نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

 🔴 نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ: 🔴

ازﺍﻓﺎﺩﺍﺕ : ﻣﺘﮑﻠﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮔﮭﻤﻦ ﺣﻔﻄﮧ ﺍﻟﻠﮧ

💠شبہ:

احناف ناف کے نیچے ہاتھ باندھنےکو سنت کہتے ہیں لیکن ان کی عورتیں خلاف سنت نماز پڑھتی ہیں کیونکہ وہ سینہ پر ہاتھ باندھتی ہیں۔

💠جواب:

عورت کے بارے میں فقہاء کا اجماع ہے کہ وہ قیام کے وقت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی اور اجماع مستقل دلیل شرعی ہے۔

♦1: امام ابو القاسم ابراہیم بن محمد القاری الحنفی السمر قندی (م بعد907ھ) لکھتے ہیں:

وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا بِالْاِتِّفَاقِ.

(مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق: ص153)

ترجمہ: عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔

♦2: سلطان المحدثین ملا علی قاری رحمہ اللہ (م1014ھ) فرماتے ہیں:

وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا اِتِّفَاقًا لِاَنَّ مَبْنٰی حَالِھَا عَلَی السَّتْرِ.

(فتح باب العنایۃ: ج1 ص243 سنن الصلوۃ)

ترجمہ:عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے، کیونکہ عورت کی حالت کا دارو مدار پردے پر ہے۔

♦3: علامہ عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ (م1304ھ) لکھتے ہیں:

وَاَمَّا فِیْ حَقِّ النِّسَائِ فَاتَّفَقُوْا عَلٰی اَنَّ السُّنَّۃَ لَھُنَّ وَضْعُ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّدْرِ لِاَنَّھَامَا اَسْتَرُ لَھَا.

(السعایۃ ج 2ص156)

ترجمہ:رہا عورتوں کے حق میں[ہاتھ باندھنے کا معاملہ]تو تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے لیےسنت سینہ پر ہاتھ باندھناہے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

Comments

Popular posts from this blog

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات