ان سنگین حالات میں اپنی قوم کے نوجوانوں کے نام ایک دلدوز پیغام
ان سنگین حالات میں اپنی قوم کے نوجوانوں کے نام ایک دلدوز پیغام
*خیر اندیش : شیخ محمد علقمہ مالیگاؤں*
کتاب سادہ رہیگی کب تک کبهی تو آغاز باب ہوگا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبهی تو انکا حساب ہوگا
سکوت صحرا میں بسنے والو ذرا رتوں کا مزاج سمجهو
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہوگا
سحر کی خوشیاں منانے والو سحر کے تیور بتارہے ہیں
ابهی تو اتنی گهٹن بڑهیگی کہ سانس لینا عذاب ہوگا
وہ دن گئے کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے خوش تهے
اب آئیگی اینٹ ہم پہ تو پتھر اس کا جواب ہوگا
سنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی النور مسجد میں کچھ ہوا ہے لوگ کہتے ہیں بلکہ مسلمان کہتے ہیں کہ کوئی امن و سکون کی جگہ میں بے قصوروں کو نشانہ بناگیا ہے کہتے ہیں مسلم جیالوں کی مسجد میں کوئی بربریت و سفاکیت کا پرچار کرگیا ہے کہتے ہیں امن کے گہوارے میں مافیا کا بول بالا کرگیا ہے کہتے ہیں فولادی عزائم رکهنے والے عمر بن خطاب کے دلدادہ مسلمانوں پر گولیوں کی بوچهار کر گیا ہے کہتے ہیں شہ سواروں کے سردار جرنیلوں کے جرنیل خالد بن ولید کے وارثوں کو خون میں نہلا گیا ہے کہتے ہیں کم سے کم نفری و تعداد کے باوجود دشمن کے پیروں کو اکھاڑنے اور متزلزل کرنے والے طارق بن زیاد کے علمبرداروں کو مارنے والا مار گیا ہے کہتے ہیں فاتح بیت المقدس صلاح الدین ایوبی کے برادروں کو تڑپتا بے یار و مددگار چهوڑ گیا ہے کہتے ہیں شاہین کا جگر رکهنے والے موسی بن نصیر کے یاروں کو کوئی بهون کر چلا گیا ہے کہتے ہیں دشمنوں کو مسلسل شکتوں کا جام پلانے والے قتیبہ بن مسلم کے ہم مذہب بهائیوں کو کوئی ڈهیر کر گیا ہے کہتے ہیں یورپ کا چین و سکون چهیننے والے یورپیوں کے پرخچے اڑانے والے سلطان بایزید یلدرم کے شاہینوں کو خاک و خون کرگیا ہے کہتے ہیں وہ افغانستان کے سرحدی عقاب جنہوں نے بے سروسامانی میں روس و امریکہ کے دانت کهٹے کردیئے انکے ہمنواؤں کو کوئی خون میں لت پت کرگیا ہے
کیا لوگ سچ کہتے ہیں؟ نہیں ...... نہیں نہیں مجهے یقین نہیں آتا اور کیسے آسکتا ہے
کہ کوئی بهیڑیا شیروں کے کچهار پر حملہ کرکے چلا گیا ہے نہیں میرا دل کہتا ہے یہ نہیں ہوسکتا .... جس قوم کے رگ و پئے میں شہ سواروں کا خون ہے اسے کوئی دن دہاڑے کیسے مار کر جاسکتا ہے؟ نہیں میرا دماغ انکار کرتا ہے ارے جس قوم کے سرحدی عقابوں نے ابهی ابهی سوپر پاور کے پر خچے اڑا دئیے اس قوم کے نوجوانوں کو کوئی کیسے دن کے اجالے میں خون آلود کرسکتا ہے وہ زمین جس پر ہم نے صدیوں سطوت و اقبال کے پرچم لہرائے تهے وہ کہتی ہے ایسا نہیں ہوسکتا وہ آسمان جس نے محمد بن قاسم کی غیرت کے سامنے راجہ داہر کو سرنگوں ہوتے دیکها تها وہ کہتا ہے ایسا نہیں ہوسکتا ارے وہ چمکتا دمکتا آفتاب جس نے محمود غزنوی اور غوری کا جاہ و جلال دیکها ہے وہ کہتا ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی فولادی بازو اور شاہین کا جگر رکهنے والوں کو سر عام بهونتا چلا جائے نہیں....نہیں مجهے یقین نہیں آتا
یارو خطا معاف کرو شاید میں نشہ میں ہوں
جس قوم کے شہ سواروں کے نام سے فوج شکست قبول کرلیتی تهی زہر کا گهونٹ پی لیتی تهی اس قوم کا رعب و دبدبہ کہاں گیا ہے جس قوم کی ایک آواز پر جنگلی وحشی جانوروں نے جنگل خالی کردیا تها اس قوم کا جاہ و جلال کہاں چلا گیا ہے جس قوم کے بہادر جیالے سمندر پر پرسکون ہوکر گهوڑے دوڑا دیا کرتے تهے اس قوم کی غیرت و جرات کہاں چلی گئی ہے کہ آج دشمن اس پر بلا خوف و خطر دندناتا پهر رہا ہے کہاں ہے میرے شیروں کی گرج اور دریا میں کود پڑنے اور موجوں سے کهیلنے والے نوجوان کہاں ہیں
*اے میری قوم کے نوجوان!* آ میں تجهے بتاتا ہوں تیرا رعب و دبدبہ کہاں گیا ہے تو موسیقی اور فحش گانوں کا دلدادہ ہوگیا ہے تو ڈراموں فلموں کا عادی ہوگیا ہے تو بدچلن اداکاراؤں پر مرنے لگاہے تو غیروں کے عشرت خانوں میں سکون تلاش کرتے پهر رہا ہے اس لئے آج تو رسوائی کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے اس لئے تیری غیرت کا جنازہ نکل گیا ہے تیرا رعب و دبدبہ گمنام ہوگیا ہے
*اے میری قوم کے نوجوان!* تو ماضی سے بے نیاز حال سے غافل مستقبل سے بے پرواہ ہوچکا ہے میں تلخ حقائق پر تصورات کے حسین پردے نہیں ڈالونگا آج تو افسانے اور میٹھے راگ سننے میں لگا ہے جبکہ تیری قوم خاک و خون میں لوٹ رہی ہے تو اپنی محفلوں میں کلیوں کی مسکراہٹوں اور قمریوں کے ترانوں کا طلبگار ہے جبکہ تیرے سامنے خون کی ندیاں راکھ کے انبار اور لاشوں کے ڈهیر ہے تو دنیا کی رعنائیوں اور دلفریبیوں میں الجها ہوا ہے جبکہ تیری بہنوں کی عصمتیں لٹ رہی ہے میں تجهے برمی مسلم گهرانوں کی آگ کی چنگاریاں دکهانا چاہتا ہوں جس نے شعلہ بن کر بستیوں کو راکھ کردیا میں انکی پهٹی ہوئی قبائوں کے ٹکڑے دکهانا چاہتا ہوں جو تیری بیٹیوں کی عصمت کے خون سے داغدار ہیں میں آج تجهے دلکش نغمے نہیں بلکہ وہ جگر دوز چیخیں سنانا چاہتا ہوں جو فلسطین شام برما اور اب نیوزی لینڈ سے بلند ہورہی ہے آج تیری قوم کو خون میں نہلایا جارہا ہے اور انکے ساتھ آگ سے کهیلا جارہا ہے قوم پر مصائب کے پہاڑ توٹ رہے ہیں قوم کے بیٹے خاک و خون میں لوٹ رہے ہیں قوم کی بیٹیوں کی عصمت خطرے میں ہے ایسے دور میں اپنی انفرادی خواہشات کو قوم کی اجتماعی ضروریات پر قربان کرنے کی ضرورت ہے باغ کے پهولوں کی بجائے معصوم بچوں کی جگر دوز چیخوں کو ہائی لائٹ کرنے کی ضرورت ہے قوم کو لوریاں نہیں بلکہ انقلابی ترانے سنانے کی ضرورت ہے مغنی کے نغموں اور پرندوں کی چہچہاہٹ کی بجائے تیغ کی جهنکار سنانے کی ضرورت ہے موجودہ حالات کا صحیح جائزہ لینے کی ضرورت ہے قوم کے افراد میں اجتماعی شعور اور اجتماعی سیرت بیدار کرنے کی ضرورت ہے دشمن کانٹے سے لیس ہوکر ہمیں للکار رہا ہے اور ہمارا آج کا شاعر قوم سے کہہ رہا ہے ٹهہرو! میں تمہیں ایک اور گیت سناتا ہوں میں نے ایک نئی نظم منظم کی ہے دوستو یہ ادب برائے ادب ہے آج ہم ایک توٹی پهوٹی کشتی پر سوار ہوکر منزل کا رخ کررہے ہیں ہمیں ہر قدم پر ایک نیا بهنور دکهائی دے رہا ہے اور کشتی کے ایک کونے میں ہمارا آرٹسٹ اپنے رباب کے تار درست کررہا ہے تو دوسری اور ہمارا سدا بہار جوان لڑکیوں کی زلفوں میں کهویا ہوا ہے بدقسمتی سے ہمارا نوجوان ابهی تک لکڑی کے گهوڑے پر سواری کررہا ہے
*اے میری قوم کے نوجوان!* آج حوصلہ شکن مصائب کا سامنا ہے ہمارے سطوت و اقبال کو گہن لگ گیا ہے ہماری عزت و عظمت پاش پاش ہورہی ہے دشمن ہمارے چمن کی جڑیں کہیں کاٹنے تو کہیں کهوکلی کرنے میں لگا ہے مسلم قوم کو روندنے کے لیے ہر سو بهیڑیوں اور درندوں کی فوج تیار کی جارہی ہے آگ کے شعلے روز بروز تیز تر ہوتے جارہے ہیں اہنسا اور شانتی کے علمبردار زہر آلود خنجر پهولوں کی ٹوکریوں میں چهپائے بیٹهے ہیں مسلمانوں کا شیرازہ منتشر رکهنے کے لیے ملت فروشوں کے گروہ کئی ناموں اور کئی چولوں کے ساتھ دندنا رہے ہیں اور بهانت بهانت کی بولیاں بول رہے ہیں گهر کے بهیدی لنکا ڈهارہے ہیں انسانیت کا دامن نوچنے والے ہاتھ تجهے نیست و نابود کرنے کے لیے سازشی جال بچھانے میں لگے ہوئے ہیں آگ اور خون کا ڈرامہ کا سین روز دکهایا جارہا ہے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے لیے تمام کفر ایک ہوگیا ہے ظلمت کے طوفان اپنی پوری تندی و تیزی کے ساتھ مسلم آبادیوں کو یکے بعد دیگرے اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں
*اے میری قوم کے نوجوان* افسوس کے طوفان کی تباہ کاریاں ہمارے سامنے ہے مگر ہماری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ہمارے خزاں رسیدہ چمن پکار رہے ہیں کہ تیرے چمن کو آگ لگی ہے ہماری اجڑی ہوئی محفل سے صدا آرہی ہے کہ چراغ بجهایا جارہا ہے تیرے اعضاء و جوارح چیخ چیخ کر تجهے بتارہے ہیں کہ تو دشمن کے منہ کا شکار بن چکا ہے
*اے میری قوم کے نوجوان!* تو کب تک خاموش تماشائی بنا رہیگا تو حالات سے نہ گهبرا باغ آدم میں کئی آندھیاں آئی ہیں وحشت و بربریت کے ہاتهوں نے کئی بار انسانیت کا منہ نوچا ہے دنیا میں ظالم اور مظلوم کی داستان بہت پرانی ہے انسانیت کے خرمن پر کئی بجلیاں گری ہیں ان حالات میں ہمیں اپنے پیش رو بزرگوں کے کارناموں سے سبق لینا ہوگا ہم اس طوفان کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو آہستہ آہستہ ہماری قوم کی دلفریب مسکراہٹوں کو آنسوؤں میں تبدیل کرتے جارہا ہے اس آگ سے ہم اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتے جو ہمارے خرمن کو راکھ کا انبار بناتے جارہی ہے
*اے میری قوم کے نوجوان!* ہماری سب سے بڑے کمزوری ہے کہ ہم اپنے ماضی کو بطور عبرت نہیں دیکهتے حال میں گم ہوکر رہتے ہیں اور مستقبل کی فکر نہیں کرتے ہمیں مورچہ بنانے کی فکر اس وقت ہوتی ہے جب دشمن گولہ باری شروع کرچکا ہوتا ہے ہمیں بند لگانے کا خیال اس وقت آتا ہے جب سیلاب آچکا ہوتا ہے بارش سے پہلے مکان پر چهت ڈالنے کی بجائے ہم بارش میں کهڑے ہوکر چهت ڈالنا چاہتے ہیں
*اے میری قوم کے نوجوان!* طوفان کے آنے سے پہلے ہمیں طوفان کو روکنے کی تیاری کرنی ہوگی فیس بک وغیرہ پر اپنی مظلومیت اور بے بسی کا ڈهنڈورا پیٹنے کی بجائے عملی میدان میں قدم رکهنا ہوگا ایسے موقع پر قوم کو ایک راستے پر لانا ہوگا ہمیں اپنی قوم کی عزت عصمت عفت آبرو جان اور مال کی حفاظت کا سامان کرنا ہوگا ان حالات میں ہمیں اپنی انفرادیت کو قوم کی اجتماعی ضروریات کا احساس کرتے ہوئے قربان کرنا ہوگا قوم میں نئی روح پهونکنی ہوگی نئے عزائم نئے ولولے نئے امنگ پیدا کرنا ہوگا ہمیں اپنی قوم کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ بعض گهتیاں قلم و زبان کی بجائے طاقت و قوت کے بل بوتے پر سلجهائی جاتی ہے ہمیں اجتماعی آلام و مصائب کا سامنا کرنے کے لئے اجتماعی جدوجہد اجتماعی شعور اجتماعی فکر اجتماعی کردار پیدا کرنا ہوگا ہمیں اپنی قوم کو یہ بتلانا ہوگا کہ ہمارے درد کا علاج بین الاقوامی کانفرسوں میں نہیں بلکہ آه سحر گاہی میں ہے سنت رسول ﷺ میں ہے صحابہ کے کارناموں میں ہے
اور قوم کو بیدار کرنے کے لیے ہمیں ہر ملک ہر شہر ہر قریہ بلکہ ہر محلہ میں ایسے جوانوں کی ضرورت ہے جو اسلامی سیرت و کردار کی منہ بولتی تصویر ہو جو اسلامی تہذیب و تمدن کی آہنی زنجیر ہو جنکی ایک آواز جو ڈگمگاتے اونگھتے لڑکهڑاتے ہوئے مسلمانوں کے لیے صور اسرافیل کا کام دے جو راہنما بنکر قوم کو منزل کا راستہ دکهلائے جو قوم کے سفینوں کے پهٹے ہوئے بادبانوں کی مرمت کرے اور کبهی دشمن کے چہرے سے مکر و فریب کے نقاب نوچے جنکی گرجتی ہوئی آواز سننے والوں کی رگوں میں بجلی کی لہر بن کر دوڑے وہ کانٹوں کو روندتے ہوئے اور مخالفت کی چٹانوں کو پاؤں کی ٹھوکر سے ہٹاتے ہوئے آگے بڑهتے چلے جائیں
چلو چلے آؤ میری قوم کے نوجوانوں ہم اپنی قوم کے محافظ بن کر چلتے ہیں چلے آؤ ہم متحد ہوکر چلتے ہیں آؤ ہم کندھے سے کندھا ملاکر چلتے ہیں تاکہ کہیں ہمارے قدم لڑکهڑانے لگے تو ہم اپنے مضبوط بازوؤں سے ایک دوسرے کو سہارا دے سکیں
اگر عزم مصمم ہو تو ہادی
پہونچ جاؤگے کہکشاں تک
16 مارچ 2019
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

Comments
Post a Comment