دین اور مذہب سمجھئے
*دین اور مذہب*
*اعتراض۔*
لامذہب غیرمقلدین اور جاہل محققین کا اعتراض یہ ہوتا ھے کہ تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کی تخریب کر دی۔ گروہ اور جاتھے بندیاں بنا دی ہیں۔ کوئی کہتا ھے میرا مذہب حنفی ھے کوئی کہتا ھے میرا مذہب مالکی ھے کوئی کہتا ھے میرا مذہب شافعی ھے کوئی حنبلی۔ مختلف خانہ ساز مذاہب کی آڑ لے کر مذہب اسلام کو تم نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہیں۔۔مزید یہ مذاہب بدعت ہیں۔یہاں تک کہ ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ مذہب بدعات اور رسومات کا نام ھے۔۔
1️⃣ *پہلا الزامی جواب۔* اگر یہ آپ کا اعتراض صحیح ھے تو پھر آپ نے اسلام و مسلمان نام کے مقابلے میں اپنے آپ کو مسلک محمدی۔۔۔ مسلک و مذہب اہلحدیث۔۔ مسلک غربا اہلحدیث۔۔جماعت المسلمین۔۔جماعت الدعوی۔۔یوتھ فورس اہلحدیث۔۔ سلفی۔۔ امرتسری اہلحدیث ۔۔ شریفیہ اہلحدیث۔۔۔گوندھلوی اہلحدیث۔۔بنارسی اہلحدیث۔۔۔ غزنوی اہلحدیث۔۔ثانیہ اہلحدیث۔۔۔نذیریہ اہلحدیث۔۔توحیدی اہلحدیث۔۔ روپڑی اہلحدیث ۔۔۔انجینئری منہج اہلحدیث۔۔ کیوں کہنا اور لکھنا شروع کیا۔۔ کیا آپ نے تحقیق کی آڑ میں اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کر دئیے ہیں۔۔اگر اسلام مکمل تھا پھر آپ کو کیا ضرورت پڑی اسلام کے ٹکڑے کر دیئے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔ مذاہب ائمہ اربعہ پر امت کا اجماع ھے اور ان کی ہی پیروی کا حکم اسلاف دیتے ہیں۔۔۔۔اس پر حوالے دینے کی ضرورت۔۔۔یہ آپ کو بھی معلوم ھے۔
2️⃣ *دوسرا تحقیقی جواب۔۔* یہ فریق ثانی کی کوتاہ فہمی ھے کہ وہ یہاں مذہب کو دین کے معنی میں لے کر احناف شافعی مالکی و حنبلی کو دین اسلام کے مقابلے میں لاتا ھے ۔۔مثلا" ہم کہتے ہیں کہ مذہب اسلام ۔مذہب ہنود۔۔ مذہب عیسائیت وغیرہ۔ تو شاید مذہب حنفی شافعی بھی ایسے ہی ہوں گے ۔ لیکن یہ ایک بدیہی البطلان اغلوطہ ھے۔۔
*حالانکہ جب لفظ مذہب غیرادیان کے مقابلے میں بولا جائے تو مراد دین اسلام ہی ھے۔جیسے مزہب اسلام ۔مزہب یہود۔ مزہب عیسایت۔مزہب ہنود وغیرہ۔* یہاں ان میں حق و باطل کا فرق ھے۔کہ اسلام حق پر اور باقی ادیان باطل پر ہیں۔
*اور دین اسلام کے اندر جب لفظ مذہب کہا جاتا ھے تو مذہب سے یہاں مراد رائے قیاس شرعی (اجتہاد) یا مسلک ھے*۔ہاں یہ الگ بحث ھے کہ اقرب الی سنہ کون سا مسلک ھے۔۔جن میں حق و باطل کا امتیاز نہیں ہوتا۔ بلکہ حق بمقابلہ خطا کا امکان ھے ۔کہ دونوں پر 2/1 اجر ھے۔(بخاری)
🌹 مذہب کا یہ مفہوم حضرات محدثین کرام رح اور فقہا عظام رح کے نزدیک مشہور و معروف ھے۔ ہر عالم کی سند حدیث کے متعلق بھی رائے ہو سکتی ھے۔ اور اس پر مذہب کا لفظ اطلاق ہو سکتا ھے۔ اور متن حدیث میں اس کے معنی اور مفہوم کے سمجھنے میں بھی رائے اور مسلک ہو سکتا ھے۔ اور اس پر بھی لفظ مذہب کا اطلاق حضرات محدثین کرام اور فقہا کے نذدیک بلا قیل و قال درست اور صحیح ھے۔۔ صرف اور صرف مثال و ثبوت کے لئے امام ترمذی کی جامع ترمذی اور محدث امام جعفر طحاوی کی شرح معانی الاثار المعروف طحاوی اٹھا کر دیکھیں ۔کہ جگہ جگہ صحابہ کرام اور فقہا مجتہدین کے متعلق لفظ مذہب استعمال کیا ھے۔کہ فلاں حدیث پر فلاں فلاں صحابہ کا مذہب ھے اور فلاں ائمہ کا مذہب ھے۔کیا انہوں نے دین اسلام کے مقابلے میں بدعات ایجاد کی تھی یا کوئی نیا دین بنایا تھا۔
🌹 *مختصر دیگر حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔۔*
1️⃣ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح فرماتے ہیں کہ:
"مذہب فاروق اعظم بمنزلہ متن است و *مذہب* اربعہ بمنزلہ مشروح"
ترجمہ۔کہ حضرت فاروق اعظم کا مذہب متن کی طرح ھے اور ائمہ اربعہ کے *مذاہب* شرح (ازالتہ الخفاء۔ج۲ص۸۲)
❓ہم فریق ثانی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حضرت عمر رضی نے کوئی اور مذہب یا دین ایجاد کیا تھا۔کیا حضرت عمر رض نے معاز اللہ بدعت ایجاد کی تھی۔۔جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب و دین سے الگ تھا۔اگر جواب نفی میں ھے اور یقینا" نفی میں ھے تو اس مذہب سے اس کے بغیر اور کیا مراد ہو سکتی ھے کہ انہوں نے قرآن و حدیث سے اپنی *فہم اور زکات* کے اعتبار سے جو سمجھا اور جو رائے قائم کی وہی *مذہب* ھے۔
2️⃣ حصرت امام نووی رح لکھتے ہیں کہ :
"جمہور اہل اسلام کے نذدیک مسلمان کافر سے وراثت نہیں لے سکتا ھے۔ لیکن بعض نے کہا ھے کہ مسلمان کافر سے وراثت لے سکتا ھے ۔آگے لکھتے ہیں کہ:
"وھو *مذہب* معاز رضی بن جبل و معاویہ رضی (شرح مسلم ج ۲ ص ۳۳)
ترجمہ۔کہ حضرت معاز بن جبل رضی اور حضرت معاویہ رضی کا یہی مذہب تھا۔۔
❓کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا مذہب، مذہب اسلام کے علاوہ کوئی اور تھا - جو انہوں نے خود ایجاد کیا تھا ۔کیا یہ بدعت تھی؟
معاذاللہ بلکہ یہاں بھی ان کی اپنی *تحقیق* کے مطابق یہ *راۓ* تھی-اور اور اس میں یہی ان کا *مذہب* تھا-
3️⃣ حضرت امام نووی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں - کہ امام مسلم رح کا *مذہب* صحیح حدیث سے متعلق یہ ہے کہ امکان لقا ہو -
: ان مسلماََ کان *مذہبہ* الخ (مقدمہ شرح مسلم ص ۱۳)
ترجمہ۔ کہ حضرت امام مسلم کا *مذہب* یہی تھا-
4️⃣ یہی بزرگ (یعنی امام نووی رح) مسند حدیث کےمتعلق، کلام نقل کر کے لکھتے ہیں کہ
: و *مذہب* النسائی (مقدمہ شرح مسلم ص ۱۵)
ترجمہ۔ کہ حضرت امام نسائی کا *مذہب* یہ ہے۔
5️⃣ حضرت امام مسلم رح زیادت ثقہ کی بحث میں لکھتے ہیں کہ-
:الذی یعرف من *مذہبہم* الخ (مقدمہ صحیح مسلم ص ۵)
ترجمہ۔ حضرات محدثین رح کے *مذہب* سے جو چیز معروف اور مشہور ہے وہ یہ ہے۔
6️⃣حضرت امام مسلم رح ہی لکھتے ہیں کہ ہم نے جو اصول نقل کئے ہیں سمجھدار کو
*مذہب القوم* (مقدمہ ص ٢٠)
قوم (حضرات محدثین کرام رح) کا *یہ مذہب* ہی راجح نظر آئیگا۔
اور آگے بعض حضرات محدثین کرام رح کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ-
:ومن *مذھب* فی العلم *ھذالمذہب*۔ الخ
(ایضاََ)
ترجمہ۔ جو اس *مذہب* کا قائل ہوا (تو اس کو علم سے کچھ واسطہ اور متعلق ہی نہیں۔
7️⃣ علامہ حازمی رح ترجیح حدیث کی وجوہ بیان کرتے ہوئے ایک وجہ میں لکھتے ہیں کہ
:وھذا *مذہب* اھل العراق والبصریین والشامیین (کتاب الاعتبار ص ١١)
ترجمہ۔اہل عراق اہل شام اور بصریوں *یہی مذہب* ہے -
8️⃣ امام تاج الدین سبکی رح اپنے والد محترم الشیخ الامام الفقیہ المحدث الحافظ المفسر المقرئ علی رح بن عبد الکافی رح (المتوفی ۷۵۶ھ) کے ترجمے میں لکھتے ہیں کہ-
:ذکر شیئ ممّا انتخبہٗ *مذھباََ* و ارتضاہُ راََیا لنفسہٖ و ذالک علی قسمین احدھما ما ھو معترف بانہ خارج عن مذہب الشافی اَھ (طبقات ص_١٨٢_ ٢٨)
ترجمہ۔ بعض ان چیزوں کا ذکر جن کو انہوں نے *مذھباََ* انتخاب کیا اور اپنے لئیے رائے کے لحاظ سے پسند کیا ہے - اور یہ دو قسموں میں منقسم ہے - ایک یہ ہے کہ وہ معترف ہیں کہ اسمیں وہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے *مذہب* سے خارج ہیں -
اس عبارت میں حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا *مذہب اور امام علی بن عبدالکافی کا مذہب آنکلا۔*
9️⃣ نواب صدیق حسن خان صاحب (المتوفی ١٣٠٧)ٰ تحریر کرتے ہیں کہ
:منزله *مذهب* احمد من مذهب الشافعي منزله *مذهب* ابي يوسف ومحمد من مذهب ابي حنيفه ( الجنہ ص٤٠)
ترجمہ۔ حضرت امام احمد کے *مذہب* کی نسبت امام شافعی کی طرف ایسی ہی ہے جیسا کہ حضرت امام ابو یوسف اور حضرت امام محمد کے *مذہب* کی نسبت حضرت امام ابوحنیفہ کے مذہب کی طرف ہے ۔
یعنی انہیں کے اصول و ضوابط انہوں نے سامنے رکھ کر مسائل کی تخریج کی ہے اور انہی پر مسائل کی بنیاد قائم کی ہے ۔
❓کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ حضرت امام شافعی اور امام احمد کا اسی طرح حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرات صاحب کا *مذہب اسلام* کے علاوہ کوئی الگ اور جدا تھا۔ جس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام سے نہ تھا،اور اس کو انہوں نے خود ایجاد و اختراع کیا تھا۔
🌹حضرات! کہاں تک اس داستان کو طول دیا جائے ! حاصل یہ ہے کہ *لفظ مذہب* ان تمام مواقع میں رائے۔قیاس شرعی (اجتہاد) پر اطلاق کیا گیا ہے۔
یہ مقصد نہیں کہ ان حضرات صحابہ کرام اور جمہور امت کا اثباب سند و متن میں کوئی الگ ہی مذہب تھا جس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تھا،بلکہ ان کے پاس علم صحیح کا طریقہ وہی تھا جو آپ صلی وسلم سے مروی ہے،البتہ اس کی تحقیق میں اپنی اپنی سمجھ کا دخل ضرور تھا۔
*لفظ مذہب* کا رائے قیاس شرعی(اجتہاد) پر اطلاع فریق ثانی کو بھی مسلم ہے ۔مثلا ایک صاحب مذہب اہل مذہب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : جب تک ہم اس مذہب کی اصل حقیقت۔۔۔الخ (داد حق ص٤)
اور مولانا ثناء اللہ صاحب نے ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام ہے : (اہل حدیث کا مذہب ۔)
حضرات! کیا اہل حدیث کا مذہب ان کے خیال کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مذہب کے علاوه اور مذہب ہے ؟اگر ہے تو وہ جانیں اور ان کا کام ؛ہم تو ان کے بارے میں حسن ظن نہیں رکھ سکتے ہیں ہیں ، غرضیکہ مذہب حنفی وغیرہ کے جملہ سے احناف وغیرھم پر اعتراض اور اس کا شکوہ باطل اور بےجا ہے۔
_________________________________
https://t.me/ahnaf_media_services
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
*اعتراض۔*
لامذہب غیرمقلدین اور جاہل محققین کا اعتراض یہ ہوتا ھے کہ تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کی تخریب کر دی۔ گروہ اور جاتھے بندیاں بنا دی ہیں۔ کوئی کہتا ھے میرا مذہب حنفی ھے کوئی کہتا ھے میرا مذہب مالکی ھے کوئی کہتا ھے میرا مذہب شافعی ھے کوئی حنبلی۔ مختلف خانہ ساز مذاہب کی آڑ لے کر مذہب اسلام کو تم نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہیں۔۔مزید یہ مذاہب بدعت ہیں۔یہاں تک کہ ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ مذہب بدعات اور رسومات کا نام ھے۔۔
1️⃣ *پہلا الزامی جواب۔* اگر یہ آپ کا اعتراض صحیح ھے تو پھر آپ نے اسلام و مسلمان نام کے مقابلے میں اپنے آپ کو مسلک محمدی۔۔۔ مسلک و مذہب اہلحدیث۔۔ مسلک غربا اہلحدیث۔۔جماعت المسلمین۔۔جماعت الدعوی۔۔یوتھ فورس اہلحدیث۔۔ سلفی۔۔ امرتسری اہلحدیث ۔۔ شریفیہ اہلحدیث۔۔۔گوندھلوی اہلحدیث۔۔بنارسی اہلحدیث۔۔۔ غزنوی اہلحدیث۔۔ثانیہ اہلحدیث۔۔۔نذیریہ اہلحدیث۔۔توحیدی اہلحدیث۔۔ روپڑی اہلحدیث ۔۔۔انجینئری منہج اہلحدیث۔۔ کیوں کہنا اور لکھنا شروع کیا۔۔ کیا آپ نے تحقیق کی آڑ میں اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کر دئیے ہیں۔۔اگر اسلام مکمل تھا پھر آپ کو کیا ضرورت پڑی اسلام کے ٹکڑے کر دیئے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔ مذاہب ائمہ اربعہ پر امت کا اجماع ھے اور ان کی ہی پیروی کا حکم اسلاف دیتے ہیں۔۔۔۔اس پر حوالے دینے کی ضرورت۔۔۔یہ آپ کو بھی معلوم ھے۔
2️⃣ *دوسرا تحقیقی جواب۔۔* یہ فریق ثانی کی کوتاہ فہمی ھے کہ وہ یہاں مذہب کو دین کے معنی میں لے کر احناف شافعی مالکی و حنبلی کو دین اسلام کے مقابلے میں لاتا ھے ۔۔مثلا" ہم کہتے ہیں کہ مذہب اسلام ۔مذہب ہنود۔۔ مذہب عیسائیت وغیرہ۔ تو شاید مذہب حنفی شافعی بھی ایسے ہی ہوں گے ۔ لیکن یہ ایک بدیہی البطلان اغلوطہ ھے۔۔
*حالانکہ جب لفظ مذہب غیرادیان کے مقابلے میں بولا جائے تو مراد دین اسلام ہی ھے۔جیسے مزہب اسلام ۔مزہب یہود۔ مزہب عیسایت۔مزہب ہنود وغیرہ۔* یہاں ان میں حق و باطل کا فرق ھے۔کہ اسلام حق پر اور باقی ادیان باطل پر ہیں۔
*اور دین اسلام کے اندر جب لفظ مذہب کہا جاتا ھے تو مذہب سے یہاں مراد رائے قیاس شرعی (اجتہاد) یا مسلک ھے*۔ہاں یہ الگ بحث ھے کہ اقرب الی سنہ کون سا مسلک ھے۔۔جن میں حق و باطل کا امتیاز نہیں ہوتا۔ بلکہ حق بمقابلہ خطا کا امکان ھے ۔کہ دونوں پر 2/1 اجر ھے۔(بخاری)
🌹 مذہب کا یہ مفہوم حضرات محدثین کرام رح اور فقہا عظام رح کے نزدیک مشہور و معروف ھے۔ ہر عالم کی سند حدیث کے متعلق بھی رائے ہو سکتی ھے۔ اور اس پر مذہب کا لفظ اطلاق ہو سکتا ھے۔ اور متن حدیث میں اس کے معنی اور مفہوم کے سمجھنے میں بھی رائے اور مسلک ہو سکتا ھے۔ اور اس پر بھی لفظ مذہب کا اطلاق حضرات محدثین کرام اور فقہا کے نذدیک بلا قیل و قال درست اور صحیح ھے۔۔ صرف اور صرف مثال و ثبوت کے لئے امام ترمذی کی جامع ترمذی اور محدث امام جعفر طحاوی کی شرح معانی الاثار المعروف طحاوی اٹھا کر دیکھیں ۔کہ جگہ جگہ صحابہ کرام اور فقہا مجتہدین کے متعلق لفظ مذہب استعمال کیا ھے۔کہ فلاں حدیث پر فلاں فلاں صحابہ کا مذہب ھے اور فلاں ائمہ کا مذہب ھے۔کیا انہوں نے دین اسلام کے مقابلے میں بدعات ایجاد کی تھی یا کوئی نیا دین بنایا تھا۔
🌹 *مختصر دیگر حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔۔*
1️⃣ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح فرماتے ہیں کہ:
"مذہب فاروق اعظم بمنزلہ متن است و *مذہب* اربعہ بمنزلہ مشروح"
ترجمہ۔کہ حضرت فاروق اعظم کا مذہب متن کی طرح ھے اور ائمہ اربعہ کے *مذاہب* شرح (ازالتہ الخفاء۔ج۲ص۸۲)
❓ہم فریق ثانی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حضرت عمر رضی نے کوئی اور مذہب یا دین ایجاد کیا تھا۔کیا حضرت عمر رض نے معاز اللہ بدعت ایجاد کی تھی۔۔جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب و دین سے الگ تھا۔اگر جواب نفی میں ھے اور یقینا" نفی میں ھے تو اس مذہب سے اس کے بغیر اور کیا مراد ہو سکتی ھے کہ انہوں نے قرآن و حدیث سے اپنی *فہم اور زکات* کے اعتبار سے جو سمجھا اور جو رائے قائم کی وہی *مذہب* ھے۔
2️⃣ حصرت امام نووی رح لکھتے ہیں کہ :
"جمہور اہل اسلام کے نذدیک مسلمان کافر سے وراثت نہیں لے سکتا ھے۔ لیکن بعض نے کہا ھے کہ مسلمان کافر سے وراثت لے سکتا ھے ۔آگے لکھتے ہیں کہ:
"وھو *مذہب* معاز رضی بن جبل و معاویہ رضی (شرح مسلم ج ۲ ص ۳۳)
ترجمہ۔کہ حضرت معاز بن جبل رضی اور حضرت معاویہ رضی کا یہی مذہب تھا۔۔
❓کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا مذہب، مذہب اسلام کے علاوہ کوئی اور تھا - جو انہوں نے خود ایجاد کیا تھا ۔کیا یہ بدعت تھی؟
معاذاللہ بلکہ یہاں بھی ان کی اپنی *تحقیق* کے مطابق یہ *راۓ* تھی-اور اور اس میں یہی ان کا *مذہب* تھا-
3️⃣ حضرت امام نووی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں - کہ امام مسلم رح کا *مذہب* صحیح حدیث سے متعلق یہ ہے کہ امکان لقا ہو -
: ان مسلماََ کان *مذہبہ* الخ (مقدمہ شرح مسلم ص ۱۳)
ترجمہ۔ کہ حضرت امام مسلم کا *مذہب* یہی تھا-
4️⃣ یہی بزرگ (یعنی امام نووی رح) مسند حدیث کےمتعلق، کلام نقل کر کے لکھتے ہیں کہ
: و *مذہب* النسائی (مقدمہ شرح مسلم ص ۱۵)
ترجمہ۔ کہ حضرت امام نسائی کا *مذہب* یہ ہے۔
5️⃣ حضرت امام مسلم رح زیادت ثقہ کی بحث میں لکھتے ہیں کہ-
:الذی یعرف من *مذہبہم* الخ (مقدمہ صحیح مسلم ص ۵)
ترجمہ۔ حضرات محدثین رح کے *مذہب* سے جو چیز معروف اور مشہور ہے وہ یہ ہے۔
6️⃣حضرت امام مسلم رح ہی لکھتے ہیں کہ ہم نے جو اصول نقل کئے ہیں سمجھدار کو
*مذہب القوم* (مقدمہ ص ٢٠)
قوم (حضرات محدثین کرام رح) کا *یہ مذہب* ہی راجح نظر آئیگا۔
اور آگے بعض حضرات محدثین کرام رح کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ-
:ومن *مذھب* فی العلم *ھذالمذہب*۔ الخ
(ایضاََ)
ترجمہ۔ جو اس *مذہب* کا قائل ہوا (تو اس کو علم سے کچھ واسطہ اور متعلق ہی نہیں۔
7️⃣ علامہ حازمی رح ترجیح حدیث کی وجوہ بیان کرتے ہوئے ایک وجہ میں لکھتے ہیں کہ
:وھذا *مذہب* اھل العراق والبصریین والشامیین (کتاب الاعتبار ص ١١)
ترجمہ۔اہل عراق اہل شام اور بصریوں *یہی مذہب* ہے -
8️⃣ امام تاج الدین سبکی رح اپنے والد محترم الشیخ الامام الفقیہ المحدث الحافظ المفسر المقرئ علی رح بن عبد الکافی رح (المتوفی ۷۵۶ھ) کے ترجمے میں لکھتے ہیں کہ-
:ذکر شیئ ممّا انتخبہٗ *مذھباََ* و ارتضاہُ راََیا لنفسہٖ و ذالک علی قسمین احدھما ما ھو معترف بانہ خارج عن مذہب الشافی اَھ (طبقات ص_١٨٢_ ٢٨)
ترجمہ۔ بعض ان چیزوں کا ذکر جن کو انہوں نے *مذھباََ* انتخاب کیا اور اپنے لئیے رائے کے لحاظ سے پسند کیا ہے - اور یہ دو قسموں میں منقسم ہے - ایک یہ ہے کہ وہ معترف ہیں کہ اسمیں وہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے *مذہب* سے خارج ہیں -
اس عبارت میں حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا *مذہب اور امام علی بن عبدالکافی کا مذہب آنکلا۔*
9️⃣ نواب صدیق حسن خان صاحب (المتوفی ١٣٠٧)ٰ تحریر کرتے ہیں کہ
:منزله *مذهب* احمد من مذهب الشافعي منزله *مذهب* ابي يوسف ومحمد من مذهب ابي حنيفه ( الجنہ ص٤٠)
ترجمہ۔ حضرت امام احمد کے *مذہب* کی نسبت امام شافعی کی طرف ایسی ہی ہے جیسا کہ حضرت امام ابو یوسف اور حضرت امام محمد کے *مذہب* کی نسبت حضرت امام ابوحنیفہ کے مذہب کی طرف ہے ۔
یعنی انہیں کے اصول و ضوابط انہوں نے سامنے رکھ کر مسائل کی تخریج کی ہے اور انہی پر مسائل کی بنیاد قائم کی ہے ۔
❓کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ حضرت امام شافعی اور امام احمد کا اسی طرح حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرات صاحب کا *مذہب اسلام* کے علاوہ کوئی الگ اور جدا تھا۔ جس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام سے نہ تھا،اور اس کو انہوں نے خود ایجاد و اختراع کیا تھا۔
🌹حضرات! کہاں تک اس داستان کو طول دیا جائے ! حاصل یہ ہے کہ *لفظ مذہب* ان تمام مواقع میں رائے۔قیاس شرعی (اجتہاد) پر اطلاق کیا گیا ہے۔
یہ مقصد نہیں کہ ان حضرات صحابہ کرام اور جمہور امت کا اثباب سند و متن میں کوئی الگ ہی مذہب تھا جس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تھا،بلکہ ان کے پاس علم صحیح کا طریقہ وہی تھا جو آپ صلی وسلم سے مروی ہے،البتہ اس کی تحقیق میں اپنی اپنی سمجھ کا دخل ضرور تھا۔
*لفظ مذہب* کا رائے قیاس شرعی(اجتہاد) پر اطلاع فریق ثانی کو بھی مسلم ہے ۔مثلا ایک صاحب مذہب اہل مذہب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : جب تک ہم اس مذہب کی اصل حقیقت۔۔۔الخ (داد حق ص٤)
اور مولانا ثناء اللہ صاحب نے ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام ہے : (اہل حدیث کا مذہب ۔)
حضرات! کیا اہل حدیث کا مذہب ان کے خیال کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مذہب کے علاوه اور مذہب ہے ؟اگر ہے تو وہ جانیں اور ان کا کام ؛ہم تو ان کے بارے میں حسن ظن نہیں رکھ سکتے ہیں ہیں ، غرضیکہ مذہب حنفی وغیرہ کے جملہ سے احناف وغیرھم پر اعتراض اور اس کا شکوہ باطل اور بےجا ہے۔
_________________________________
https://t.me/ahnaf_media_services
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
Comments
Post a Comment