عید کی نماز میں چھ زائد تکبیر دلائل کی روشنی میں

عید کی نماز میں چھ زائد تکبیریں احادیث کی روشنی میں

💠 قارئین کرام ! ہم پورے وثوق و اعتماد کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ نماز عید میں چھ زائد تکبیریں سنت رسول ہیں ، سنت صحابہ اور سنت تابعین ہیں۔

🏵 ثبوت کے طور چند احادیث وآثار ملاحظہ فرمائیں لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ نماز عید میں بحالت قیام تین تکبیریں اصلی ہیں یعنی تکبیرتحریمہ اور رکوع کی دو تکبیریں ،ان کو تکبیرات صلاتیہ بھی کہا جاتا ہے اور چھ زائد تکبیریں ہیں۔ بعض احادیث میں مجموعی تعداد نو کا ذکر ہے ،بعض میں پہلی رکعت میں پانچ کا اور دوسری رکعت میں چار کا ذکر ہے ،بعض میں چار چار تکبیروں کا ذکر ہے یعنی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ سمیت قراءۃ کے پہلے چار تکبیریں ہیں اور رکوع والی تکبیر ان سے الگ قراۃ کے بعد ہے اور دوسری رکعت میں قراۃ کے بعد تکبیر رکوع سمیت چار تکبیریں ہیں۔حاصل سب کا ایک ہے کہ نماز عید میں بحالت قیام مجموعی طور پر نو تکبیریں ہیں ،تین تکبیرات صلاتیہ (یعنی تکبیر تحریمہ اور رکوع کی دو تکبیریں) اور چھ زائد تکبیریں۔

*حدیث نمبر 1:*

🔸 *ان القاسم اباعبد الرحمن حدثہ قال حدثنی بعض اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال صلی بنا النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم عید فکبر اربعا واربعا ثم اقبل علینابوجھہ حین انصرف فقال لا تنسوا کتکبیر الجنائز واشارباصابعہ وقبض ابہامہ۔*
(طحاوی ج3ص371)

🌹 ابو عبد الرحمن قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھائی۔ پس آپ نے چار چار تکبیریں کہیں پھر نماز سے فار غ ہو کر رخ انور ہماری طرف کر کے فرمایا بھول ناجانا عید کی تکبیریں جنازہ کی تکبیروں کی طرح چار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند کر کے چار انگلیوں کے ساتھ اشارہ بھی فرمایا۔

🌟 یہ حدیث لکھ کر علامہ شمس الدین سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

🔸 *”ففیه قول وعمل اشارة واستدلال وتاکید “*

🌸 یعنی اس حدیث میں آپ کا قول، عمل، اشارہ ،تاکید اور استدلال ہے یعنی جیسے جنازہ میں تکبیر تحریمہ کے بعد تین تکبیریں ہیں اسی طرح عیدین میں تکبیرات صلاتیہ کے علاوہ ہر رکعت میں زائد تکبیریں تین ہیں۔

📌 *حدیث نمبر 2:*

🔸 *`عن مکحول قال اخبرنی ابو عائشۃ جلیس لابی ھریرۃ ان سعید بن العاص سال ابا موسٰی الاشعری وحذیفۃبن الیمان کیف کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکبر فی الاضحی والفطر فقال ابو موسٰی کان یکبر اربعا تکبیرۃ علی الجنائز فقال حذیفۃصدق فقال ابو موسی کذلک کنت اکبر فی البصرۃ حیث کنت علیھم قال ابو عائشۃ وانا حاضر سعید بن العاص۔*
(ابو دائود ج1ص163مصنف ابن ابی شیبہ ج3ص78)

🌼 حضرت ابو ہریرہ کے ہم نشین ابو عائشہ فرماتے ہیں کہ سعید بن العاص )گورنر کوفہ ( نےحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں تکبیریں کیسے کہتے تھے ؟ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدین میں اس طرح تکبیریں کہتے تھے جیسے نماز جنازہ میں تکبیریں کہی جاتی ہیں (یعنی ہر رکعت میں چارچار ) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس نے سچ کہا پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب میں بصرہ میں حاکم تھا تو اسی طرح تکبیریں کہتا تھا اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ابو عائشہ فرماتے ہیں میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں بھولا کہ چار تکبیریں ہیں تکبیرات جنازہ کی طرح۔

*حدیث نمبر 3:*

🔻 *عن علقمۃ والاسود ابن یزید قالا کان ابن مسعود جالساوعندہ حذیفۃ وابوموسیٰ الاشعری فسالھماسعید بن العاص عن التکبیر فی الصلوۃ یوم الفطر والاضحیٰ فجعل ھذایقول سل ھذا وھذا یقول سل ھذا فقال لہ حذیفۃ سل ھذا لعبد اللہ بن مسعود فسالہ فقال ابن مسعود یکبر اربعا ثم یقرء ثم یکبر فیرکع ثم یقوم فی الثانیۃ فیقرء ثم یکبر اربعا بعد القراءۃ۔*
(مصنف عبد الرزاق ج3ص293)

🌷 علقمہ اور اسود رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے سعید بن العاص نے تکبیرات عید کے متعلق پوچھا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابو موسیٰ اشعر ی رضی اللہ عنہ سے پوچھئے ،ابو موسیٰ اشعری نے کہا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھئے کیوں کہ وہ ہم میں سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ صحبت یافتہ اور زیادہ علم والے ہیں چنانچہ اس نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ سو آپ نے فرمایا کہ چار تکبیریں (تکبیر تحریمہ اور تین زائد تکبیریں) کہے پھر قراۃکرے اور تکبیر کہہ کر رکوع کرے پھر دوسری رکعت میں کھڑا ہو کر قراۃ کرے قراۃ کے بعد چار تکبیریں کہے (یعنی تین زائد تکبیریں اور ایک تکبیر رکوع )

🌀 *حدیث نمبر 4:*

🔻 *عن کردوس قال ارسل الولید الی عبد اللہ بن مسعود و حذیفۃ وابی مسعود وابی موسیٰ الاشعری بعد العتمۃ فقال ان ھذا عید المسلمین فکیف الصلوۃ ؟ فقالوا سل ابا عبد الرحمٰن فسالہ فقال یقوم فیکبر اربعا ثم یقرء بفاتحۃ الکتاب وسو رۃ من المفصل ثم یکبر ویرکع فتلک خمس ثم یقوم فیقرء بفاتحۃ الکتاب وسورۃ من المفصل ثم یکبر اربعا یرکع فی آخر ھن فتلک تسع فی العیدین فما انکرہ واحد منھم۔*
(معجم کبیر للطبرانی ج9ص3)

🌺 کردوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود، حذیفہ،حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین کے پاس عشاء کے بعد ایک آدمی کو بھیج کر مسئلہ پوچھا کہ مسلمانوں کی نماز عید کا طریقہ کیا ہے؟ سب نے ابو عبد الرحمٰن یعنی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ کیا چنانچہ سائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ امام بحالت قیام چار تکبیریں کہے پھر سورۃ فاتحہ اور مفصلات میں سے کوئی سورۃ پڑھے پھر دوسری رکعت میں چار تکبیریں کہے اور ان میں سے آخری تکبیر میں رکوع کرے پس عیدین کی دونوں رکعتوں میں بحالت قیام یہ نو رکعتیں ہیں اس پر موجود صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی اعتراض کیا نہ انکار۔

🍭 *حدیث نمبر 5:*
عن علقمة والاسود بن یزیدان ابن مسعود کان یکبر فی العیدین تسعا تسعا اربعا قبل القراءة ثم کبر فرکع وفی الثانیة یقرء فاذا فرغ کبر اربعا ثم رکع۔
(مصنف عبد الرزاق ج3ص293)

🌻 علقمہ اور اسود رحمھما اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عیدین میں نو تکبیریں کہتے تھے چار قراءة سے پہلے( تکبیر تحریمہ سمیت) پھر تکبیر کہتے اور رکوع کرتے اور دوسری رکعت میں قراءۃ کرتے پھر قراءۃ سے فارغ ہوکر چار تکبیریں کہتے (تکبیر رکوع سمیت ) پھر رکوع کرتے۔

🌟 *حدیث نمبر 6:*

🔹 *عن کردوس قال کان عبد اللہ بن مسعود یکبر فی الضحی والفطر تسعا تسعا یبدء فیکبر اربعا ثم یقرء ثم یکبر واحدة فیرکع بھا ثم یقوم فی الراکعة الاخرة فیبدا فیقرء ثم یکبر اربعا یرکع باحدھن۔*
(المعجم الکبیر ج9ص3)

🏵 کردوس سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عید الاضحی اور عید الفطر میں نو نو تکبیریں کہتے تھے پھر ایک مرتبہ کہہ کر رکوع کرتے پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر پہلے قراءۃ کرتے پھر چار تکبیریں کہتے اور ان میں سے ایک کے ساتھ رکوع کرتے۔

📌 *حدیث نمبر 7:*

🔻 *عن عبد اللہ بن الحارث قال شھدت ابن عباس کبر فی صلاۃ العید بالبصرة تسع تکبیرات والی بین القرائتین قال وشھدت المغیرة بن شعبة فعل ذلک ایضا فسالت خالدا کیف فعل ابن عباس ؟ ففسرلنا کماصنع ابن مسعود۔*
(مصنف عبد الرزاق ج3ص294اسنادہ صحیح )

💠 عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بصرہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس (عید کے موقع پر ) حاضر ہوا آپ نے نماز عید میں نو تکبیریں کہیں اور پہلی اور دوسری رکعت کی دونوں قراءتوں کے درمیان تکبیریں نہ کہیں اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اسماعیل بن الولید فرماتے ہیں کہ میں نے خالد سے پوچھا ابن عباس نے کیسے کیا؟ توانہوں نے ویسے تفصیل بتائی جیسے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔

*حدیث نمبر 8:*

🔻 *عن مسروق قال کان عبداللہ یعلمنا التکبیر فی العیدین تسع تکبیرات خمس فی الاولی واربع فی الاخرة وایوالی بین القرائتین* (مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص)

🌸 مسروق رحمہ اللہ تابعی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں عیدین میں نو تکبیریں سکھاتے ان میں سے پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں دونوں قراءتوں کے درمیان ترتیب قائم رکھتے (یعنی ان کے درمیان تکبیریں نہ کہتے)

🌟 *حدیث نمبر 9:*

🔹 *عن الشعبی عن عبد اللہ انہ کان یکبر فی الفطر والاضحی تسعا تسعا خمسا فی الاولی واربعا فی الاخرۃ ویوالی بین القرائتین*
(مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص78)

🌼 حضرت شعبی رحمہ اللہ تابعی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عید الفطر اور عید الاضحی میں نو نو تکبیریں کہتے۔پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں دونوں قراءتوں کے درمیان ترتیب قائم رکھتے۔

🌀 *حدیث نمبر 10*

🔻 *عن قتادة عن جابر بن عبد اللہ وسعید بن المسیب قالا تسع تکبیرات ویوالی بین القرائتین*
(مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص79)

🌷 قتادہ رحمہ اللہ تابعی فرماتے ہیں کہ (بدری صحابی) جابر بن عبداللہ اور ( جلیل القدرتابعی) سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہر سو حضرات نے فرمایا نماز عید میں نو تکبیریں ہیں اور دونوں قرائتیں لگاتار ہیں (یعنی ان کے درمیان تکبیریں نہیں ہیں )


Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات