کتے اور گدھے کا گوشت اور احناف کا مسلک
#_کتے_اور_گدھے_کے_گوشت_کی_فروخت کے متعلق احناف کا راجع و مفتی بہا قول جس کو لامذہب غیرمقلدین آپ سے چھپاتے ہیں تاکہ امت کو کسی نہ کسی طرح گمراہ کیا جائے۔
غیر مفتی بہا اور مرجوع اقوال کی بنیاد پر احناف پر اعتراض کرنا جاہلیت ھے۔۔۔جس طرح صحیح حدیث کے بجائے ضعیف حدیث پر فتوا نہیں دیا جاتا اور منگھڑت حدیث پر فتوا نہیں دیا جاتا ۔اسی طرح فقہ کے مرجوع و متروک اقوال پر فتوا نہیں دیا جاتا۔۔۔بلکہ جو قول راجع ہوگا اسی پر فتوا دیا جاتا ھے۔۔۔
🌼 احناف کا مفتی بہ مذہب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد کتے اور گدھے کے گوشت سے نجاست زائل نہیں ہوتی تو ان کا فروخت کرنا بھی جائز نہیں۔
⚡ چنانچہ صاحب بحر الرائق لکھتے ہیں:
*وصح فی الاسرار والکفایة والتبیین نجاسة*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
*ترجمہ:* صاحب اسرار صاحب کفایہ اور صاحب تبین نے مذکورہ گوشت کی نجاست کو صحیح قرار دیا ہے۔
🔹 بحرالرائق ہی میں ہے:
*وفی المعراج انه قول محققین من اصحابنا*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
🔰 *ترجمہ:* کتاب معراج میں ہے کہ مذکورہ گوشت کی نجاست محققین احناف کا قول ہے۔
🔻 صاحب بحر الرائق مزید لکھتے ہیں:
*وفی الخلاصة وهو القول المختار واختارہ قاضی خان فی التبیین انه قول اکثر المشائخ۔*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
🌻 *ترجمہ:* خلاصہ میں ہے کہ (مذکورہ گوشت کی نجاست) قول مختار ہے اور اسی کو قاضی خان نے اختیار کیا ہے تبیین میں ہے کہ یہ اکثر مشائخ کا قول ہے۔
🌟 *صاحب بحر نے خود بھی نجاست والے قول کے متعلق فرمایا کہ وهو الصحیح*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
❄ *ترجمہ:* ”یہ صحیح قول ہے۔“
🌸 صاحب در مختار لکھتے ہیں:
*لا یطھر لحمه هذا صح ما یفتی به*
*ترجمہ:* اس کا گوشت پاک نہیں ہوتا یہ اصح قول ہے جس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔
⚜ مولانا عبدالحئی حنفی لکھتے ہیں:
*قال کثیر من المشائخ انه یطهر جلدہ لا لحمه وهو الاصح*
( حاشیہ ہدایہ ج1 ص24 )
🎯 *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے کہ (ذبح کرنے کے بعد) اس کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا اور یہی سب سے صحیح قول ہے۔
💐 علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:
*قال کثیر من المشائخ انه یطهر جلدہ لا لحمه وهو الاصح واختارہ الشارحون*
( فتح القدیر ج1 ص84 )
💥 *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے (ذبح کرنے کے بعد) اس کا چمڑا پاک ہوتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا اور یہی سب سے صحیح قول ہے اسی کو شارحین نے اختیار کیا ہے۔
🌹 علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں:
*وتطهر الذکدة الشرعیة جلد غیر الماکول دون لحمه علی اصح ما یفتی به*
🌷 *ترجمہ:* شرعی ذبح غیر ماکول اللحم کے چمڑے کو پاک کرتا ہے گوشت کو پاک نہیں کرتا اصح قول کے مطابق جس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔
🌺 *صاحب خلاصہ لکھتے ہیں:*
*وهو المختار وبه اخذ الفقیه ذکرہ صدر الشہید فی صید الفتاوٰی*
( خلاصۃ الفتاوٰی ص43 )
🌼 *ترجمہ:* یہی قول مختار ہے فقہاء نے اس کو لیا ہے۔
📌 صاحب مراقی الفلاح لکھتے ہیں:
*دون لحمه فلا یطهر علی اصح ما یفتی به۔*
( مراقی الفلاح )
*ترجمہ:* اصح مفتی بہ مذہب میں ذبح کرنے سے حرام گوشت پاک نہیں ہوتا۔
🔰 صاحب کبیری لکھتے ہیں:
*الصحیح ان اللحم لا یطهر بالذکاة۔*
( کبیری ص144 )
🌻 *ترجمہ:* صحیح یہ ہے کہ حرام جانوروں کا گوشت ذبح کرنے سے پاک نہیں ہوتا۔
ملا علی القاری حنفی قائلین بالطهارة کے اسماء ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
*وقال کثیر من المشائخ یطهرہ جلدہ بھا ولا یطهر لحمه کما لا یطھر بالدباغ قال شارح الکنز وهو الصحیح واختیارہ صاحب الغایة والنهایة*
( شرح النقایۃ ج1 ص20 )
❄ *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے کہ ذبح کرنے سے چمڑا پاک ہوتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا جیسا کہ دباغت سے پاک نہیں ہوتا شارح کنز نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے اسے صاحب غایہ اور صاحب نہایہ نے اختیار کیا ہے۔
💠 *ان حوالہ جات سے ثابت ہوا ہے کہ مذہب حنفی میں اصح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ ذبح کرنے سے حرام جانوروں کا گوشت پاک نہیں ہوتا تو اس کا فروخت کرنا بھی جائز نہیں
لیکن یاد رہے کہ غیر مقلدین کے علماء کہتے ہیں کہ شرعی ذبح کے بعد گوشت پاک ہو جاتا ہے۔*
🌟 چنانچہ غیر مقلد مولانا وحید الزمان لکھتے ہیں:
*ما یطهر بالدباغة یطهر بالذکاة الا لحم الخنزیر فانه رجس۔*
( نزل الابرار ج1 ص30 )
🌸 *ترجمہ* جو دباغت سے پاک ہو جاتا ہے ذبح سے بھی پاک ہو جاتا ہے خنزیر کے گوشت کے ماسوی کہ وہ رجس ہے۔
⚡ غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان نے کتے کے گوشت، ہڈی، خون، بال اور پسینے کو نجس نہیں کہا۔
( بدور الاہلہ ص16 )
⚜ صدیق حسن خان کے بیٹے غیر مقلد نور الحسن لکھتے ہیں کہ کتے اور خنزیر کے نجس ہونے کا دعویٰ شراب اور دم مسفوح کے پلید ہونے کا دعویٰ اور مرے ہوئے جانور کے ناپاک ہونے کا دعویٰ صحیح نہیں ہے۔
( عرف الجادی )
غیر مفتی بہا اور مرجوع اقوال کی بنیاد پر احناف پر اعتراض کرنا جاہلیت ھے۔۔۔جس طرح صحیح حدیث کے بجائے ضعیف حدیث پر فتوا نہیں دیا جاتا اور منگھڑت حدیث پر فتوا نہیں دیا جاتا ۔اسی طرح فقہ کے مرجوع و متروک اقوال پر فتوا نہیں دیا جاتا۔۔۔بلکہ جو قول راجع ہوگا اسی پر فتوا دیا جاتا ھے۔۔۔
🌼 احناف کا مفتی بہ مذہب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد کتے اور گدھے کے گوشت سے نجاست زائل نہیں ہوتی تو ان کا فروخت کرنا بھی جائز نہیں۔
⚡ چنانچہ صاحب بحر الرائق لکھتے ہیں:
*وصح فی الاسرار والکفایة والتبیین نجاسة*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
*ترجمہ:* صاحب اسرار صاحب کفایہ اور صاحب تبین نے مذکورہ گوشت کی نجاست کو صحیح قرار دیا ہے۔
🔹 بحرالرائق ہی میں ہے:
*وفی المعراج انه قول محققین من اصحابنا*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
🔰 *ترجمہ:* کتاب معراج میں ہے کہ مذکورہ گوشت کی نجاست محققین احناف کا قول ہے۔
🔻 صاحب بحر الرائق مزید لکھتے ہیں:
*وفی الخلاصة وهو القول المختار واختارہ قاضی خان فی التبیین انه قول اکثر المشائخ۔*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
🌻 *ترجمہ:* خلاصہ میں ہے کہ (مذکورہ گوشت کی نجاست) قول مختار ہے اور اسی کو قاضی خان نے اختیار کیا ہے تبیین میں ہے کہ یہ اکثر مشائخ کا قول ہے۔
🌟 *صاحب بحر نے خود بھی نجاست والے قول کے متعلق فرمایا کہ وهو الصحیح*
( البحر الرائق ج1 ص106 )
❄ *ترجمہ:* ”یہ صحیح قول ہے۔“
🌸 صاحب در مختار لکھتے ہیں:
*لا یطھر لحمه هذا صح ما یفتی به*
*ترجمہ:* اس کا گوشت پاک نہیں ہوتا یہ اصح قول ہے جس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔
⚜ مولانا عبدالحئی حنفی لکھتے ہیں:
*قال کثیر من المشائخ انه یطهر جلدہ لا لحمه وهو الاصح*
( حاشیہ ہدایہ ج1 ص24 )
🎯 *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے کہ (ذبح کرنے کے بعد) اس کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا اور یہی سب سے صحیح قول ہے۔
💐 علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:
*قال کثیر من المشائخ انه یطهر جلدہ لا لحمه وهو الاصح واختارہ الشارحون*
( فتح القدیر ج1 ص84 )
💥 *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے (ذبح کرنے کے بعد) اس کا چمڑا پاک ہوتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا اور یہی سب سے صحیح قول ہے اسی کو شارحین نے اختیار کیا ہے۔
🌹 علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں:
*وتطهر الذکدة الشرعیة جلد غیر الماکول دون لحمه علی اصح ما یفتی به*
🌷 *ترجمہ:* شرعی ذبح غیر ماکول اللحم کے چمڑے کو پاک کرتا ہے گوشت کو پاک نہیں کرتا اصح قول کے مطابق جس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔
🌺 *صاحب خلاصہ لکھتے ہیں:*
*وهو المختار وبه اخذ الفقیه ذکرہ صدر الشہید فی صید الفتاوٰی*
( خلاصۃ الفتاوٰی ص43 )
🌼 *ترجمہ:* یہی قول مختار ہے فقہاء نے اس کو لیا ہے۔
📌 صاحب مراقی الفلاح لکھتے ہیں:
*دون لحمه فلا یطهر علی اصح ما یفتی به۔*
( مراقی الفلاح )
*ترجمہ:* اصح مفتی بہ مذہب میں ذبح کرنے سے حرام گوشت پاک نہیں ہوتا۔
🔰 صاحب کبیری لکھتے ہیں:
*الصحیح ان اللحم لا یطهر بالذکاة۔*
( کبیری ص144 )
🌻 *ترجمہ:* صحیح یہ ہے کہ حرام جانوروں کا گوشت ذبح کرنے سے پاک نہیں ہوتا۔
ملا علی القاری حنفی قائلین بالطهارة کے اسماء ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
*وقال کثیر من المشائخ یطهرہ جلدہ بھا ولا یطهر لحمه کما لا یطھر بالدباغ قال شارح الکنز وهو الصحیح واختیارہ صاحب الغایة والنهایة*
( شرح النقایۃ ج1 ص20 )
❄ *ترجمہ:* بہت سے مشائخ نے کہا ہے کہ ذبح کرنے سے چمڑا پاک ہوتا ہے گوشت پاک نہیں ہوتا جیسا کہ دباغت سے پاک نہیں ہوتا شارح کنز نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے اسے صاحب غایہ اور صاحب نہایہ نے اختیار کیا ہے۔
💠 *ان حوالہ جات سے ثابت ہوا ہے کہ مذہب حنفی میں اصح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ ذبح کرنے سے حرام جانوروں کا گوشت پاک نہیں ہوتا تو اس کا فروخت کرنا بھی جائز نہیں
لیکن یاد رہے کہ غیر مقلدین کے علماء کہتے ہیں کہ شرعی ذبح کے بعد گوشت پاک ہو جاتا ہے۔*
🌟 چنانچہ غیر مقلد مولانا وحید الزمان لکھتے ہیں:
*ما یطهر بالدباغة یطهر بالذکاة الا لحم الخنزیر فانه رجس۔*
( نزل الابرار ج1 ص30 )
🌸 *ترجمہ* جو دباغت سے پاک ہو جاتا ہے ذبح سے بھی پاک ہو جاتا ہے خنزیر کے گوشت کے ماسوی کہ وہ رجس ہے۔
⚡ غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان نے کتے کے گوشت، ہڈی، خون، بال اور پسینے کو نجس نہیں کہا۔
( بدور الاہلہ ص16 )
⚜ صدیق حسن خان کے بیٹے غیر مقلد نور الحسن لکھتے ہیں کہ کتے اور خنزیر کے نجس ہونے کا دعویٰ شراب اور دم مسفوح کے پلید ہونے کا دعویٰ اور مرے ہوئے جانور کے ناپاک ہونے کا دعویٰ صحیح نہیں ہے۔
( عرف الجادی )
Comments
Post a Comment