کرونا کی حقیقی سچائی پہلی بار۔۔۔
کرونا وائرس کی تباہی اور حقیقی سچائی آپ کے روبرو پہلی بار اس انداز میں
*✍️ شیخ محمد علقمہ مالیگاؤں*
بہت سوں کے مختلف سوالات اور ناسمجھی کی بناپر یہ پس دیوار کی باتیں سر دیوار لکھنے پر مجبور ہوا ہوں ورنہ اتنی جرات کوئی نہ کرے کہ چھپے رازوں کو سر محفل بیان کرے لوگ تو مار خوف کے اپنے گروپ بھی بند کرکے رکھ رہے ہیں خود سوچیں کہ ایک بیماری کے باب میں سوشل میڈیا پر اتنی سختی و پابندی کیوں؟
عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
فرش کے سارے خداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں
مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام کی تبلیغ و ترویج کے لئے اب بہت زیادہ شعور، پختہ فہمی، دور اندیشی، منظم و مستحکم پالیسی اور دشمنان اسلام کی چال ڈھال پر مکمل نظر کی ضرورت ہے اب یہ سادہ 70 کی دھائی کا زمانہ نہیں رہا۔
اس طرح کے جرات مندانہ اقدام کی بنا پر بندہ کی آئیڈی کئی مرتبہ بند کردی گئی ہے اور حال ہی میں ہمارے ایک ساتھی جو اس کی پوری تحقیق و جستجو میں لگے تھے انکی آئیڈی ناروے سے ہیک کرکے بلاک کردی گئی اس سے آپ موضوع کی حساسیت کا اندازہ خود ہی لگاسکتے ہیں۔
چلے موضوع پر آتے ہیں بس چند پوائنٹس پیش کرونگا ان حقائق پر تو تفصیلی کتب لکھی جاسکتی ہے لیکن مختصراً درخواست ہے کہ اس عنوان پر بندہ کا یہ تیسرا مضمون ہے تو آپ پہلے دو پر بھی نظر ڈال لیں جنکی بناپر تیسرا لکھنا پڑ رہا ہے
*پہلا مضمون : کرونا وائرس ایک کھیل ایک تماشہ حقیقت ۔۔۔۔۔۔۔*
https://t.me/mazmoon_shaikh_alqama/56
*دوسرا مضمون: کیا کرونا اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا؟*
https://t.me/mazmoon_shaikh_alqama/72
امریکہ کے کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ سے کرونا کی صفائی کو دو سال اٹلی سے تین سال اور بل گیٹس کے مطابق دنیا سے دس سال لگینگے جبکہ کرونا جہاں سے شروع ہوا اور جہاں سب سے زیادہ تباہی مچائی اس ملک نے چند ہی دنوں کے بعد 24 مارچ کو اپنے ملک سے پوری طرح کرونا کے خاتمہ کا اعلان کردیا جبکہ دنیا میں لوک ڈاؤن کا آغاز ہورہا تھا نکتہ فکر یہ ہے کہ ابھی کرونا کی مہاماری عروج پر ہی تھی۔
ہر پوائنٹ پر ایک لمحہ رک رک کر سوچئے
آپ اگر وائرس کے فارمولے کے مالک ہیں تو آپ کے پاس پہلے سے سب کچھ موجود ہوتاہے وائرس بھی اور اسکی ویکسین بھی اگر نہیں سمجھے تو سمجھئے کہ جیسے ہی وبا شروع ہوتی ہے ایک ہی ہفتہ کی ناقابل یقین مدت میں بارہ ہزار بستروں پر مشتمل آپریشنل ہسپتال سامنے آجاتاہے جیسے تمام مطلوبہ سامان پہلے سے ایک جگہ موجود ہو اور قلیل ترین مدت میں تمام حفاظتی تدبیر کرکے دنیا کو حیران و سرگرداں کردیا جاتا ہے کہ معاملہ بہت سنگین اور خطرناک ہے
چائنا نے خود ووہان شہر کو ایپک سینٹر کہا تھا اور اسے پوری طرح سے قرنطینہ کردیا تھا اب چند ہی دنوں کے بعد ووہان میں کیسے اسکول و کالجز کھل گئے اور کاروبار شروع ہوگیا؟ اور اتنی جلدی کیسے ووہان فری زون ہوگیا تھا اور دنیا بھر میں ڈھائی سے تین مہینہ لوک ڈاؤن؟
اور حیران کن بات تو یہ ہے کہ ووہان شہر میں کرونا کی تباہی مچی تھی اور وبا اپنے عروج پر تھی اور چائنا کے صدر شئے جنپنگ صرف M9 Mask پہن کر ووہان کا دورہ کرنے پہنچ گئے ؟ پہلے تو دورہ کی ضرورت ہی نہیں تھی مگر پھر بھی ووہان جیسے ایپک سینٹر ریڈ زون کے علاقہ کا بغیر حفاظتی سوٹ کے دورہ کرنا وہ بھی ایک صدر کا دورہ کرنا حیران کن بات ہے
1993 میں نشر ہونے والے Simpson نامی کارٹون میں اور
2011 میں ہالی ووڈ کی فلم Contagion میں کرونا کا خاکہ اور ذکر موجود ہے یہاں تکہ وبا کے بعد امریکہ میں پرتشدد احتجاج کا سین بھی موجود ہے کہ لوک جارج نامی شخصی کا بینر اٹھائے احتجاج پر اترینگے اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔
لیکن چلیں ایک بات پر غور کریں کہ یہ وائرس پہلے تھا ہی نہیں تو پھر اس کا نام کرونا وائرس کیسے پڑگیا؟
اور یہ وائرس چین سے شروع ہوا تو چینی لوگ اس کا کچھ نام دیتے۔ چین دنیا کا واحد ملک ہے جہاں برطانیہ و امریکہ کی بہت سی مصنوعات اور برانڈ پر پوری طرح بینڈ لگا ہوا ہے اور وہ انکا بائیکاٹ بھی کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم خود کفیل ہے ہم اپنے ملک کے پراڈیکٹ چلائینگے اور بعض چیزیں جو انگلستان سے وہاں جاتی بھی ہے تو وہ انکا نام تبدیل کرکے چائنیز نام رکھدیتے ہیں اور چین کی اکثریت کو یہاں تک کہ چین جیسے ترقی یافتہ ملک کے صدر کو بھی انگریزی نہیں آتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ایجوکیشن سسٹم میں انگریزی زبان کو بطور سبجیکٹ رکھنا بھی ضروری نہیں سمجھتے ہیں تو پھر کرونا وائرس یہ نام کیسے پڑگیا؟
ماہرین کے مطابق اس وائرس کا نام اس کی ساخت کو دیکھ کر رکھا گیا ہے کہ یہ تاج نما ہے اور انگریزی میں تاج کو Crown کہتے ہیں سو اس سے اس کا نام کرونا وائرس رکھا گیا ہے اب جن لوگوں کو انگریزی سے نفرت ہے جو لوگ انگریزی سمجھتے ہی نہیں ہے وہ لوگ اس ڈینجرس وبا کو تاج نما like a Crown سے کرونا وائرس انگلش میں کیوں پکارتے؟ اگر وہ نام لیتے تو چینی زبان میں لیتے
6 مئی روزنامہ نئی بات کے کالم نگار نے تفصیلی انکشاف کیا کہ بیل گیٹس
نے کرونا کمیشن بنایا ہے جس میں چودہ خاندان بھی ڈونر ہیں وہ ہر اس ڈاکٹر کو چوالیس سو ڈالر دیتے ہیں جو کرونا وائرس کی تشخیص کرتا ہے اور وائرس سے حالت خراب کرکے وینٹی لیٹر پر ڈالنے والے ڈاکٹر کو 14 ہزار ڈالر دئیے جاتے ہیں اور کرونا سے موت جو ڈاکٹر لکھے اس کو 16 ہزار ڈالر دئیے جارہے ہیں اخبار کا حوالہ موجود ہے اور اسکی ویب سائٹ پر بھی وزٹ کرسکتے ہیں اور بل گیٹس کا انٹرویو تو عام ہے اور اسی طرح ڈاکٹر سنجے گپتا کو انٹرویو دیتے ہوئے اور بھی دوسرے مقامات پر بیل گیٹس نے جو باتیں کہی ہے وہ وڈیوز بھی بعضوں کے پاس محفوظ ہے کہ اگر ہم ویکسین پر مزید کام کرے تو اس سے دنیا کی آبادی دس سے پندرہ فیصد گھٹا سکتے ہیں
اسی طرح ہندوستان کے نامور ڈاکٹر بسو روپ راؤ چودھری نے شروع ہی میں اس کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا اور یہ بھی کہ حکومت کہتی ہے کہ ہمیں اوپر سے دباؤ ہیکہ اسے نہ روکا جائے
اسی طرح ڈاکٹر افضال نے اپنے وڈیو کے ذریعہ سائنسی ٹیکنیکی و پریکٹیکلی طور پر ٹیسٹنگ کی حقیقت کھول کر رکھ دی کہ کس طرح اس وائرس کو ہوا دی جارہی ہے مزید حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ افریقی ملک تنزانیہ کے صدر نے کرونا کی ٹیسٹنگ تیکنیک اور ٹیسٹنگ کٹس کو بےنقاب کردیا تھا اور پھر اپنے وڈیو بیان کے ذریعہ ادارہ عالمی صحت کے تمام احکامات و قوانین کو بھی رد کردیا تھا اور امریکہ کے کئی ڈاکٹروں نے بھی سارے کھیل کو بیان کردیا اور بہت سوں نے سوال بھی اٹھایا ہے کہ ٹیسٹنگ کٹس کو شاید ڈیزائن ہی ایسا کیا گیا ہے کہ ایک مخصوص تعداد میں کرونا پازیٹیو آئے
ایک ڈاکٹر نے ذاتی طور پر بہت سی اندرونی باتیں بتائی کہ کرونا میں اتنا پاور نہیں کہ وہ کسی کو موت کے گھاٹ اتارسکے انکا کہنا تھا کہ ایسے بوڑھے جنکے پھیپڑے پوری طرح خراب ہوچکے ہو انکو بھی وینٹیلیٹر پر رکھ کر زندہ رکھا جاسکتا ہے دیکھیں ہم یہ سائنسی اور سببی اعتبار سے بات کررہے ہیں ورنہ تقدیر پر ہمارا ایمان ہے۔ اور اسی طرح اسی کو ڈاکٹر افضال نے تفصیل سے پریکٹیکلی تھیوری کے ذریعہ سمجھایا ہے کہ کرونا جیسے ہی انسان کے اندر جاتا ہے تو وہ دم توڑ دیتاہے لیکن ٹیسٹنگ کا سارا کھیل ہے
اور چند بوڑھے جنکی پینشن حکومت کو دینا پڑتی ہے تو اگر وہ مر بھی جائے تو ان شیطان صفت لوگوں کا نقصان کجا فائدہ ہی ہونا ہے انہوں نے اس پورے ڈرامے سے آم کے آم گٹھلیوں کے دام کے موافق اپنے مختلف مقاصد میں کامیابیاں سمیٹ لی ہے
آج آپ خود دیکھیں کہ پوری دنیا چائنا سے منتیں کررہی ہے کہ اس وبا سے جان چھڑانے کے لیے انکی مدد کرے اور طبی سامان فراہم کرے اربوں کھربوں ڈالر کے طبی سامان کی پہلے سے ہی اڈوانس بکنگ کرائی جاچکی ہے اور یہ تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے پوری دنیا لائن میں لگ کر چائنا سے طبی سامان خرید رہی ہے اور چائنا دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ رہا ہے یہ ایک اسٹائل ہے کہ پہلے مسئلہ کھڑا کرو اور پھر مارکیٹ میں اس کا حل بیچو پھر بھی ہمارا ایمان ہے ان اللہ علی کل شئی قدیر
امید کرتے ہیں کہ آپ کو نیو ورلڈ آرڈر اور ڈیل آف دی سنچری اسکے سارے ایجنڈے دھیرے دھیرے سمجھ میں آئینگے مگر افسوس کہ پہلے ہی دیر ہوچکی ہے مزید دیر نہ ہوجائے اس لئے میدان عمل میں اترنے کے لئے ریسرچ اور تحقیق و جستجو کا ذوق پیدا کرو اپنے زمانہ کی آب و ہوا کو سمجھو اپنا مشن تیار کرنے سے پہلے اپنے دشمن کو دیکھو کہ وہ کیا کررہا ہے انگریزی زبان کی کہاوت ہے Know your enemy کہ پہلے اپنے دشمن کو جانو اور پھر اسے شکست دینے کے لیے منصوبہ بندی کرو
یہ بندہ کی طرف سے ایک کوشش ہے جگانے کی کہ نیو ورلڈ آرڈر کے اس گرینڈ اسٹیج پر آپ کہاں کھڑے ہیں اور کیا کررہے ہیں ذرا سوچئے اور غور کیجیے کہ کہیں آپ ناسمجھی لاشعوری اور بھولے پن کی وجہ سے اپنے دشمن ہی کا تو راستہ ہموار نہیں کررہے ہیں؟؟؟

Comments
Post a Comment