کیا کرونا اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا
*✍️ شیخ محمد علقمہ مالیگاؤں*
http://wa.me/+971563872328
دنیا بھرکے انصاف پسند ماہرین اور محققین نے ثابت کردیا کہ کرونا عالمی وبا نہیں بلکہ عالمی سازش ہے ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ کرونا یہ ایک کھیل ہے اور شطرنج کا ایک بڑا مہرہ ہے جس کے ذریعہ عالمی برادری سیاسی و شیطانی اور دجالی دماغ استعمال کرکے اپنے اور اپنے اتحادیوں کے بہت سے مفادات بٹورنا چاہتی ہے
آپ خود غریں کہ حقیقی طور پر اس وائرس کے لئے کن ملکوں کو پلیٹ فارم بنایا گیا کیا یہ اتفاق ہے یا اس میں بھی سوچی سمجھی چال ہے اگر آپ دنیا کے نظام اور لابی پر نظر رکھتے ہیں تو آپ بہت کچھ سمجھ جائینگے اور ہاں جب یہ وائرس دنیا کے بہت سے ملکوں میں اپنا نیٹ ورک مظبوط کرچکا ہے تو پھر اب لوگ ڈاؤن کی تو زیادہ ضرورت ہے مگر دنیا بھر میں لوگ ڈاؤن کا خاتمہ کیوں جب پورے ملک میں گنتی کے چند مریض تو میڈیائی واویلا اور لوگ ڈاؤن اور سماجی دوری پر اتنا زور و شور کیوں اور جب وائرس پوری طرح پھیل چکا لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہیں تو پھر لوک ڈاؤن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لابی اپنے دجالی میکانزم میں کامیاب ہوئی یا نہیں؟
اس کا جواب آپ اور ہم طئے کرینگے اپنی کوششوں کے ذریعہ اپنی کاوشوں کے ذریعہ اپنے مقاصد اسلام کی تبلیغ و ترویج میں پختگی کے ذریعہ اگر ہم پہلے سے زیادہ منظم ہوجاتے ہیں اور پہلے سے زیادہ باشعور ذمہ دار ہوجاتے ہیں تو کوئی بھی لابی کامیاب نہیں ہوسکے گی اس لئے کہ سچائی کے سامنے باطل کی ڈھٹائی نہیں ٹھہر سکتی ہے
الغرض مغرب میں لوک ڈاؤن سے پہلے بھی سخت احتجاج جاری تھا اور اب لوگ ڈاؤن کے اختتام پر بھی احتجاج شروع ہوچکا ہے ان ساری صورتحال سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں بہت سوں نے ان سوالات کو مفروضے قرار دیکر جواب دینے کی کوشش کی مگر انکے جوابات اطمینان بخش نہیں ہے بلکہ جواب نہیں دلالی لگتی ہے
غرض جنکے بھی جو بھی مقاصد ہو ضروری یہ ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ کیا ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے کیا ہمارا کوئی خواب اور ایم نہیں ہے
یاد رکھیں! زندگی تو ایک بار پھر معمول پر آجائیگی مگر سوچنا یہ ہیکہ کیا پھر ہم اسی کاہلی لاپرواہی غفلت اور فضول بے مقصد زندگی کی طرف لپک جائینگے یا پھر اپنے کاروبار اور اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بامقصد زندگی گزاریں گے
اپنے عزائم میں اور اپنے کرادر میں تبدیلی لائینگے اور اپنی زندگی میں کچھ ایسا کرنا چاہیں گے کہ تاریخ آپ پر فخر کریں اور آپ کے کارنامے آنے والی نسلوں کو سنائے جائے
اگر آپ ایسا کچھ عزم رکھتے ہیں اگر آپ ایسا کوئی خواب دیکھتے ہیں اگر آپ کے ذہن و دماغ میں لوک ڈاؤن کے بعد فقط بیٹھنے اور بٹھانے کی بجائے کمانے اور دھمانے کے ساتھ سچائی و اچھائی کے غلبہ کے لئے کچھ کرنے کی امنگیں امنڈ رہی ہو تو ہم سے ضرور اظہار خیال کریں ہمیں اپنے اس خواب میں ضرور شریک کریں اور ہم سے رابطہ کریں تاکہ ہم ساتھ ملکر آپ کی امنڈتی امنگوں کو زمینی حقیقت میں تبدیل کرنے کی کوشش لاثانی کرسکیں بہت ممکن ہے کہ تقدیر ہماری ان چھوٹی کوششوں کے ذریعہ انقلاب عظیم کا دروازہ کھول دے
شاید کرونا کی وبا ہمیں یہی سکھانا چاہتی ہو کہ دنیا کا خاتمہ آج نہیں تو کل کسی نہ کسی طرح تو ہونا ہی ہے مگر کامیاب تو وہ ہونگے جو اپنی زندگی کو عظیم مقاصد کے نام کر جائینگے

Comments
Post a Comment