فقہ حنفی پر اعتراض محرمات سے نکاح پر حد نہيں کا جواب
*فقہ حنفی پر اعتراض (محرّمات سے نکاح پر حد نہیں) کا جواب*
محرّمات سے نکاح پر حد کا مسئلہ
*اعتراض----------------*
طالب الرحمن صاحب لکھتے ہیں:
اسلام میں محرمات سے نکاح حرام
امام ابوداود نے اپنی سنن میں یہ باب باندھا باب فی الرجل یزنی بحریمہ کہ جو شخص اپنی محرمات سے نکاح کرتا ہے۔ پھر مندرجہ ذیل حدیث نقل کی:
عن البراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ قال بینا انا اطوف، علی ابل لی ضلت اذ اقبل رکب، او فوارس، معہم لوائ، فعجل الاعراب یطیفون بی، لمنزلتی من النبی صلی اﷲ علیہ وسلم اذ اتواقبۃ، فاستخرجوا منہا رجلا فضربوا عنقہ، فسألت عنہ؟ فذکروا انہ أعرس بامرأۃ أبیہ
ابوداود :4456
براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں دوران طواف میں ایک قافلے والوں سے ملا جب وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچے تو اس میں سے ایک شخص کو باہر نکالا اور اس کی گردن کو جدا کر دیا میں نے اس کے متعلق پوچھا تو بتایا گیا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا۔
دوسری حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
عن البرائ رضی اللہ تعالی عنہ قال لقیت عمی ومعہ رایۃ، فقلت: أین ترید؟ قال: بعثنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إلی رجل نکح إمرأۃ أبیہ، فأمرنی أن أضرب عنقہ، وآخذ مالہ
ابوداود: 4457
حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں اپنے چچا کو ملا اور اس کے پاس جھنڈا تھا میں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا مجھے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے اور آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال چھین لوں۔
فقہ حنفی میں محرمات سے نکاح
اب حنفیوں کا فتویٰ بھی دیکھ لیں، فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
وکذلک لو تزوج بذات رحم محرم نحو البنت والاخت والأم والعمۃ والخالۃ وجامعہا لاحد علیہ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی وان قال علمت أنھا علی حرام 3/468
اسی طرح اگر کوئی محرمات ابدیہ سے نکاح کر لے مثلاً بیٹی، بہن، ماں، پھوپھی یا خالہ اور پھر ان سے جماع بھی کر لے تو امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق اس پر کوئی حد نہیں ہے چاہے وہ یہ جانتا بھی ہو کہ یہ کام مجھ پر حرام ہے۔
*اعتراض کا جواب ---------*
اس اعتراض کے کئی جواب ہیں۔
*جواب نمبر1: - - - - -*
شریعت نے زانی کے لیے جو حد مقرر کی ہے وہ رجم (سنگسار) یا جَلد (کوڑے) ہے۔ کسی بھی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ جو شخص محرمات ابدیہ (ہمیشہ کے لیے حرام) سے نکاح کر کے وطی کرے اس کو رجم کیا جائے یا کوڑے مارے جائیں۔ اس لیے امام اعظم ابو حنیفہ نے ایسے شخص کے لیے یہ حد (رجم یا جلد) نہیں فرمائی۔ امام اعظم ابو حنیفہ کے اس مسئلہ کو اگر طالب الرحمن حدیث کے خلاف سمجھتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ کوئی ایسی حدیث نقل کریں جس میں ایسے شخص کے لیے حد آئی ہو۔ البتہ احادیث میں قتل کا حکم آیا ہے جس سے امام اعظم ابو حنیفہ کا مسلک و مذہب ہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ قتل کرنا یا مال ضبط کرنا زنا کی ان دونوں حدوں سے کوئی حد نہیں ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں ایسے شخص کو جو بھی سزا دی جائے کم ہے لہٰذا حاکم اس کو سخت سے سخت سزا دے فتح القدیر کے اندر تصریح ہے کہ
الا ترٰی ان ابا حنیفۃ الزم عقوبۃ باشد ما یکون وانما لم ثبت عقوبۃ ہی الحد فعرف انہ زنا محض عندہ الا ان فیہ شبہۃ
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ امام ابوحنیفہ اس کے لیے سخت سے سخت سزا تجویز کرتے ہیں؟ (البتہ نکاح کے سبب) حد ثابت نہیں۔ پس وہ اس کو زنا ہی سمجھتے ہیں مگر نکاح کے سبب اس میں شبہ پیدا ہو گیا۔
اس لیے حد مقرر رجم یا جلد اس سے ساقط ہو گئی اس عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس پر کوئی سزا ہی نہیں۔ بلکہ اسے سخت سزا دی جائے گی قتل کی صورت میں۔
*جواب نمبر2: - - - - -*
طحاوی ج2 ص73 میں ہے سوتیلی ماں سے نکاح کی وجہ سے مرتد ہو گیا، کیونکہ اس نے حرام کو حلال سمجھا، لہٰذا اس پر ارتداد کی سزا نافذ ہو گی اور یہ صرف عقدِ نکاح ہی سے نافذ ہو جائے گی، اس کے لیے مباشرت شرط نہیں اور اگر اس نے یہ نکاح حرام سمجھ کر کیا تو مباشرت و وطی کی صورت میں حد نافذ ہو گی، اسی طرح محرم سے بلا نکاح وطی کی تو بھی حد نافذ ہو گی یہی امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری کا مذہب ہے۔
محترم! ذرا غور فرمایئے کہ مسئلہ کی تین صورتیں ہیں:
اول محرمات میں سے کسی کے ساتھ نکاح کیا، اگر حلال اور جائز سمجھ کر کیا تو کافر و مرتد ہو گیا، لہٰذا اس پر ارتداد کی شرعی سزا نافذ ہو گی اور اگر نکاح حرام و ناجائز سمجھ کر کیا تو اس کے لیے شرعاً کوئی حد مقرر نہیں ہے، البتہ قاضی اپنی مرضی سے جو سزا تجویز کر لے وہ دی جائے گی اور یہ قتل بھی ہوسکتی ہے۔
دوم نکاح کے بعد اگر اس نے وطی و مباشرت بھی کر لی تو تعزیراً اس کو قتل کیا جائے گا یا قاضی جو سزا دے۔
سوم بغیر نکاح کے اگر کسی نے محرمات میں سے کسی کے ساتھ زنا کر لیا تو اس پر بھی زنا کی حد جاری ہو گی۔
*جواب نمبر3: - - - - - -*
باقی رہا مسئلہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے لیے قتل کی سزا کا حکم دیا ہے تو اس کے بارے میں قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس نے فعل حرام کو حلال سمجھا جو کفر کے لوازمات میں سے ہے، اس لیے اسے قتل کیا گیا۔
نیل الاوطار ج7 ص122
گویا یہ قتل کی سزا حد نہیں بلکہ ارتداد کی سزا تھی۔ امام حافظ ابن الہمام الحنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ قتل کی سزا بطور سیاست و تعزیر تھی۔
فتح القدیر ص148
اس سے صاف ظاہر ہے کہ اختلاف قتل کی سزا میں نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ یہ قتل کی سزا حد ہے یا تعزیر؟ در مختار ج3 ص179 میں ہے اسے تعزیراً قتل کیا جائے گا۔ عالمگیری ج2 ص148 میں ہے‘ اسے عبرت ناک سزا دی جائے گی، طحاوی ج2 ص97 میں ہے یہ زنا سے بڑا گناہ ہے:
ولٰکن یجب فیہ التعزیر والعقوبۃ البلیغۃ
اس پر تعزیراً سخت ترین سزا واجب ہے۔ حافظ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کہا: ماں بیٹی وغیرہ سے نکاح جائز ہے وہ کافر، مرتد اور واجب القتل ہے۔
فتح القدیر ج5 ص42، طحاوی ج2 ص96
*جواب نمبر4: - - - - -*
آپ کے نامور بزرگ نواب نور الحسن خان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ زنا کی بیٹی سے نکاح جائز ہے۔
عرف الجادی ص113
سردار اہل حدیث ثناء اﷲ امرتسری فرماتے ہیں کہ دادی کے ساتھ پوتے کا نکاح جائز ہے اس کی حرمت منصوص نہیں۔
اخبارِ اہل حدیث رمضان 1388ھ بحوالہ معین الفقہ ص95
محترم! ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی نے تو نہ اس نکاح کو جائز قرار دیا، نہ اس کی حرمت منصوصہ سے انکار کیا اور نہ اس کی سزا سے انکار کیا، صرف اس سزا کا نام حد کی بجائے تعزیر رکھ دیا تو آپ نے آسمان سر اپر اٹھا لیا، لیکن یہاں تو سب کچھ قرآن و حدیث کے نام پر ہو رہا ہے، اس کے بارے میں بھی کچھ وضاحت فرما دیجیے۔
Comments
Post a Comment