کیا تقلید شخصی عبادت ہے

کیا تقلید شخصی بدعت  ہے  ؟ 
آپ کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ تقلید شخصی بدعت ہے    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین 
کے زمانے میں تقلید یا تقلید شخصی نہیں تھی ؟ 
آپ جانتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تھا اور یمن ہی  کے دوسرے علاقے میں حضرت موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کو ۔ 
یہ دونوں حضرات اپنے اپنے علاقے کے  معلم تھے اور وہاں کے لوگ ان سے مسائل شرعیہ معلوم کرکے ان پر عمل کرتے تھے ۔ 
یہ تقلید شخصی ؛ نہیں تھی تو اور کیا تھی ۔۔۔۔۔؟ 
اسی طرح حضرت فاروق  اعظم 
رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو مختلف  بلادوامصار  میں معلم بنا کر بھیجا ؛ اور ہر علاقے کے لوگ ان صحابہ سے مسائل پوچھ کر عمل کرتے تھے ؛ چناچہ کوفہ کے لوگ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے فتووں پر عمل کرتے تھے۔   یہی   تقلید شخصی ؛؛ تھی  (صحیح بخاری جلد: ٢ ؛ صفحہ ٩٩٨؛ باب  میراث البنات )
                 واللہ اعلم
رقم الحروف 
مزمل قادر دیوبندی 
مرید شیخ طریقت متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ

مولانا خلیل احمد سہارنپوری پر الزام کہ حضورﷺ سے زیادہ علم شیطان کو ہے

*Part 8* ﺭﻓﻊ ﯾﺪﯾﻦ ﮐﺮﻧﮯ پر غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات