غیر مقلد ہوکر تقلید کیوں
غیر مقلد ہوکر تقلید کیوں
🌟 *تالیف .....مولانا مفتی رب نواز سلفی صاحب مدرس دارالعلوم فتحیہ احمد پور شرقیہ*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
🏵 *چھپ چھپ کر تقلید کرنے والے اہلحدیثوں کی اندرونی داستان*
🎯 *علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید*
ہاں جی ..اہلحدیثوں نے جہاں دوسروں کی تقلید کو اپنا شب وروز کا معمول بنایا ہے وہاں انہوں نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کو بھی سینے سے لگایا ہے ...
چنانچہ اہلحدیث کے با اثر عالم عنایت اللہ اثری لکھتے ہیں
غزنوی بزرگ خصوصًا اور دیگر اہلحدیث عمومًا امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عملًا تقلید کرتے ہیں ....
( العطر البلیغ .ص 159 مشمولہ رسائل اہلحدیث .ج2 )
📌 *غیرمقلدین کا اعتراض ......*
ہائے اہلحدیث علماء میں یہ متضاد باتیں کیوں ہیں کہ دوسروں کو تقلید سے روکتے ہیں اور خود تقلید کے بغیر رہ نہیں سکتے .مجھے ان پر حیرت ہورہی ہے اور آپ پر رشک کررہاہوں کہ ماشاءاللہ ہمارے علماء کی کتابوں کا خوب مطالعہ کیاہے جب ہی ہر بات با حوالہ بتارہے ہیں ..مگر وہ عبارت بھی تو دکھاءو جس میں علامہ وحید الزمان نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کرنے والے اہلحدیث ( غیر مقلد) کو ڈانٹا ہے
👈 جواب ...... آپ حوصلہ رکھیں اور ساری عبارتیں دیکھتے جائیں پھر بعد میں فیصلہ کرنا کہ اہلحدیث .غیر مقلد ہیں یا تقیلد کے میدان میں عام مقلدین کو بھی مات کردیا ہے .آج دلچسپ بحث تو اس وقت ہوگی جب میں آپ کی مستند کتابوں کے حوالے سے ثابت کروں گا کہ اہلحدیث ( غیر مقلد ) جب تقلید کرنے پر آئے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور فقہائے احناف کی تقلید کو بھی صراط مستقیم سمجھنے لگے اور حنفی کہلوانے کو اہلسنت کی نشانی قرار دے دیا ...
💎 اب ہم علامہ صاحب کا وہ حوالہ پیش کرتے ہیں جہاں انہوں نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کرنے والے اپنے ہم مسلک لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے .علامہ صاحب لکھتے ہیں
ہمارے اہلحدیث بھائیوں نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابن قیم رحمہ اللہ اور شوکانی رحمہ اللہ اور شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اور مولوی اسماعیل شہید رحمہ اللہ کو دین کا ٹھیکدار بنا رکھا ہے جہاں کسی مسلمان نے ان بزرگوں کے خلاف کسی قول کو اختیار کیا بس اس کے پیچھے پڑگئے برا بھلا کہنے لگے. بھائیو ذرا تو انصاف اور غور کرو جب تم نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ کی تقلید چھوڑدی تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابن قیم رحمہ اللہ اور شوکانی رحمہ اللہ جو ان سے متاخر ہیں ان کی تقلید کی کیا ضرورت ہے .....
( وحیداللغات مادہ ..شر.. بحوالہ حیات وحید الزمان .ص 102 )
🛡 اس عبارت سے صاف معلوم ہورہا کہ اہلحدیث (غیر مقلد) علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ کی تقلید کیاکرتے ہیں جب ہی.تو علامہ صاحب نے ان کو ڈانٹنے کی ضرورت محسوس فرمائی
👈 سوال اہلحدیث کا.......آپ نے ابھی آگے لکھا کہ علامہ صاحب دوسروں کو علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید سے منع کرتے ہیں اور خود ان کی تقلید کیا کرتے تھے آپ نے منع کی عبارت تو بتادیا اب وہ عبارت بتائیں جس سے ثابت ہوتا ہو کی علامہ صاحب نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کی ہے
👈 جواب ....... دیکھئے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حیض والی عورت کو جو طلاق دی جائے وہ واقع ہوجاتی ہے .....
( احکام ومسائل .ص491 )
صحیح بخاری .ج2 .ص790 ...صحیح مسلم .ج1 .ص476 ....)
💐 حدیث مذکور ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی تو اسے شمار کرلیا گیا تھا مسلم کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ.آنحضرتؐ نے انہیں حکم دیا تھا کہ رجوع کرلو اور یہ رجوع کرنا دلیل ہے طلاق واقع ہوگئی اور اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو رجوع کا کیا مطلب
🔮 علامہ وحیدالزمان صاحب اس جگہ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں
حضرت ؐ نے جو رجوع کا حکم فرمایا اس سے صاف معلوم ہوا کہ طلاق پڑگئی.....
( شرح مسلم .ج 4 .ص89 )
💟 لیکن علامہ صاحب احادیث کے خلاف محض علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید میں کہتے ہیں کہ حالت حیض میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی ......
( تیسرالباری .ج7 .ص164 .235 )
📍اس سے ثابت ہوا کہ علامہ صاحب اگر چہ دوسروں کو بظاہر تقلید سے روکتے تھے مگر خود چھپ چھپ کر تقلید کرلیا کرتےتھے
👈 سوال غیر مقلد کا ......پچھلی پوسٹ میں آپ کی بات بالکل درست ثابت ہوئی بلکہ آپ نے دلیل سے ثابت کردیا ہے کہ علامہ وحیدالزمان صاحب نے حدیث کی اتباع کرنے کی بجائے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کو ترجیح دے کر لکھ دیا ہے کہ حائضہ عورت کو دی ہوئی طلاق نہیں پڑتی ..کیا اس کے علاوہ بھی کوئی مسئلہ ہے جہاں علامہ صاحب یا دیگر اہلحدیث ( غیرمقلد) نے علامہ تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کی ہو
👈 جواب ....... علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ تین مسجدوں ..مسجد حرام ..مسجد نبوی ..مسجد اقصی .کے علاوہ کہیں کا سفر جائز نہیں یہاں تک کہ روضہ رسول اللہؐ کی زیارت کے لئے سفر کرنا بھی جائز نہیں ......
( نزل الابرار .ج1 .ص179 )
🏮 لیکن صحیح بات یہ ہے کہ روضہ رسول اللہؐ کی زیارت کیلئے سفر کرنا جائز اور کار ثواب ہے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے اس مسئلہ میں خطا ہوئی ہے ...
✅ چنانچہ علامہ وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں
غایت مافی الباب یہ ہےکہ ان سے اجتہاد میں غلطی ہوئی تب بھی ان کیلئے اجر ہے اللہ ان پر رحم کرے ..کیا ان کے فضائل ایک مسئلہ اختلافی کی وجہ سے مفقود ہوجائیں گے ..نہیں ہرگز نہیں ......
( تیسر الباری .ج2 .ص197 )
☸ علامہ صاحب ببانگ دہل یہ اعلان کررہے ہیں کہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے موقف میں ضعف ہے اور ان کی رائےخطا کھا گئی مگر اہلحدیث ( غیر مقلد) اس مسئلہ میں ان کے پکے مقلد بنے ہوئے ہیں
بلکہ خود علامہ صاحب جنہوں نے اقرار کیا ہے کہ اس مسئلہ میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے غلطی ہوئی ہے وہ اپنی دوسری کتاب میں ان کی تقلید کرتے ہوئے لکھتے ہیں ...
جب کسی خانہ خدا کی طرف سفر درست نہ ہوا سوا ان تین کے .تو قبروں کی زیارت کے لئے کیونکر درست ہوگا ......( شرح مسلم .ج3 .ص405 )
👈 سوال غیر مقلد کا .......مولانا عنایت اللہ اثری نے جیسے لکھا ہے کہ اہلحدیث ( غیر مقلد) عمومًا علامہ ابن تیمہ رحمہ اللہ کی تقلید کیا کرتے ہیں آپ نے ان کی باتوں کو خارجی شہادتوں سے سچا کردکھایا ہے اب یہ بتائیں کوئی امتیازی مسئلہ بھی ہے جس میں اہلحدیث ( غیرمقلد) لوگوں نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کی ہو
👈 جواب ......مسئلہ تین طلاق امتیازی مسائل میں سے ہے علامہ ابن تیمیہ نے جمہور امت سے ہٹ کر ایک الگ راہ اختیار کی ہے کہ ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک قرار دیا .اہلحدیث ( غیر مقلد) جماعت کے سارے علماء نے ( سوائے دوچار کے ) علامہ ابن تیمیہ کی تقلید کی ہے
❇ مولانا شرف الدین دہلوی اہلحدیث لکھتے ہیں ..
اصل بات یہ ہے کہ مجیب مرحوم نے جو لکھا ہے کہ تین طلاق مجلس واحد کی محدثین کے نزدیک ایک کے حکم میں ہیں .یہ مسلک صحابہؓ .تابعین وتبع تابعین وغیرہ آئمہ محدثین متقدمین کا نہیں ہے یہ مسلک سات سو سال کے بعد کے محدثین کا ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے فتوی کے پابند اور ان کے معتقد ہیں ......
( فتاوی ثنائیہ .ج2 .ص219 )
✳ اس عبارت سے ظاہر ہوا کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا صحابہؓ وتابعین اور محدثین حضرات کا نہیں بلکہ ساتویں صدی کے عالم علامہ ابن تیمیہ کا ہے اور اہلحدیث ( غیر مقلد) جماعت نے اس مسئلہ میں ان کی تقلید کر رکھی ہے
👈 سوال غیر مقلد کا ......یہ بات آپ کی بالکل کمزور ہے آپ مجھے بہلا رہے ہیں اور خواہ مخواہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کا الزام ہم پر لگارہے ہیں ہمارے علماء نے ابن تیمیہ کی تقلید نہیں کی .بلکہ یہ بات مسلم شریف کی حدیث سے لی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانے تک تین طلاقوں کو ایک شمار کیاجاتا تھا
👈 جواب ........علامہ ابن حزم ظاہری ( جنہیں اھلحدیث اپنی جماعت کے افراد میں شامل کرتے ہیں ...نزل الابرار .ج2 .ص64 ) لکھتے ہیں کہ یہ نبی ؐ کی حدیث ہے ہی نہیں کیونکہ یہ نہ تو آپؐ کا فرمان ہے اور نہ ہی فعل اور نہ ہی آپ ؐ سے اس پر تقریر ثابت ہے گویا حدیث مرفوع کی تینوں قسموں میں سے کوئی بھی نہیں .......
( محصلہ محلی ابن حزم .ج10 .ص106 ) ....
⚜ اہلحدیث کے عالم مولانا شرف الدین دہلوی بھی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مرفوع یعنی نبیؐ کی حدیث نہیں چنانچہ مولانا صاحب لکھتے ہیں ...
ابن عباسؓ کی مسلم حدیث مذکور مرفوع نہیں یہ بعض صحابہ ؓ کا فعل ہے جس کو نسخ کا علم نہ تھا ......
( فتاوی ثنائیہ .ج2 .ص219 )
🌻 لہذا یہ کہنا بجا ہے کہ اہلحدیثوں ( غیر مقلدوں ) کا یہ مسئلہ حدیث نبویؐ سے ماخوذ نہیں ..یہ صرف علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید ہے اور کچھ نہیں
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦
🌟 *تالیف .....مولانا مفتی رب نواز سلفی صاحب مدرس دارالعلوم فتحیہ احمد پور شرقیہ*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
✅ دلائل کیلئے وزٹ کیجئے
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا سروس*
https://t.me/ahnaf_media_services
✳ *فیس بک گروپ احناف میڈیا سروس*
https://m.facebook.com/groups/1716465685282735
❇ *اسلامک تصاویر کیلئے آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
◼◼◼◼◼◼◼◼◼
🏵 *چھپ چھپ کر تقلید کرنے والے اہلحدیثوں کی اندرونی داستان*
🎯 *علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید*
ہاں جی ..اہلحدیثوں نے جہاں دوسروں کی تقلید کو اپنا شب وروز کا معمول بنایا ہے وہاں انہوں نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کو بھی سینے سے لگایا ہے ...
چنانچہ اہلحدیث کے با اثر عالم عنایت اللہ اثری لکھتے ہیں
غزنوی بزرگ خصوصًا اور دیگر اہلحدیث عمومًا امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عملًا تقلید کرتے ہیں ....
( العطر البلیغ .ص 159 مشمولہ رسائل اہلحدیث .ج2 )
📌 *غیرمقلدین کا اعتراض ......*
ہائے اہلحدیث علماء میں یہ متضاد باتیں کیوں ہیں کہ دوسروں کو تقلید سے روکتے ہیں اور خود تقلید کے بغیر رہ نہیں سکتے .مجھے ان پر حیرت ہورہی ہے اور آپ پر رشک کررہاہوں کہ ماشاءاللہ ہمارے علماء کی کتابوں کا خوب مطالعہ کیاہے جب ہی ہر بات با حوالہ بتارہے ہیں ..مگر وہ عبارت بھی تو دکھاءو جس میں علامہ وحید الزمان نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کرنے والے اہلحدیث ( غیر مقلد) کو ڈانٹا ہے
👈 جواب ...... آپ حوصلہ رکھیں اور ساری عبارتیں دیکھتے جائیں پھر بعد میں فیصلہ کرنا کہ اہلحدیث .غیر مقلد ہیں یا تقیلد کے میدان میں عام مقلدین کو بھی مات کردیا ہے .آج دلچسپ بحث تو اس وقت ہوگی جب میں آپ کی مستند کتابوں کے حوالے سے ثابت کروں گا کہ اہلحدیث ( غیر مقلد ) جب تقلید کرنے پر آئے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور فقہائے احناف کی تقلید کو بھی صراط مستقیم سمجھنے لگے اور حنفی کہلوانے کو اہلسنت کی نشانی قرار دے دیا ...
💎 اب ہم علامہ صاحب کا وہ حوالہ پیش کرتے ہیں جہاں انہوں نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کرنے والے اپنے ہم مسلک لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے .علامہ صاحب لکھتے ہیں
ہمارے اہلحدیث بھائیوں نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابن قیم رحمہ اللہ اور شوکانی رحمہ اللہ اور شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اور مولوی اسماعیل شہید رحمہ اللہ کو دین کا ٹھیکدار بنا رکھا ہے جہاں کسی مسلمان نے ان بزرگوں کے خلاف کسی قول کو اختیار کیا بس اس کے پیچھے پڑگئے برا بھلا کہنے لگے. بھائیو ذرا تو انصاف اور غور کرو جب تم نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ کی تقلید چھوڑدی تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابن قیم رحمہ اللہ اور شوکانی رحمہ اللہ جو ان سے متاخر ہیں ان کی تقلید کی کیا ضرورت ہے .....
( وحیداللغات مادہ ..شر.. بحوالہ حیات وحید الزمان .ص 102 )
🛡 اس عبارت سے صاف معلوم ہورہا کہ اہلحدیث (غیر مقلد) علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ کی تقلید کیاکرتے ہیں جب ہی.تو علامہ صاحب نے ان کو ڈانٹنے کی ضرورت محسوس فرمائی
👈 سوال اہلحدیث کا.......آپ نے ابھی آگے لکھا کہ علامہ صاحب دوسروں کو علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید سے منع کرتے ہیں اور خود ان کی تقلید کیا کرتے تھے آپ نے منع کی عبارت تو بتادیا اب وہ عبارت بتائیں جس سے ثابت ہوتا ہو کی علامہ صاحب نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کی ہے
👈 جواب ....... دیکھئے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حیض والی عورت کو جو طلاق دی جائے وہ واقع ہوجاتی ہے .....
( احکام ومسائل .ص491 )
صحیح بخاری .ج2 .ص790 ...صحیح مسلم .ج1 .ص476 ....)
💐 حدیث مذکور ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی تو اسے شمار کرلیا گیا تھا مسلم کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ.آنحضرتؐ نے انہیں حکم دیا تھا کہ رجوع کرلو اور یہ رجوع کرنا دلیل ہے طلاق واقع ہوگئی اور اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو رجوع کا کیا مطلب
🔮 علامہ وحیدالزمان صاحب اس جگہ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں
حضرت ؐ نے جو رجوع کا حکم فرمایا اس سے صاف معلوم ہوا کہ طلاق پڑگئی.....
( شرح مسلم .ج 4 .ص89 )
💟 لیکن علامہ صاحب احادیث کے خلاف محض علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید میں کہتے ہیں کہ حالت حیض میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی ......
( تیسرالباری .ج7 .ص164 .235 )
📍اس سے ثابت ہوا کہ علامہ صاحب اگر چہ دوسروں کو بظاہر تقلید سے روکتے تھے مگر خود چھپ چھپ کر تقلید کرلیا کرتےتھے
👈 سوال غیر مقلد کا ......پچھلی پوسٹ میں آپ کی بات بالکل درست ثابت ہوئی بلکہ آپ نے دلیل سے ثابت کردیا ہے کہ علامہ وحیدالزمان صاحب نے حدیث کی اتباع کرنے کی بجائے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کو ترجیح دے کر لکھ دیا ہے کہ حائضہ عورت کو دی ہوئی طلاق نہیں پڑتی ..کیا اس کے علاوہ بھی کوئی مسئلہ ہے جہاں علامہ صاحب یا دیگر اہلحدیث ( غیرمقلد) نے علامہ تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کی ہو
👈 جواب ....... علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ تین مسجدوں ..مسجد حرام ..مسجد نبوی ..مسجد اقصی .کے علاوہ کہیں کا سفر جائز نہیں یہاں تک کہ روضہ رسول اللہؐ کی زیارت کے لئے سفر کرنا بھی جائز نہیں ......
( نزل الابرار .ج1 .ص179 )
🏮 لیکن صحیح بات یہ ہے کہ روضہ رسول اللہؐ کی زیارت کیلئے سفر کرنا جائز اور کار ثواب ہے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے اس مسئلہ میں خطا ہوئی ہے ...
✅ چنانچہ علامہ وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں
غایت مافی الباب یہ ہےکہ ان سے اجتہاد میں غلطی ہوئی تب بھی ان کیلئے اجر ہے اللہ ان پر رحم کرے ..کیا ان کے فضائل ایک مسئلہ اختلافی کی وجہ سے مفقود ہوجائیں گے ..نہیں ہرگز نہیں ......
( تیسر الباری .ج2 .ص197 )
☸ علامہ صاحب ببانگ دہل یہ اعلان کررہے ہیں کہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے موقف میں ضعف ہے اور ان کی رائےخطا کھا گئی مگر اہلحدیث ( غیر مقلد) اس مسئلہ میں ان کے پکے مقلد بنے ہوئے ہیں
بلکہ خود علامہ صاحب جنہوں نے اقرار کیا ہے کہ اس مسئلہ میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے غلطی ہوئی ہے وہ اپنی دوسری کتاب میں ان کی تقلید کرتے ہوئے لکھتے ہیں ...
جب کسی خانہ خدا کی طرف سفر درست نہ ہوا سوا ان تین کے .تو قبروں کی زیارت کے لئے کیونکر درست ہوگا ......( شرح مسلم .ج3 .ص405 )
👈 سوال غیر مقلد کا .......مولانا عنایت اللہ اثری نے جیسے لکھا ہے کہ اہلحدیث ( غیر مقلد) عمومًا علامہ ابن تیمہ رحمہ اللہ کی تقلید کیا کرتے ہیں آپ نے ان کی باتوں کو خارجی شہادتوں سے سچا کردکھایا ہے اب یہ بتائیں کوئی امتیازی مسئلہ بھی ہے جس میں اہلحدیث ( غیرمقلد) لوگوں نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کی ہو
👈 جواب ......مسئلہ تین طلاق امتیازی مسائل میں سے ہے علامہ ابن تیمیہ نے جمہور امت سے ہٹ کر ایک الگ راہ اختیار کی ہے کہ ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک قرار دیا .اہلحدیث ( غیر مقلد) جماعت کے سارے علماء نے ( سوائے دوچار کے ) علامہ ابن تیمیہ کی تقلید کی ہے
❇ مولانا شرف الدین دہلوی اہلحدیث لکھتے ہیں ..
اصل بات یہ ہے کہ مجیب مرحوم نے جو لکھا ہے کہ تین طلاق مجلس واحد کی محدثین کے نزدیک ایک کے حکم میں ہیں .یہ مسلک صحابہؓ .تابعین وتبع تابعین وغیرہ آئمہ محدثین متقدمین کا نہیں ہے یہ مسلک سات سو سال کے بعد کے محدثین کا ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے فتوی کے پابند اور ان کے معتقد ہیں ......
( فتاوی ثنائیہ .ج2 .ص219 )
✳ اس عبارت سے ظاہر ہوا کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا صحابہؓ وتابعین اور محدثین حضرات کا نہیں بلکہ ساتویں صدی کے عالم علامہ ابن تیمیہ کا ہے اور اہلحدیث ( غیر مقلد) جماعت نے اس مسئلہ میں ان کی تقلید کر رکھی ہے
👈 سوال غیر مقلد کا ......یہ بات آپ کی بالکل کمزور ہے آپ مجھے بہلا رہے ہیں اور خواہ مخواہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کا الزام ہم پر لگارہے ہیں ہمارے علماء نے ابن تیمیہ کی تقلید نہیں کی .بلکہ یہ بات مسلم شریف کی حدیث سے لی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانے تک تین طلاقوں کو ایک شمار کیاجاتا تھا
👈 جواب ........علامہ ابن حزم ظاہری ( جنہیں اھلحدیث اپنی جماعت کے افراد میں شامل کرتے ہیں ...نزل الابرار .ج2 .ص64 ) لکھتے ہیں کہ یہ نبی ؐ کی حدیث ہے ہی نہیں کیونکہ یہ نہ تو آپؐ کا فرمان ہے اور نہ ہی فعل اور نہ ہی آپ ؐ سے اس پر تقریر ثابت ہے گویا حدیث مرفوع کی تینوں قسموں میں سے کوئی بھی نہیں .......
( محصلہ محلی ابن حزم .ج10 .ص106 ) ....
⚜ اہلحدیث کے عالم مولانا شرف الدین دہلوی بھی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مرفوع یعنی نبیؐ کی حدیث نہیں چنانچہ مولانا صاحب لکھتے ہیں ...
ابن عباسؓ کی مسلم حدیث مذکور مرفوع نہیں یہ بعض صحابہ ؓ کا فعل ہے جس کو نسخ کا علم نہ تھا ......
( فتاوی ثنائیہ .ج2 .ص219 )
🌻 لہذا یہ کہنا بجا ہے کہ اہلحدیثوں ( غیر مقلدوں ) کا یہ مسئلہ حدیث نبویؐ سے ماخوذ نہیں ..یہ صرف علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید ہے اور کچھ نہیں
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس* ✍wa.me/+919537228474
♦♦♦♦♦♦♦♦♦
Comments
Post a Comment