part 3* ماہِ محرم؛فضائل و مسائل
🔴 *part 3*
ماہِ محرم؛فضائل و مسائل
🌟 متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
⬇ *دلائل کے لیے*
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا انڈیا* https://t.me/shaikh_muhammad_alqama
🛡 *آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫
🌹 *محرم کے رو زوں کی فضیلت:*
🔰 یوں تو اس ماہ میں کی جا نے والی ہر عبادت قابل قدر اور با عث اجر ہے مگر احادیث مبارکہ میں محرم کے روزوں کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرما تے ہیں:
*’’ وَاَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ شَھْرِ رَمَضَانَ صِیَامُ شَھْرِاللّٰہِ الْمُحَرَّمِ‘‘۔*
( مسلم :ج :1: ص: 368 :با ب فضل صوم المحرم )
🌻 *ترجمہ:* رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینہ’’محرم ‘‘ کے روزے ہیں۔
💠 *حضرت ابن عبا س ؓ سے روا یت ہے :*
*قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم ’’مَنْ صَامَ یَوْماً مِنَ الْمُحَرَّمِ فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ ثَلاَثُونَ یَوْماً ‘‘۔*
( غنیۃ الطا لبین للشیخ جیلانیؒ: ص:314: مجلس فی فضائل یو م عا شوراء)
🌸 *ترجمہ :* جو محرم کے ایک دن کا روزہ رکھے اسکو ایک مہینہ کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
پھر اس ماہ کے تمام ایام میں سے اللہ رب العزت نے ’’ یوم عاشوراء ‘‘کو ایک ممتاز مقام عطا ء فرمایا ہے۔ یہ دن بہت سے فضائل کا حامل اور نیکیوں کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ ارشاد نبوی ہے:
*’’وَ صِیَامُ یَوْمِ عَاشُوْرَاء احْتَسَبَ عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُّکَفِّرَ اَلسَّنَۃَ الَّتِی قَبْلَہٗ ‘‘۔*
( صحیح مسلم :ج :1: ص: 367:باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام الخ)
🌷 *ترجمہ :* جو شخص عاشورا کے دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعا لی اس کے گزشتہ سال کے (صغیرہ) گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
🌺 ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ فر ما ن ہے:
*’’مَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ و سلم یَتَحَرّیٰ صِیَامَ یَوْمٍ فَضَّلَہٗ عَلٰی غَیْرِہٖ اِلَّا ھٰذَ االْیَوْمَ یَوْمَ عَاشُوْرَا ئَ وَ ھٰذَاالشَّھْرَیَعْنِیْ شَھْرَ رَمَضَانَ‘‘۔*
( صحیح بخا ری: ج:1 ص: 268 :باب صیام یو م عا شوراء)
🌼 *ترجمہ :* حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم رمضان المبارک کے مہینہ اور دس محرم کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
💎 *نوٹ:* اہل ایمان کو یہود کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے اور اس دسویں محرم کا روزہ چونکہ یہود بھی رکھتے ہیں اس لئے اب ہمارے لئے حکم یہ ہے کہ دسویں تاریخ کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ بھی رکھیں تا کہ سنت بھی ادا ہو جائے اور مخالفتِ یہود کا پہلو بھی نکل آ ئے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت میں ہے:
*’’ قَا لَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم : صُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَ خَالِفُوْا فِیْہِ الیَھُوْد َوَصُوْمُوْا قَبْلَہٗ یَوْماً اَوْ بَعْدَہٗ یَوْماً‘‘۔*
( مسند احمد :ج:1: ص: 241 حدیث نمبر 2154 )
⚜ *ترجمہ :* تم عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو اور اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھو۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس*✍+919537228474
🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻
ماہِ محرم؛فضائل و مسائل
🌟 متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
⬇ *دلائل کے لیے*
🔏 *ٹیلی گرام گروپ احناف میڈیا انڈیا* https://t.me/shaikh_muhammad_alqama
🛡 *آفیشل چینل*
https://t.me/amsindia
▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫ ▫
🌹 *محرم کے رو زوں کی فضیلت:*
🔰 یوں تو اس ماہ میں کی جا نے والی ہر عبادت قابل قدر اور با عث اجر ہے مگر احادیث مبارکہ میں محرم کے روزوں کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرما تے ہیں:
*’’ وَاَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ شَھْرِ رَمَضَانَ صِیَامُ شَھْرِاللّٰہِ الْمُحَرَّمِ‘‘۔*
( مسلم :ج :1: ص: 368 :با ب فضل صوم المحرم )
🌻 *ترجمہ:* رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینہ’’محرم ‘‘ کے روزے ہیں۔
💠 *حضرت ابن عبا س ؓ سے روا یت ہے :*
*قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم ’’مَنْ صَامَ یَوْماً مِنَ الْمُحَرَّمِ فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ ثَلاَثُونَ یَوْماً ‘‘۔*
( غنیۃ الطا لبین للشیخ جیلانیؒ: ص:314: مجلس فی فضائل یو م عا شوراء)
🌸 *ترجمہ :* جو محرم کے ایک دن کا روزہ رکھے اسکو ایک مہینہ کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
پھر اس ماہ کے تمام ایام میں سے اللہ رب العزت نے ’’ یوم عاشوراء ‘‘کو ایک ممتاز مقام عطا ء فرمایا ہے۔ یہ دن بہت سے فضائل کا حامل اور نیکیوں کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ ارشاد نبوی ہے:
*’’وَ صِیَامُ یَوْمِ عَاشُوْرَاء احْتَسَبَ عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُّکَفِّرَ اَلسَّنَۃَ الَّتِی قَبْلَہٗ ‘‘۔*
( صحیح مسلم :ج :1: ص: 367:باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام الخ)
🌷 *ترجمہ :* جو شخص عاشورا کے دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعا لی اس کے گزشتہ سال کے (صغیرہ) گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
🌺 ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ فر ما ن ہے:
*’’مَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ و سلم یَتَحَرّیٰ صِیَامَ یَوْمٍ فَضَّلَہٗ عَلٰی غَیْرِہٖ اِلَّا ھٰذَ االْیَوْمَ یَوْمَ عَاشُوْرَا ئَ وَ ھٰذَاالشَّھْرَیَعْنِیْ شَھْرَ رَمَضَانَ‘‘۔*
( صحیح بخا ری: ج:1 ص: 268 :باب صیام یو م عا شوراء)
🌼 *ترجمہ :* حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم رمضان المبارک کے مہینہ اور دس محرم کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
💎 *نوٹ:* اہل ایمان کو یہود کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے اور اس دسویں محرم کا روزہ چونکہ یہود بھی رکھتے ہیں اس لئے اب ہمارے لئے حکم یہ ہے کہ دسویں تاریخ کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ بھی رکھیں تا کہ سنت بھی ادا ہو جائے اور مخالفتِ یہود کا پہلو بھی نکل آ ئے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت میں ہے:
*’’ قَا لَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم : صُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَ خَالِفُوْا فِیْہِ الیَھُوْد َوَصُوْمُوْا قَبْلَہٗ یَوْماً اَوْ بَعْدَہٗ یَوْماً‘‘۔*
( مسند احمد :ج:1: ص: 241 حدیث نمبر 2154 )
⚜ *ترجمہ :* تم عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو اور اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھو۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *وٹس ایپ گروپ احناف میڈیا سروس*✍+919537228474
🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻
Comments
Post a Comment