فقہ حنفی پر اعتراض کتے اور گدھے کے گوشت کی تجارت
🔵 *فقہ حنفی پر اعتراض (کتے اور گدھے کے گوشت کی تجارت جائز ہے) کا جواب*
📌 کتے اور گدھے کے گوشت کی تجارت کا مسئلہ
🌟 *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گهمن حفظه الله*
🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸
📌 *اعتراض ------------*
⚡ طالب الرحمن لکھتے ہیں:
*اسلام میں درندوں کی تجارت*
🏹 ابو مسعود سے روایت ہے کہ
*ان رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نهی عن ثمن الکلب و مھر البغی وحلوانة الکاهن*
( بخاری رقم 2237 )
🛡 *ترجمہ:* رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لونڈی اور جادو گر کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
🔹 *فقہ حنفی میں درندوں کی تجارت*
🔰اب احناف کی بھی سن لیجیے۔
صاحب ہدایہ لکھتے ہیں:
1⃣۔ ویجوز بیع الکلب والفہد والسباع المعلم وغیر المعلم فی ذلک سواء
( ہدایہ اخرین ص103 )
🌻 *ترجمہ:* کتے، شیر اور درندے چاہے سدھائے ہوئے ہوں یا غیر سدھائے ہوئے ان کی تجارت جائز ہے۔
🔻 فتاویٰ عالمگیری میں یہ بھی ہے:
2⃣۔ اذا ذبح کلبه وباع لحمه جاز و کذا اذا ذبح حمارہ و باع لحمه… ویجوز بیع لحوم السباع والحمر المذبوحۃ فی الروایۃ الصحیحۃ 3/115
🌸 *ترجمہ:* اگر اپنے کتے کو ذبح کر لے اس کا گوشت بیچے اسی طرح اپنے گدھے کو ذبح کرے اور اس کا گوشت بیچے صحیح روایت کے مطابق درندوں کا گوشت اور ذبح شدہ گدھے کا گوشت فروخت کرنا جائز ہے۔
( کیا فقہ حنفیہ قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے؟ ص40، 41 )
🏹 *اعتراض کا جواب: -----*
⚜ امام ابو حنیفہ رح کا موقف یہ ہے کہ احادیث میں مذکور نہی اس زمانے سے متعلق ہے جب کتوں کے بارے میں شریعت کے احکام بہت سخت تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اہل عرب میں کتوں کے ساتھ غیر معمولی انس اور محبت پائی جاتی تھی اور ان کے گھروں میں کتوں کو شوقیہ پالنے کا بکثرت رواج تھا۔ یہ انس و محبت اور تعلق ان کے دل سے نکالنے کے لیے ابتداء میں بہت سخت احکام دیے گئے جو کہ بعد میں بتدریج نرم ہوتے گئے اور آخر میں یہ حکم ٹھہر گیا کہ کسی ضرورت کی غرض سے تو کتے کو پال لینے کی اجازت ہے لیکن شوقیہ طور پر کتا رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔
📝 *احادیث ملاحظہ فرمائیں:*
عن عبداﷲ عن ابن المغفل قال امر رسول اﷲ صلی اللہ علیه وسلم بقتل الکلاب ثم قال ما بالهم وبال الکلاب ثم رخص فی کلب الصید وکلب الغنم
( مسلم شریف جلد2 ص25 )
❄ *ترجمہ:* حضرت ابن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابتدا میں) کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا کتے لوگوں کو کیا تکلیف دیتے ہیں پھر آپ نے شکاری کتے اور بکریوں (کی حفاظت) کے (لیے) کتوں کو پالنے کی اجازت دے دی۔
🏵 *اس حدیث میں تین باتوں کا ذکر ہے۔*
1⃣۔ پہلے کتے کو قتل کرنے کا حکم تھا۔
2⃣۔ پھر قتل کرنے کا حکم منسوخ ہو گیا۔
3⃣۔ پھر شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت کے لیے پالنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔
🎯 چنانچہ شکار اور کھیتی اور ریوڑ کی حفاظت کے لیے کتے کو پانے کی اجازت کی صریح روایات حضرت عبداﷲ بن عمر، حضرت ابوہریرہ اور سفیان بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم سے مروی ہیں۔
( صحیح مسلم کتاب المساقات والمزراعہ )
*عن ابی هریرة عن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قال من اقتنی کلبا لیس بکلب صید ولا ماشیۃ ولا ارض فانه ینقص من اجرہ قیراطان کل یوم
( مسلم مترجم ج4 ص306 حدیث: 8193 )
💐 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے شکار، مویشی اور زمین کے علاوہ کتا پالا یا رکھا) اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔
💠 اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ ان تین وجہوں سے کتا پالنے کی اجازت ہے۔ یہ اجازت بعد کے زمانے ہی کی ہے۔ جس وقت کتوں کو قتل کرنے کا حکم منسوخ ہو چکا تھا۔
💥 *قرآن پاک میں بھی کتے کے شکار کا ذکر ملتا ہے:*
فَکُلُوْا مِمَّا اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْه
( المائدہ:4 )
🌹 *ترجمی:* تو کھاؤ اس شکار میں سے جو وہ (شکاری کتے وغیرہ) مار کر تمہارے لیے رہنے دیں اور اس پر اﷲ کا نام لو۔
🌷 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی بن حاتم سے فرمایا کہ
*اذا ارسلت الکلب المعلم وذکرت اسم اﷲ علیہ فاخذ فکل*
🌺 *ترجمہ:* جب تو اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑے اور کتا اسے پکڑ لے تو ایسے شکار کا کھانا تیرے لیے جائز ہے۔
( نسائی ج2 ص192 )
🌼 ان روایات کے پیش نظر امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جب کسی جائز ضروریات کے لیے کتے کو پالنا اور اس سے فائدہ اٹھانا درست ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس کی خرید و فروخت کرنا بھی درست ہو گا۔ اسی وجہ سے جن بعض روایات میں کتوں کی خرید و فروخت سے ممانعت آئی ہے۔ خود انہی روایات میں یہ استثناء بھی ثابت ہے چنانچہ دیکھئے مندرجہ ذیل روایات۔
*عن جابر ان النبی علیہ الصلوۃ والسلام نہی عن ثمن السنور والکلب الا کلب صید*
( نسائی کتاب الصید ج2 ص195، دار قطنی ج3 ص73، سنن الکبریٰ بیہقی ج6، ص6، مسند احمد ج3 ص317 )
📌 *ترجمہ:* حضرت جابر بن عبداﷲ سے روایت ہے کہحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بلی اور کتے کی بیع سے منع فرمایا۔ مگر شکاری کتے کی بیع سے۔
⚡ *عن ابی هریرة قال نھی عن ثمن الکلب الا کلب الصید*
(ترمذی ج1 ص154، سنن دار قطنی ج3 ص73، سنن الکبری بیہقی ج2 ص 6)
🛡 *ترجمہ:* حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہا انہوں نے منع کیا (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے) کتے کی قیمت سے۔ مگر شکاری کتے کی قیمت کو یعنی اس کو منع نہیں کیا۔
🌟 ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :
*رخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فی ثمن الکلب الصید*
🔰 *ترجمہ:* حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے شکاری کتے کی قیمت لینے کی اجازت دی۔
( مسند امام اعظم ص169، نصب الرایہ ج4 ص54 )
💠 اس کے علاوہ طحاوی اور سنن الکبریٰ بیہقی میں عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ اور سنن بیہقی میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے کسی کے شکاری کتے کو قتل کر دیا تو حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاص نے *قضی فی کلب صید قتلہ رجل باربعین درہما* فیصلہ فرمایا کہ کتے کا قاتل اس کے مالک کو چالیس درہم اور بیس اونٹوں کا تاوان ادا کرے۔
( بیہقی ص8 ج6، طحاوی ج2 ص228 )
🌻 اگر شکاری کتے کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی تو مندرجہ بالا فیصلہ ہر گز نہ فرمایا جاتا۔
❄ ان روایات میں شکاری کتے کی بیع کی اجازت مذکور ہے جب کہ کھیتی اور ریوڑ کے محافظ کتے کی خرید و فروخت کی اجازت اس پر قیاس کرنے سے ثابت ہو گی اور جو روایت طالب الرحمن نے نقل کی ہے۔ وہ پہلے زمانے کی ہے جب کتوں کو قتل کرنے کا حکم تھا جب شکار اور کھیتی اور ریوڑ کی حفاظت کے لیے کتا رکھنے کی اجازت ہو گئی تو شکاری کتے کی بیع کی اجازت بھی بعد میں ہو گئی تھی۔
📝 *فتاویٰ عالمگیری کے حوالہ کی وضاحت*
طالب الرحمن نے عالمگیری سے جو مسئلہ نقل کیا ہے اس کا جواب ہماری طرف سے مولانا محمد ایوب نے بڑی تفصیل سے مولانا عبدالعزیز نورستانی غیر مقلد کو دیا ہے ہم وہ بھی یہاں پر نقل کرتے ہیں قارئین کرام کے فائدہ کے لیے۔ یہ سوال عبد العزیز نورستانی نے اپنے رسالہ میں احناف سے کیا تھا۔ مولانا ابو ایوب صاحب اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
🌸 جس طرح احادیث کی کتابوں میں بعض احادیث صحیح، بعض منسوخ اور بعض ضعیف و متروک ہوتی ہیں۔ اسی طرح کتب فقہ اور اس کے شروح اور فتاویٰ میں بھی بعض اقوال مفتی بہا اور معمول بہا ہوتے ہیں۔ مذہب حنفی اسی سے عبارت ہے۔ اسی طرح بعض غیر مفتی بہا مرجوح اور شاذ اقوال ہوتے ہیں۔
🏵 لہٰذا مرجوح اور غیر مفتی بہا اقوال کو بہانہ بنا کر مذہب حنفی پر اعتراضات کرنا یہ منکرین حدیث کا شیوہ ہے، مسلمان کا نہیں کیونکہ منکرین حدیث بھی ضعیف اور موضوع احادیث کو بہانہ بناکر ذخیرہ احادیث سے انکار کرتے ہیں اور اسلام پر کئی قسم کے اعتراضات کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ اسی طرح ہے کہ کتے اور گدھے کو شرعی طریقہ سے ذبح کر کے اس کا گوشت فروخت کیا جائے تو کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ اس میں فقہائے احناف کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض جواز کے قائل ہیں۔ اکثر محققین احناف عدم جواز کے قائل ہیں۔ جو جائز سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت سے نجاست زائل ہوتی ہے اور جن کے نزدیک فروخت کرنا جائز نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ ذبح کرنے سے گوشت سے نجاست زائل نہیں ہوتی یہی قول مفتی بہ اور راجح ہے۔ غیر مقلدین قول اول پر اعتراض کرتے ہیں۔
⚜ *غیر مقلدین کی خیانت*
غیر مقلدین فتاویٰ عالمگیری سے آدھی عبارت نقل کرتے ہیں اور اس مسئلہ میں عالمگیری میں جو اختلاف بیان کیا ہے اس سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر دیتے ہیں۔ عالمگیری میں مسئلہ مذکورہ کے بعد لکھا ہے:
*وهذا فصل اختلف المشائخ فیه بناہ علی اختلافهم فی طہارة هذا اللحم بعد الذبح*
( فتاویٰ عالمگیری ج3 ص115 )
🎯 *ترجمہ:* ”یہ فصل ہے اس میں مشائخ نے اختلاف کیا ہے اختلاف کی بنا ذبح ہونے کے بعد اس گوشت کی طہارت میں اختلاف پر ہے۔“
🏹 اسی طرح علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں:
*فالظاهر منهما ان هذا الحکم علی القول بطہارة عینه*
( البحر الرائق ج1 ص103 )
💐 *ترجمہ:* ”ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم (بیع کا جواز اور عدم جواز) متفرع ہے اس کی ذات کے طاہر ہونے پر۔“
💥 یعنی جو ذبح کرنے کے بعد بھی گوشت کو نجس کہتے ہیں تو ان کے نزدیک اس کی بیع ناجائز ہے اور جو کہتے ہیں کہ ذبح کرنے کے بعد گوشت سے نجاست زائل ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک اس کی بیع جائز ہے۔ اگرچہ عالمگیری وغیرہ میں لکھا ہے کہ ”مذکورہ گوشت کے جواز بیع کا ثبوت روایت صحیحہ میں ہے۔“
( فتاویٰ عالمگیری ج3 ص115 )
🌹 لیکن فتویٰ نجاست اور عدم جواز بیع پر ہے جیسے امام بخاری نے صحیح بخاری میں دو روایتیں ران کی ستر کے متعلق نقل کی ہیں۔
📌 انس رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ران ستر میں داخل نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ران ستر میں داخل ہے۔ دونوں روایات صحیح ہیں لیکن انس کی روایت کے متعلق امام بخاری لکھتے ہیں:
*وحدیث انس اسند*
( بخاری ج1 ص53 )
🌷 حضرت انس کی روایت کو زیادہ صحیح کہہ کر معلوم ہوا کہ امام بخاری کا رجحان بھی اس طرف ہے کہ ران ستر میں داخل نہیں ہے لہٰذا ان کے نزدیک مفتی بہ قول یہ ہے کہ ران ستر میں داخل نہیں۔
🌺 *حنفی مذہب کا مفتی بہ قول*
🌼 احناف کا مفتی بہ مذہب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد کتے اور گدھے کے گوشت سے نجاست زائل نہیں ہوتی تو ان کا فروخت کرنا بھی جائز نہیں۔
⚡ چنانچہ صاحب بحر الرائق لکھتے ہیں:
*وصح فی الاسرار والکفایة والتبیین نجاسة*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
🛡 *ترجمہ:* صاحب اسرار صاحب کفایہ اور صاحب تبین نے مذکورہ گوشت کی نجاست کو صحیح قرار دیا ہے۔
🔹 بحرالرائق ہی میں ہے:
*وفی المعراج انه قول محققین من اصحابنا*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
🔰 *ترجمہ:* کتاب معراج میں ہے کہ مذکورہ گوشت کی نجاست محققین احناف کا قول ہے۔
🔻 صاحب بحر الرائق مزید لکھتے ہیں:
*وفی الخلاصة وهو القول المختار واختارہ قاضی خان فی التبیین انه قول اکثر المشائخ۔*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
🌻 *ترجمہ:* خلاصہ میں ہے کہ (مذکورہ گوشت کی نجاست) قول مختار ہے اور اسی کو قاضی خان نے اختیار کیا ہے تبیین میں ہے کہ یہ اکثر مشائخ کا قول ہے۔
🌟 *صاحب بحر نے خود بھی نجاست والے قول کے متعلق فرمایا کہ وهو الصحیح*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
❄ *ترجمہ:* ”یہ صحیح قول ہے۔“
🌸 صاحب در مختار لکھتے ہیں:
*لا یطھر لحمه هذا صح ما یفتی به*
🏵 *ترجمہ:* اس کا گوشت پاک نہیں ہوتا یہ اصح قول ہے جس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔
⚜ مولانا عبدالحئی حنفی لکھتے ہیں:
*قال کثیر من المشائخ انه یطهر جلدہ لا لحمه وهو الاصح*
( حاشیہ ہدایہ ج1 ص24 )
🎯 *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے کہ (ذبح کرنے کے بعد) اس کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا اور یہی سب سے صحیح قول ہے۔
💐 علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:
*قال کثیر من المشائخ انه یطهر جلدہ لا لحمه وهو الاصح واختارہ الشارحون*
( فتح القدیر ج1 ص84 )
💥 *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے (ذبح کرنے کے بعد) اس کا چمڑا پاک ہوتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا اور یہی سب سے صحیح قول ہے اسی کو شارحین نے اختیار کیا ہے۔
🌹 علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں:
*وتطهر الذکدة الشرعیة جلد غیر الماکول دون لحمه علی اصح ما یفتی به*
🌷 *ترجمہ:* شرعی ذبح غیر ماکول اللحم کے چمڑے کو پاک کرتا ہے گوشت کو پاک نہیں کرتا اصح قول کے مطابق جس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔
🌺 *صاحب خلاصہ لکھتے ہیں:*
*وهو المختار وبه اخذ الفقیه ذکرہ صدر الشہید فی صید الفتاوٰی*
( خلاصۃ الفتاوٰی ص43 )
🌼 *ترجمہ:* یہی قول مختار ہے فقہاء نے اس کو لیا ہے۔
📌 صاحب مراقی الفلاح لکھتے ہیں:
*دون لحمه فلا یطهر علی اصح ما یفتی به۔*
( مراقی الفلاح )
🛡 *ترجمہ:* اصح مفتی بہ مذہب میں ذبح کرنے سے حرام گوشت پاک نہیں ہوتا۔
🔰 صاحب کبیری لکھتے ہیں:
*الصحیح ان اللحم لا یطهر بالذکاة۔*
( کبیری ص144 )
🌻 *ترجمہ:* صحیح یہ ہے کہ حرام جانوروں کا گوشت ذبح کرنے سے پاک نہیں ہوتا۔
🏹 ملا علی القاری حنفی قائلین بالطهارة کے اسماء ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
*وقال کثیر من المشائخ یطهرہ جلدہ بھا ولا یطهر لحمه کما لا یطھر بالدباغ قال شارح الکنز وهو الصحیح واختیارہ صاحب الغایة والنهایة*
( شرح النقایۃ ج1 ص20 )
❄ *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے کہ ذبح کرنے سے چمڑا پاک ہوتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا جیسا کہ دباغت سے پاک نہیں ہوتا شارح کنز نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے اسے صاحب غایہ اور صاحب نہایہ نے اختیار کیا ہے۔
💠 *ان حوالہ جات سے ثابت ہوا ہے کہ مذہب حنفی میں اصح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ ذبح کرنے سے حرام جانوروں کا گوشت پاک نہیں ہوتا تو اس کا فروخت کرنا بھی جائز نہیں لیکن یاد رہے کہ غیر مقلدین کے علماء کہتے ہیں کہ شرعی ذبح کے بعد گوشت پاک ہو جاتا ہے۔*
🌟 چنانچہ غیر مقلد مولانا وحید الزمان لکھتے ہیں:
*ما یطهر بالدباغة یطهر بالذکاة الا لحم الخنزیر فانه رجس۔*
( نزل الابرار ج1 ص30 )
🌸 *ترجمہ* جو دباغت سے پاک ہو جاتا ہے ذبح سے بھی پاک ہو جاتا ہے خنزیر کے گوشت کے ماسوی کہ وہ رجس ہے۔
⚡ غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان نے کتے کے گوشت، ہڈی، خون، بال اور پسینے کو نجس نہیں کہا۔
( بدور الاہلہ ص16 )
⚜ صدیق حسن خان کے بیٹے غیر مقلد نور الحسن لکھتے ہیں کہ کتے اور خنزیر کے نجس ہونے کا دعویٰ شراب اور دم مسفوح کے پلید ہونے کا دعویٰ اور مرے ہوئے جانور کے ناپاک ہونے کا دعویٰ صحیح نہیں ہے۔
( عرف الجادی )
🎯 *نور ستانی کے دلائل کا تحقیقی جائزہ*
نورستانی نے جن روایات سے مذبوح کتے اور گدھے کے گوشت کو فروخت کرنا حرام ثابت کیا ہے (بزم خویش) ان کا مشاہدہ بھی کیجیے کہ واقعی وہ دلائل ان کے مدعی کے مطابق ہے یا صرف اپنے حمایتی اور اپنے مریدین کو خوش کرنے کے لیے یہ ناکام کوشش کی ہے۔
1⃣۔ ابو ثعلبہ خشنی فرماتے ہیں کہ بے شک رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے درندوں میں سے ہر داڑ والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
( بخاری )
2⃣۔ رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک آواز دینے والے کو حکم دیا تو اس نے لوگوں میں منادی کرائی کہ اﷲ اور اﷲ کے رسول تمہیں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں۔
( بخاری )
3⃣۔ رسول علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اﷲ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے ان پر چربی حرام کر دی گئی تو انہوں نے پگھلا کر فروخت کیا پھر اس کے پیسے کو کھایا۔
( بخاری و مسلم )
4⃣۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جس ذات نے اس (شراب) کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس ذات نے اس کے فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے۔
( مسلم المبنی للفاعل 4۔5 )
📝 مشہور ہے ”لن یصلح العطار ما افسدہ الدهر“ بظاہر تو قوم نے ان کے ان علمی جوابات سے خبردار ہو کر خراج تحسین ادا کیا ہو گا بھوکے کو باسی روٹی مل جائے تو خوشی مناتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے قوم کو اندھیرے میں رکھا ہے۔ کیوں جناب! ان چار روایت میں سے کسی ایک روایت میں بھی ذبح کا لفظ ہے؟ حضرت مولانا صاحب دامت برکاتہم نے تو مذبوح کتے اور گدھے کا گوشت فروخت کرنے کی حرمت پر دلیل مانگی تھی جناب نورستانی صاحب نے غیر مذبوح حرام جانوروں کا گوشت اور شراب کی فروخت کے حرام ہونے پر دلائل پیش کردیے۔
🏵 جناب من! آپ نے حرام جانوروں کی حرمت پر دلائل پیش کیے اگر جانور حلال بھی ہو لیکن شرعی ذبح کے بغیر مر جائے احناف وغیرہم تو ان کی حرمت کے بھی قائل ہیں۔ چہ جائیکہ حرام جانور۔
💐 البتہ بات شرعی طریقہ پر ذبح کرنے میں ہے کہ ذبح کرنے سے عند البعض حرام جانور کی نجاست زائل ہوتی ہے جیسا کہ مرا ہوا حلال جانور کا کھانا حرام ہے لیکن ان کے چمڑے کو اگر دباغت دی جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے اور ان کا فروخت کرنا بھی جائز ہے چنانچہ ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک برتن سے وضو کا ارادہ کیا کسی نے کہا کہ یہ برتن مرے ہوئے جانور کے چمڑے سے بنا ہے تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس چمڑے کی دباغت اس کی نجاست کو زائل کر دیتی ہے۔
( مسند احمد، ابن خزیمہ، حاکم بیہقی، قال الحافظ واسنادہ صحیح تلخیص الحبیر 2/190 )
💠 بہرحال یہ غیر مفتی بہ اور مرجوح بھی دلائل سے مبرہن ہے لیکن دیگر دلائل کی بنا پر محققین احناف نجاست اور حرمت والے قول کو راجح اور مفتی بہ قرار دیتے ہیں۔ کما مر۔
( عاشق حق ص8 تا 18، ترمیم و اضافہ کے ساتھ )
Comments
Post a Comment