اتباع سنت کی اہمیت :
حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جس نے میرے بعد میری کسی مٹی ہوئی سنت کو زندہ کیا تو جتنے لوگ اس سنت پر عمل کریں گے ان سب کے برابر اسے اجر ملے گا اور اس سے ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئی گی اور جس نے گمراہی کا کوئی طریقہ ایجا د کیا جس سے اللہ اور اس کے رسول کبھی راضی نہیں ہو سکتے تو جتنے لوگ اس طریقہ پر عمل کریں گے ان سب کے برابر اسے گناہ ہو گا اور اس سے ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی ۔(ترمذی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس رضی اللہ عنہ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اے میرے بیٹے ! اگر تم ہر وقت اپنے دل کی یہ کیفیت بناسکتے ہو کہ اس میں کسی کے بارے میں ذرا بھی کھوٹ نہ ہو تو ایسا ضرور کرو پھرآپ ﷺ نے فرمایا اے میرے بیٹے ! یہ میری سنت میں سے ہے اور جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا۔ (ترمذی )
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ میری امت کے بگڑنے کے وقت جس نے میرے سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھا اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا ۔ یہ روایت بیہقی کی ہے اور طبرانی میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ اسے ایک شہید کا ثواب ملے گا۔(الترغیب)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ میری امت کے بگڑنے کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھامنے والے کو ایک شہید کا اجر ملے گا ۔ (طبرانی )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ میری امت کے اختلاف کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھامنے والا ہاتھ میں چنگاری لینے والے کی طرح ہو گا۔ (کنزالعمال )
ماخوذ از:" آج کا سبق "صفحہ54
مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
Comments
Post a Comment