلید قرار دیا جائے تو کوئی حرج نہیں پس ثابت ہوا آنحضرت ﷺ کی پیروی کو اور مجتہدین کی اتباع کو تقلید کہنا مجوز ہے
( معیار الحق ص66/67)
🎯 غیرمقلدوں کے شیخ الکل کی تفصیلی عبارت سے درج ذیل فوائد ثابت ہوئے
1⃣ لاعلمی کے وقت کسی مسئلہ میں مجتہدین کی طرف رجوع کرنا در حقیقت تقلید نہیں بلکہ اتباع اور سوال ہے
2⃣ مجتہدین کی تقلید کو اتباع بهی کہاجاتا ہے یعنی بالمآل تقلید اور اتباع ایک ہی چیز ہے ان میں کوئی فرق نہیں
3⃣ لاعلم اور انجان آدمی کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا یہ تقلید نہیں بلکہ بحکم شرح واجب ہے لیکن بڑے بڑے اصولیوں کے قول کے مطابق اسکو تقلید کہنے میں بهی کوئی حرج اور مضائقہ نہیں
4⃣ جس طرح مجتہدین کی تقلید کو اتباع کہنا جائز ہے اسی طرح آنحضرت ﷺ کی اتباع کو بهی تقلید کہنا جائز ہے
☸ قرآن کریم میں جہاں بهی لفظ اتباع ہے مفسرین نے وہیں تقلید کی بحث کو چیهڑا ہے .
حالانکہ وہاں لفظ تقلید موجود ہی نہیں ہوتا...... اس سے بهی معلوم ہوا کہ مفسرین قرآن بهی تقلید اور اتباع میں فرق نہیں کرتے ہیں
اگر فرق ہوتا تو تقلید کی بحث کسی اور جگہ بهی ذکر کرسکتے تهے
🌻 *جان لو کہ اتباع بهی بلادلیل ہوتی ہے*
غیرمقلدین کہتے ہیں کہ تقلید وه ہے جوبلا دلیل ہو اور اتباع دلیل کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے دونوں میں فرق ہے.
ان کی یہ بات بهی درست نہیں ہے دیکهو قرآن پاک میں کیا ہے ( ومن یتبع خطوت الشیطن فانه یامر بالفحشاء والمنکر..... سوره النور آیت 21 )
🌺 *ترجمہ:* " جوشخص شیطان کی پیروی کرتا ہے تو اچهی طرح جان لے کہ شیطان بے حیائی اور نامعقول کام ہی کرنے کا حکم دیتا ہے "
🌸 دوسری آیت .... بل نتبع ماألفینا علیه ابائنا سوره البقره آیت 170 ....... ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا.
🌼 ان آیات میں وہ اتباع تو کررہے ہیں مگر ساتھ میں کوئی دلیل نہیں ہے یہاں اتباع دلیل کے ساتھ نہیں ہورہی ہے ..... اس طرح اور بهی آیات موجود ہے جس میں لفظ اتباع موجود ہے.
اور اصل بات تو یہ ہے کہ یہاں غیرمقلدین حضرات بهی اس بات کے قائل نہیں کہ یہاں جو اتباع ہورہی ہے وه دلیل کے ساتھ ہورہی ہے.
🔅مگر پهر بهی کہتے ہیں دونوں میں فرق ہے یہی افسوس کی بات ہے.
🛡حضرت شیخ الاسلام امام ابن تیمیه رح: فرماتے ہیں.
" جمهور امت کا مذهب یہی ہے کہ فی الجملہ اجتهاد بهی جائز ہے اور تقلید بهی ، ایسا نہیں کہ هر ایک پر اجتهاد واجب اور تقلید حرام هو اور نہ ہی هر ایک پر تقلید واجب اور اجتهاد حرام ہے.
بلکہ جو اجتهاد پر قدرت رکهتا ہے اس کے لئے اجتهاد کرنا جائز ہے.
اوراجتهاد سے عاجز ہو اس کے لئے تقلید کرنا جائز ہے.
( مجموعه الفتاوی ج20 ص113 ، مکتبه العبیکان )
🌹 اگر تقلید علی الاطلاق مذموم ہوتی تو علامہ ابن تیمہ رح: جنہیں غیرمقلدین اپنا پیشوا مانتے ہیں تقلید کو جائز نہ کہتے
عبارت سے یہ بهی معلوم هوا کہ عاجز عن الاجتهاد کے لئے تقلید جائز ہے اجتهاد چونکہ هر کس و ناکس کا کام نہیں اس کے لئے علوم وفنون میں پختگی و مہارت کے ساتھ ساتھ تقوی سے متصف ہونا بهی ضروری ہے .
✅ *صحابه کرام رضوان الله اجمعین بهی مقلد تهے ... الله اکبر*
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ تقلید و اتباع ایک ہی چیز ہے تو ہم کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین متبع یعنی مقلد تهے.
🏵 علام ابن تیمہ رحمه الله فرماتے ہیں !
*فان علم ان مقلده مصیب ... کتقلید الرسول او اهل الاجماع.. فقد قلده بحجته....*
(مجموعه الفتاوی ج20 ص14 ، مکتبه العبیکان)
🔰 *ترجمہ:* " اگر مقلدین کو یقین ہو کہ وه جس کی تقلید کررہا ہے وه خود راه راست پر ہے تو یہ تقلید درست ہے کہ تقلید مع الدلیل ہے جیسے .
صحابه کرام کا رسول الله صلی الله علیه وسلم کی تقلید کرنا اور عام مومینین کا اهل اجماع کی تقلید کرنا.
🌷 حضرت امام شاه ولی الله رحمه الله نے فرمایا هے .... ان الصحابه لا یقلدون الا صاحب الشرع.... واضح رہے کہ صحابہ کرام صرف رسول الله صلی الله علیه وسلم کی تقلید کرتے تهے.
💟 *عامی پر تقلید واجب هے*
علامہ ابوبکر جصاص رحمة الله علیه فرماتے هیں.....علماء پر واجب ہے کہ ان مسائل کا استنباط کریں اور منصوصات میں غور و خوص کر کے ان کے نظائر تلاش کریں اور ان کا حکم متعین کریں.
اور ان پیش آمده مسائل میں غیر مجتهد پر مجتهدین کی تقلید واجب ہے.
( احکام القران ج3 ص183)
💐 عامی سے مراد وه ہے جو استنباط و استخراج کی صلاحیت نہ رکهتا هو یعنی مجتهد نہ هو.
⚜ آج پوری امت مسلمہ امام ابو حنیفه رح ، امام مالک رح ، امام شافعی رح ، امام احمد بن حنبل رح کی اتباع میں اپنے نبی اکرم ﷺ کے لائے هوئے دین اسلام پر عمل کرتے ہیں .............. اسی کا نام آپ تقلید رکہیں یا اتباع دونوں ہم معنی ہیں..... جو مجتهد نہ ہو اور وه کسی کی اتباع یعنی تقلید بهی نہ کرے اور خود سے قرآن و حدیث کو پڑهے اور عمل کریں اس کو گمراہی کے سوا کچھ بهی حاصل نہیں ہوگا.
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦
Comments
Post a Comment