ماہِ محرم؛فضائل و مسائل . part 2
🔴 *part 2*
ماہِ محرم؛فضائل و مسائل
🌟 متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ ▪▪▪▪▪▪▪▪▪
⬇ *دلائل کے لیے*
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا انڈیا*
https://t.me/shaikh_muhammad_alqama
🛡 *آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫
🔰 *ماہ ِمحرم کے فضائل:*
⚜ ماہ محرم اپنی فضیلت و عظمت ، حرمت و برکت اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کا حامل ہے۔ اسی وجہ سے شریعت محمدیہ علیٰ صا حبہا الصلوٰۃ والسلام کے ابتدائی دور میں اس کے اعزازو اکرام میں قتال کو ممنوع قرار دیا گیا۔
🌷 چنانچہ ارشاد ربا نی ہے:
*’’قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ‘‘۔*
( البقرہ : 217 )
🌹 *ترجمہ:* کہہ دیجئے اس میں قتال کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
🌻 اسے حر مت والے مہینوں میں سے بھی شمار کیا گیا ہے۔ارشاد با ری ہے :
*’’ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَاللّٰہِ اثْنَا عَشَرَشَھْراً …مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ‘‘۔*
(التوبہ : 36)
💠 *تر جمہ:* مہینوں کی گنتی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے ہے …ان میں چار مہینے ادب کے ہیں۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
*’’ اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَکَھَیْأَ تِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوَاتِ وَالَارْضَ، اَلسَّنَۃُ اِثْنَا عَشَرَ شَھْراً، مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلَا ثٌ مُتَوَالِیاَتٌ ذُوالْقَعْدَۃِ وَ ذُوالْحَجَّۃِ وَ الْمُحَرَّمُ وَ رَجَبُ مُضَرَ الَّذِیْ بَیْنَ جُمَادٰی وَ شَعْبَانَ۔*
( صحیح بخا ری :ج 2:ص: 672:باب قولہ ان عدۃ الشہورالخ )
🌸 *تر جمہ :* زمانے کی رفتار وہی ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ ایک سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں جن میں سے تین مہینے مسلسل ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ، محرم اور ایک مہینہ رجب کا ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس*✍+919537228474
🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻
ماہِ محرم؛فضائل و مسائل
🌟 متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ ▪▪▪▪▪▪▪▪▪
⬇ *دلائل کے لیے*
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا انڈیا*
https://t.me/shaikh_muhammad_alqama
🛡 *آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫
🔰 *ماہ ِمحرم کے فضائل:*
⚜ ماہ محرم اپنی فضیلت و عظمت ، حرمت و برکت اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کا حامل ہے۔ اسی وجہ سے شریعت محمدیہ علیٰ صا حبہا الصلوٰۃ والسلام کے ابتدائی دور میں اس کے اعزازو اکرام میں قتال کو ممنوع قرار دیا گیا۔
🌷 چنانچہ ارشاد ربا نی ہے:
*’’قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ‘‘۔*
( البقرہ : 217 )
🌹 *ترجمہ:* کہہ دیجئے اس میں قتال کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
🌻 اسے حر مت والے مہینوں میں سے بھی شمار کیا گیا ہے۔ارشاد با ری ہے :
*’’ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَاللّٰہِ اثْنَا عَشَرَشَھْراً …مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ‘‘۔*
(التوبہ : 36)
💠 *تر جمہ:* مہینوں کی گنتی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے ہے …ان میں چار مہینے ادب کے ہیں۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
*’’ اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَکَھَیْأَ تِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوَاتِ وَالَارْضَ، اَلسَّنَۃُ اِثْنَا عَشَرَ شَھْراً، مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلَا ثٌ مُتَوَالِیاَتٌ ذُوالْقَعْدَۃِ وَ ذُوالْحَجَّۃِ وَ الْمُحَرَّمُ وَ رَجَبُ مُضَرَ الَّذِیْ بَیْنَ جُمَادٰی وَ شَعْبَانَ۔*
( صحیح بخا ری :ج 2:ص: 672:باب قولہ ان عدۃ الشہورالخ )
🌸 *تر جمہ :* زمانے کی رفتار وہی ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ ایک سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں جن میں سے تین مہینے مسلسل ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ، محرم اور ایک مہینہ رجب کا ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس*✍+919537228474
🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻
Comments
Post a Comment